سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
خاوندوں کی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کا مطالبہ کرنے والی بیویاں باعث ہلاکت امت ہیں، عورتوں کا میک اپ میں تکلف کرنا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 591 ترقیم فقہی: -- 1525
-" إن أول ما هلك بنو إسرائيل أن امرأة الفقير كانت تكلفه من الثياب أو الصيغ أو قال: من الصيغة ما تكلف امرأة الغني، فذكر امرأة من بني إسرائيل كانت قصيرة واتخذت رجلين من خشب وخاتما له غلق وطبق وحشته مسكا وخرجت بين امرأتين طويلتين أو جسيمتين، فبعثوا إنسانا يتبعهم، فعرف الطويلتين ولم يعرف صاحبة الرجلين من خشب".
سیدنا ابوسعید اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ لمبا خطبہ دیا، دنیوی اور اخروی امور کا تذکرہ کیا اور فرمایا: ”سب سے پہلے بنو اسرائیل یوں ہلاک ہوئے کہ ایک غریب آدمی کی بیوی کپڑوں یا زیورات کے بارے میں اپنے خاوند کو مالدار آدمی کی بیوی کی طرح تکلیف دیتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسرائیل کی کوتاہ قد عورت کا تذکرہ کیا، اس نے لکڑی کے جوتے (کھڑاؤں) تیار کروائے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں ایک خلا تھا اور اس پر ایک ڈھکن تھا، اس نے اس خلا میں کستوری بھری اور دو دراز قد یا بھاری بھر کم عورتوں کے ہمراہ نکلی۔ انہوں نے ان کے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا، اس نے لمبے قد والی دو عورتوں کو تو پہچان لیا لیکن لکڑی کی جوتیوں والی عورت کو نہ پہچان سکا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1525]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 591
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ ملی؟
ترقیم الباني: 3534 ترقیم فقہی: -- 1526
- (إن فاطمة بضعةٌ منّي، وأنا أتخوف أن تفتن في دينها، وإني لست أحرم حلالاً، ولا أحلّ حراماً، ولكن والله لا تجتمع ابنة رسول الله وابنة عدوِّ الله مكاناً واحداً أبداً- وفي رواية: عند رجل واحد أبداً-)
علی بن حسین سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں: جب لوگ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے واپس مدینہ منورہ پہنچے، تو میں علی بن حسین کو ملا اور کہا: کیا آپ کو میری ضرورت ہے، (اگر ہے تو) حکم دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دے دیں گے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں لوگ تجھ سے چھین نہ لیں اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے مجھے دے دی تو کوئی فرد اس وقت تک اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا جب تک مجھے قتل نہ کر دے۔ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام نکاح بھیجا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ اس مسئلہ پر لوگوں سے خطاب کر رہے تھے اور میں اس وقت بالغ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ دین کے معاملے میں کسی فتنے میں نہ پڑ جائے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داماد، جو بنو عبد شمس قبیلے سے تھا، کا ذکر کیا اور اس کی دامادی کی خوب تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ”اس نے مجھ سے جو گفتگو کی اس کو سچا کر کے دکھایا اور جو عہد و پیمان کیا اسے پورا کیا۔ اور (یاد رہے کہ) میں نہ حلال کو حرام کرتا ہوں اور نہ حرام کو حلال، لیکن (اتنی بات ضرور ہے کہ) نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک مقام پر یا ایک خاوند کے گھر کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1526]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3534
کون سی شرطیں درست نہیں؟
ترقیم الباني: 608 ترقیم فقہی: -- 1527
-" إن هذا لا يصلح. يعني اشتراط المرأة لزوجها أن لا تتزوج بعده".
سیدہ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام مبشر بنت برا بن معرور کو نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے خاوند سے شرط لگائی تھی کہ اس کے بعد کسی سے شادی نہیں کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شرط صحیح نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1527]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 608
حاملہ کی عدت وضع حمل ہے
ترقیم الباني: 2722 ترقیم فقہی: -- 1528
-" إن وجدت رجلا صالحا فتزوجي".
مسروق اور عمرو بن عتبہ نے سیدنا سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی طرف خط لکھا اور اس سے اس کے معاملے کی وضاحت طلب کی۔ اس نے جواباً لکھا: میرے خاوند کی وفات کے پچیس دن بعد میرا بچہ پیدا ہو گیا تھا، میں نے دوسری شادی کے لیے تیاری کی۔ میرے پاس سے ابوسنابل بن بعکک گزرے اور کہا: تو جلدی کر رہی ہے، تو دونوں عدتوں میں سے طویل عدت یعنی چار ماہ اور دس دن عدت پوری کر۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے الله کے رسول! میرے لئے بخشش طلب کیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کس لئے؟“ جب میں نے ساری تفصیل بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی نیک آدمی مل جائے تو اس سے شادی کر لے۔“ (تیری عدّت پوری ہو چکی ہے۔) [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1528]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2722
عورتیں مردوں کی طرح ہی ہیں، احتلام کی وجہ غسل کب فرض ہوتا ہے؟
ترقیم الباني: 2863 ترقیم فقہی: -- 1529
-" إنما النساء شقائق الرجال".
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتیں مردوں کی مانند ہیں۔“ یہ حدیث سیدہ عائشہ اور انس رضی الله عنہما سے مروی ہے اور اس میں ایک قصہ بھی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1529]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2863
امہات المؤمنین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دینا
ترقیم الباني: 3593 ترقیم فقہی: -- 1530
- (إنّي ذاكرٌ لك أمراً، فلا عليك أن تستعجلِي؛ حتى تستأمِري أبويك، ثم قال: إن الله قال: (يا أيها النَّبيُّ قل لأزواجك...) إلى تمام الآيتين) .
زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور فرمایا: ”میں تیرے سامنے ایک بات رکھتا ہوں، تو نے جلدی نہیں کرنی، بلکہ اپنے والدین سے صلاح مشورہ کرنا۔“ (دراصل) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کا حکم نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کی تلاوت کی: «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ۔۔۔۔۔۔» (سورۃ «» الاحزاب:۲۸-۲۹) میں نے کہا: میں کس چیز میں اپنے والدین سے مشوره کروں؟ میں الله، اس کے رسول اور دار آخرت کو ہی چاہتی ہوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1530]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3593
ترقیم الباني: 3530 ترقیم فقہی: -- 1531
- الا تسألني امرأةً منهن إلا أخبرتها، إنّ الله لم يبعثني معنتاً ولا متعنتاً؛ ولكن بعثني معلماً ميسراً) .
سیدنا جابر بن عبدللہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی الله عنہ نے اندر آنے کے لیے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی . . . . الخ۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، آپ کی بیویاں اردگرد بیٹھے نان و نفقہ کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ یہ آیت نازل ہوئیں: «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں تیرے سامنے ایک چیز رکھنے کا ارادہ کرتا ہوں میں چاہوں گا کہ تو والدین سے مشوره کر اور جلدی نہ کر۔“ انہوں نے کہا: اے الله کے رسول! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ آیت تلاوت کی۔ انہوں نے کہا: اے الله کے رسول! کیا میں آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو الله تعالیٰ، اس کے رسول اور دار آخرت کو ہی پسند کروں گی اور آپ سے گزارش کروں گی کہ میں نے جو کچھ کہا، اپنی دوسری بیوی کو نہ بتلانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت بھی مجھ سے پوچھے گی، میں اسے بتاؤں گا، الله تعالیٰ نے مجھے تکلیف و مشقت میں ڈالنے والا اور پریشان کرنے والا بنا کر نہیں، بلکہ تعلیم دینے والا اور آسانیاں پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1531]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3530
خاوند کا اپنی بیوی کی سہیلیوں کا خیال رکھنا
ترقیم الباني: 216 ترقیم فقہی: -- 1532
-" بل أنت حسانة المزنية".
سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بوڑھیا عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ اس نے کہا: میں جثامہ مزنی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (جثامہ نہیں) حسانہ مزنی ہے، تم کیسی ہو تمہارا کیا حال ہے، ہمارے بعد تم کیسے رہے؟“ اس نے کہا: اے الله کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، خیر و عافیت کے ساتھ۔ جب وہ چلی گئی تو میں نے کہا: اے الله کے رسول! آپ اس بوڑھیا پر اس قدر توجہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ خدیجہ کے زمانے میں ہمارے پاس آتی تھی اور (اس قسم کے فرد کا) اچھا خیال رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1532]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 216
سوکن کا اپنی ہم منصب سے انتقام
ترقیم الباني: 1862 ترقیم فقہی: -- 1533
-" دونك فانتصري".
سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: مجھے تب پتہ چلا جب سیدہ زینب رضی الله عنہا بغیر اجازت اندر آ گئیں اور وہ غصے میں تھیں۔ وہ کہنے لگیں: اے الله کے رسول! کیا آپ کے لیے ابوبکر کی اس بیٹی کا اپنے بازوؤں کو پھیلانا ہی کافی ہے؟ پھر مجھ پر متوجہ ہوئیں (اور باتیں کرنے لگ گئیں)، میں اعراض کرتی رہی (اور کوئی جواب نہ دیا)، حتی کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی مقابل کو اس کا بدلہ دے۔“ پھر میں اس پر اس طرح برس پڑی کہ اس کی تھوک خشک ہو گئی اور وہ میرا کوئی جواب نہ دے سکی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کا چہرہ دمک رہا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1533]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1862
کنواری عورتوں کو ترجیح دینا
ترقیم الباني: 623 ترقیم فقہی: -- 1534
-" عليكم بالأبكار، فإنهن أعذب أفواها وأنتق أرحاما وأرضى باليسير".
عبدالرحمن بن سلیم بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کنواری عورتوں سے شادی کیا کرو کیونکہ وہ شیریں زبان، بہت بچے جننے والی اور معمولی مال پر راضی ہو جانے والی ہوتی ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1534]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 623