سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
کنواری عورتوں کو ترجیح دینا
ترقیم الباني: 3158 ترقیم فقہی: -- 1535
- (فإنَّك نِعْمَ ما رأيتَ. قالَهُ لجابرٍ حينَ أخبَرَه بأَنَّه تزوَّج ثيباً لِتَخْدُمَ أَخواتِه الصِّغَارَ) .
سیدنا جابر بن عبدللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جابر کیا تیری بیوی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ سے شادی کی یا کنواری سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ کسی نوعمر لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟“ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہو گئے تھے، ان کی بچیاں تھیں، (چونکہ میں ان کا کفیل ہوں اس لیے) میں نے ناپسند کیا کہ ان کی طرح کی ہی ایک لڑکی سے نکاح کر لوں۔ میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی تاکہ (میری بہنوں) کی جوئیں نکالے اور ان کی پھٹی پرانی قمیص سلائی کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے بہت اچھا سوچا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1535]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3158
ترقیم الباني: 3105 ترقیم فقہی: -- 1536
- (في التي لمْ يُرتعْ منها. قاله لعائشةَ رضي الله عنها) .
سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے الله کے رسول! اگر آپ ایسی وادی میں نازل ہوں جہاں ایک درخت کو کھایا جاتا رہا ہو اور دوسرا درخت سالم ہو، آپ اپنے اونٹ کو کس درخت پر چرنے کے لئے چھوڑیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر جس کو بطور چارہ استعمال نہیں کیا گیا۔“ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کے علاوہ کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1536]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3105
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے خوش طبعی
ترقیم الباني: 70 ترقیم فقہی: -- 1537
-" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدلع لسانه للحسن بن علي فيرى الصبي حمرة لسانه فيبهش إليه".
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کے لیے اپنی زبان باہر نکالتے، جب بچہ زبان کی سرخی دیکھتا تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1537]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 70
عورتوں کا عیدگاہ میں جانا
ترقیم الباني: 600 ترقیم فقہی: -- 1538
-" أخرجوا العواتق وذوات الخدور، فليشهدن العيد ودعوة المسلمين وليعتزل الحيض مصلى المسلمين".
سیدہ حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہم نے سیدہ ام عطیہ رضی الله عنہا سے سوال کیا: کیا تو نے یہ بات رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ وہ جب بھی حدیث بیان کرتیں تو کہتی تھیں میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جواں عمر اور پردہ نشیں عورتوں کو نکالو، انہیں چاہئے کہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں اور حائضہ عورتیں مسلمان کی جائے نماز سے علیحدہ ہو کر بیٹھیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1538]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 600
ترقیم الباني: 2408 ترقیم فقہی: -- 1539
-" وجب الخروج على كل ذات نطاق. يعني في العيدين".
سیدنا عبدللہ بن رواحہ انصاری رضی الله عنہ کی بہن سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عیدین کے لیے) ہر اس عورت پر نکلنا فرض ہے، جو کمربند باندھتی ہو یعنی بالغ ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1539]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2408
ترقیم الباني: 2115 ترقیم فقہی: -- 1540
-" كان يأمر بناته ونسائه أن يخرجن في العيدين".
سیدنا عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو حکم دیتے کہ وہ عیدین کے لیے نکلا کریں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1540]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2115
نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں
ترقیم الباني: 2184 ترقیم فقہی: -- 1541
-" ليس على رجل طلاق فيما لا يملك ولا عتاق فيما لا يملك ولا بيع فيما لا يملك".
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی عورت کا مالک ہی نہ ہو، وہ اسے طلاق نہیں دے سکتا۔ جو آدمی کسی غلام کا مالک ہی نہ ہو، وہ اسے فروخت نہیں کر سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1541]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2184
سیدہ حفصہ کو طلاق اور رجوع
ترقیم الباني: 2007 ترقیم فقہی: -- 1542
-" كان طلق حفصة، ثم راجعها".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کو طلاق دی، پھر رجوع کر لیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1542]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2007
جماع کے بعد مہر دیے بغیر عورت کو طلاق دے دینا سب سے بڑا گناہ ہے
ترقیم الباني: 999 ترقیم فقہی: -- 1543
-" إن أعظم الذنوب عند الله رجل تزوج امرأة فلما قضى حاجته منها طلقها وذهب بمهرها ورجل استعمل رجلا فذهب بأجرته وآخر يقتل دابة عبثا".
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا گناہ (یعنی گنہگار) یہ ہیں: (۱) وہ آدمی، جس نے ایک عورت سے شادی کی، اس سے اپنی حاجت پوری کی، پھر اسے طلاق دے دی اور حق مہر ہڑپ کر گیا۔ (۲) وہ آدمی، جس نے کسی کو مزدوری پر لگایا اور اس کی اجرت خود نگل گیا اور (۳) وہ آدمی، جس نے کسی چوپائے کو بےفائدہ قتل کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1543]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 999
طلاق دیتے وقت کچھ مال وغیرہ دے دینا
ترقیم الباني: 2281 ترقیم فقہی: -- 1544
-" متعها، فإنه لابد من المتاع ولو نصف صاع من تمر".
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا حفص بن مغیرہ رضی الله عنہ نے اپنی بیوی فاطمہ کو طلاق دی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور (ساری بات کی وضاحت کر دی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند سے فرمایا: ”اس کو کچھ مال وغیرہ دے کر رخصت کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس تو اسے دینے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ نہ کچھ (مال دے کر اسے) فائدہ پہنچانا تو ضروری ہے۔“ پھر فرمایا: ”تو اس کو مال وغیرہ دے کر رخصت کر، اگرچہ وہ کھجور کا نصف صاع ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1544]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2281