سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
فوت ہونے والے نابالغ بچے والدین کے لیے خوشخبری ہیں، فوت ہونے والے دو یا تین نابالغ بچوں کے والدین کی فضیلت
ترقیم الباني: 3416 ترقیم فقہی: -- 1555
- (ما من مسلِمَينِ يموتُ لهما ثلاثةُ أطفالٍ لم يبلغُوا الحنثَ، إلا جِيءَ بهم حتّى يُوقفُوا على باب الجنّة، فيقالُ لهم: ادخلوا الجنّة، فيقولون: أندخلُ ولم يدخل أبوانَا؟! فيقالُ لهم- فلا أدري في الثّانيةِ-: ادخلوا الجنة وآباؤكم، قال: فذلك قولُ الله عزّ وجلّ: (فما تنفعُهم شفاعةُ الشّافِعين) ؛ قالَ: نفعَتِ الآباءَ شفاعةُ أولادِهم) .
سیدہ حبیبہ یا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کے گھر بیٹھیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”جس مسلمان جوڑے (یعنی میاں بیوی) کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں، ان بچوں کو جنت کے دروازے پر لایا جائے گا اور کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہیں گے: کیا ہم اپنے والدین کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں؟ ان سے کہا جائے گا: (ٹھیک ہے) تم اور تمہارے آباء جنت میں داخل ہو جاؤ۔ الله تعالی کے اس فرمان ک یہی مفہوم ہے: «فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ» آباء کو ان کی اولاد کی سفارش نفع دے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1555]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3416
ترقیم الباني: 3441 ترقیم فقہی: -- 1556
- (ما منكنّ امرأةٌ يموتُ لها ثلاثةٌ؛ إلا أدخلَها الله عزّ وجلّ الجنة، فقالت أجلُّهن امرأة: يا رسولَ الله! وصاحبةُ الاثنينِ في الجنّة؟! قال: وصاحبة الاثنين في الجنة) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں گے، الله تعالی اس کو (ان کی وجہ سے) جنت میں داخل کرے گا۔“ ان میں سے ایک عمر رسیدہ عورت نے کہا: اے الله کے رسول! فوت ہونے والے دو بچوں کی ماں بھی جنت میں جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بچوں والی بھی جنت میں جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1556]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3441
ترقیم الباني: 2681 ترقیم فقہی: -- 1557
-" 1 - من ولد له ثلاثة أولاد في الإسلام فماتوا قبل أن يبلغوا الحنث أدخله الله عز وجل الجنة برحمته إياهم. 2 - ومن شاب شيبة في سبيل الله عز وجل كانت له نورا يوم القيامة. 3 - ومن رمى بسهم في سبيل الله عز وجل بلغ به العدو أصاب أو أخطأ كان له كعدل رقبة. 4 - ومن أعتق رقبة مؤمنة أعتق الله بكل عضو منها عضوا منه من النار. 5 - ومن أنفق زوجين في سبيل الله عز وجل فإن للجنة ثمانية أبواب يدخله الله عز وجل من أي باب شاء منها الجنة".
ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو آپ نے رسول الله سے سنی ہو اور اس میں کمی ہو نہ وہم۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”(۱) اسلام میں جس کے تین بچے پیدا ہوں اور وہ بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں تو اللہ ایسے آدمی کو ان پر رحمت کرنے کے سبب جنت میں داخل کرے گا۔ (۲) جو الله کے راستے میں بوڑھا ہو گیا تو یہ عمل اس کے لیے روز قیامت نور ثابت ہو گا۔ (۳) جس نے الله کے راستے میں کوئی تیر پھینکا، وہ دشمن کو لگا یا نہ لگا تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ہو گا۔ (۴) جس نے مسلمان غلام آزاد کیا، الله تعالی (آزاد شدہ) کے ہر ایک عضو کے بدلے (آزاد کرنے والے کے) ہر ایک عضو کو آگ سے آزاد کر دے گا۔ (۵) جس نے الله تعالیٰ کے راستے میں (مال کی کسی قسم سے) ایک جوڑا خرچ کیا تو وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، الله تعالیٰ اسے داخل کر لے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1557]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2681
ہر نومولود کو شیطان چھوتا ہے
ترقیم الباني: 2711 ترقیم فقہی: -- 1558
-" ما من بني آدم مولود إلا يمسه الشيطان حين يولد، فيستهل صارخا من مس الشيطان، غير مريم وابنها".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سیدہ مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے (عیسی علیہ السلام) کے علاوہ بنو آدم کا ہر بچہ جب پیدہ ہوتا ہے تو شیطان اسے چھوتا ہے، اس وجہ سے وہ زور سے چلاتا ہے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: «وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُهَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ» اور میں اس (مریم) کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے بچانے کے لیے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1558]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2711
بہنوں اور بیٹیوں کی بہترین کفالت پر جنت کا مژدہ
ترقیم الباني: 2776 ترقیم فقہی: -- 1559
-" ما من مسلم تدرك له ابنتان فيحسن إليهما ما صحبتاه أو صحبهما إلا أدخلتاه الجنة".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کی دو بیٹیاں پیدا ہوں اور جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں، وہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا رہے، تو وہ ان کے سبب جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1559]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2776
ترقیم الباني: 3143 ترقیم فقہی: -- 1560
- (من ابتُليَ من [هذه] البنات بشيءٍ فأحسن إليهنَّ؛ كنَّ لَهُ سِتْراً من النار) .
زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کے ہمراہ میرے پاس آئی اور مجھ سے سوال کیا، اس کے لیے میرے پاس صرف ایک کھجور تھی، میں نے اسے دے دی۔ اس نے پکڑی اور دونوں مگر بیٹیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہ کھائی اور بیٹیوں کو لے کر چلی گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے ساری بات آپ کو بتلائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا جائے اور وہ ان سے حسن سلوک سے پیش آئے تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ ثابت ہوں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1560]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3143
ترقیم الباني: 296 ترقیم فقہی: -- 1561
-" من عال ابنتين أو ثلاث بنات أو أختين أو ثلاث أخوات حتى يمتن (وفي رواية: يبن وفي أخرى يبلغن) أو يموت عنهن كنت أنا وهو كهاتين وأشار بأصبعيه السبابة والوسطى".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو یا تین بیٹیوں یا دو یا تین بہنوں کی پرورش کی، حتی کہ وہ فوت ہو گئیں (ایک روایت میں ہیں: حتی کہ وہ دور ہو گئیں اور ایک روایت میں ہے: حتی کہ وہ بالغ ہو گئیں) یا وہ خود فوت ہو گیا، تو میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت اور درمیان والی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1561]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 296
ترقیم الباني: 2492 ترقیم فقہی: -- 1562
-" من عال ثلاثا من بنات يكفيهن ويرحمهن ويرفق بهن، فهو في الجنة".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین بیٹیوں کی پرورش اس طرح کی کہ ان کو پورا خرچ دیتا رہا، ان پر رحم و کرم کرتا رہا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آتا رہا تو وہ جنت میں ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1562]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2492
ترقیم الباني: 297 ترقیم فقہی: -- 1563
-" من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو. وضم أصابعه".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو بچیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، تو میں اور وہ روز قیامت اس طرح آئیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربت کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو ملایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1563]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 297
ترقیم الباني: 1026 ترقیم فقہی: -- 1564
-" من كان له أختان أو ابنتان، فأحسن إليهما ما صحبتاه، كنت أنا وهو في الجنة كهاتين. وقرن بين إصبعيه".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی دو بہنیں یا دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے ساتھ رہیں، وہ ان سے حسن سلوک سے پیش آئے، تو میں اور وہ جنت میں اس طرح (ایک دوسرے کے قریب) ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرتے ہوئے اپنی دو انگلیوں کو ملایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1564]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1026