🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نیک اور برے خواب اور دونوں کے احکام اور اقسام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1311 ترقیم فقہی: -- 2694
-" إذا رأى أحدكم رؤيا يكرهها فليتحول وليتفل عن يساره ثلاثا وليسأل الله من خيرها وليتعوذ من شرها".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اپنا پہلو بدل لے (‏‏‏‏جس پر وہ لیٹا ہو) اور تین دفعہ بائیں جانب تھوکے اور اللہ تعالیٰ سے اس (‏‏‏‏خواب) کی خیر کا سوال کرے اور اس کی شر سے پناہ طلب کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2694]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1311

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3968 ترقیم فقہی: -- 2695
- (إذا لَعِبَ الشّيطانُ بأَحدِكم في منامِه؛ فلا يحدِّث به النّاسَ) .
سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وه کہتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبكہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میں نے خواب دیکھا کہ میری گردن قلم کر دی گئی، سر گر پڑا اور لڑھک گیا، میں اس کے پیچھے چلا، اس کو پکڑا اور اسے اس کی جگہ پر لوٹا دیا، (‏‏‏‏اس خواب کے بارے میں آپ کا خیال ہے)؟ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ‏‏‏‏ مسکرائے اور فرمایا: ”جب شیطان کسی کے ساتھ نیند میں کھیلے تو وہ (‏‏‏‏ایسا خواب) لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2695]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3968

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خواب کس کے سامنے بیان کیا جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 119 ترقیم فقہی: -- 2696
-" لا تقصوا الرؤيا إلا على عالم أو ناصح".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف کسی عالم یا خیرخواہ کے سامنے اپنا خواب بیان کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2696]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 119

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خواب کی تعبیر کی اہمیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 120 ترقیم فقہی: -- 2697
-" إن الرؤيا تقع على ما تعبر ومثل ذلك مثل رجل رفع رجله فهو ينتظر متى يضعها فإذا رأى أحدكم رؤيا فلا يحدث بها إلا ناصحا أو عالما".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب، تعبیر کے مطابق واقع ہوتی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ایک آدمی نے اپنی ٹانگ اٹھا لی، اب وہ اس انتطار میں ہے کہ اسے کب زمین پر رکھے۔ جب کوئی آدمی خواب دیکھے تو اسے صرف کسی خیرخواہ یا اہل علم کے سامنے بیان کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2697]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 120

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رخصت ہونے کے لیے مہمان کا میزبان سے اجازت لینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 182 ترقیم فقہی: -- 2698
-" إذا زار أحدكم أخاه فجلس عنده، فلا يقومن حتى يستأذنه".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی کی زیارت کے لیے جائے اور اس کے پاس بیٹھ جائے تو وہاں سے بلا اجازت نہ اٹھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2698]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 182

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مہمان کا ماکول و مشروب کی بابت کوئی سوال نہ کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 627 ترقیم فقہی: -- 2699
-" إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم، فأطعمه من طعامه، فليأكل ولا يسأله عنه وإن سقاه من شرابه، فليشرب من شرابه ولا يسأله عنه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں مت پوچھے، اسی طرح اگر وہ کوئی مشروب پیش کرے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں نہ پوچھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2699]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 627

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 912 ترقیم فقہی: -- 2700
-" إذا رأيتم المداحين، فاحثوا في وجوههم التراب".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنی تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکو۔“ یہ حدیث سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2700]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 912

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1284 ترقیم فقہی: -- 2701
-" إياكم والتمادح، فإنه الذبح".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے کی تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2701]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1284

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دعا کے دوران ہاتھوں کی کیفیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 595 ترقیم فقہی: -- 2702
-" إذا سألتم الله، فاسألوه ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها".
سیدنا مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (‏‏‏‏ ‏‏‏‏ہاتھ اٹھا کر) اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو سیدھے ہاتھوں سے سوال کیا کرو، نہ کہ الٹے ہاتھوں سے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2702]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 595

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتے کی بھونک اور گدھے کی رینگ سن کر اللہ کی پناہ طلب کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3184 ترقیم فقہی: -- 2703
- (إذا سمعتُم نُباحَ الكلبِ بالليل أو نُهاقَ الحميرِ؛ فتعوّذوا باللهِ؛ فإنَّهم يرون ما لا ترون. وأقلّوا الخروج إذا هدَأتِ الرِّجلُ؛ فإنّ الله يبُثُّ في ليلهِ من خلقِه ما يشاء. وأجيفُوا الأبوابَ، واذكرُوا اسم الله عليها؛ فإن الشيطان لا يفتحُ باباً أُجيفَ وذُكرَ اسمُ اللهِ عليه. وغطُّوا الجرار، وأكفِئُوا الآنية، وأؤكُوا القِربَ) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم رات کو کتے کی بھونک یا گدھے کی رینگ سنو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ جب لوگ سو جائیں تو باہر نہ نکلا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے اس وقت میں اپنی مرضی کے مطابق مختلف مخلوقات کو منتشر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دروازے بند کیا کرو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا، جسے اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو اور گھڑے ڈھانپ دیا کرو، برتن اوندھے کر دیا کرو اور مشکیزوں کو ڈوری سے باندھ دیا کرو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے جو غلام تمہاری (‏‏‏‏طبیعت کے) موافق ہوں تو ان کو اس میں سے کھلایا کرو جو خود کھاتے ہو اور وہ لباس پہنایا کرو جو خود پہنتے ہو اور جو غلام تمہاری موافقت نہ کریں تو ان کو بیچ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب نہ دیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2703]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3184

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں