سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
خادموں اور غلاموں کے حقوق، روزی عطا کرنے کے انداز
ترقیم الباني: 2569 ترقیم فقہی: -- 2704
-" إذا صنع خادم أحدكم طعاما فولي حره ومشقته فليدعه فليأكل معه، فإن لم يدعه فليناوله منه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارا خادم تمہارے لیے کھانا تیار کرتا ہے تو وہ گرمی برداشت کرتا ہے اور مشقت اٹھاتا ہے، اس لیے آدمی کو چاہیئے کہ اسے بلائے تاکہ وہ اس کے ساتھ کھائے، اگر کوئی اس طرح نہ کرے تو اسے کھانے کے لیے کچھ پکڑا دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2704]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2569
چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا
ترقیم الباني: 862 ترقیم فقہی: -- 2705
-" إذا ضرب أحدكم فليجتنب الوجه، فإن الله خلق آدم على صورته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کسی کو سزا دے تو چہرے پر مارنے سے گریز کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2705]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 862
چھینک کے آداب
ترقیم الباني: 3094 ترقیم فقہی: -- 2706
- (إذا عَطَسَ أحدكم فَحَمِدَ الله فَشَمِّتُوه، وإن لم يَحْمَدِ الله عز وجل فلا تُشَمِّتُوهُ) .
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ بنت ام الفضل کے گھر میں تھے، جب مجھے چھینک آئی تو ابوموسیٰ نے مجھے «يرحَمك الله» (کہہ کر) دعا نہیں دی، لیکن جب بنت ام الفضل کو چھینک آئی تو انہوں نے اسے دعائیہ جواب دیا۔ میں نے واپس جا کے اپنی ماں کو ساری بات بتا دی۔ جب ابو موسیٰ، میری ماں کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تو نے «يرحمك الله» نہیں کہا اور جب فلاں کو چھینک آئی تو تو نے اسے دعا دی، (اس فرق کی کیا وجہ ہے)؟ انہوں نے کہا: تیرے بیٹے نے چھینکا تو تھا لیکن اس نے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» نہیں کہا تھا، اس لیے میں نے دعائیہ کلمات نہیں کہے اور ام الفضل کی بیٹی نے چھینکا اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہا، اس لیے میں نے «يرحَمك الله» کہا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب کسی کو چھینک آئے اور وہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے تو تم ( «يرحَمك الله» کہہ کر) اسے دعا دیا کرو اور اگر وہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» نہ کہے تو تم بھی اسے دعا نہ دو۔“ (یہ حدیث سن کر) اس نے کہا: تو نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2706]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3094
ترقیم الباني: 2387 ترقیم فقہی: -- 2707
-" كان إذا عطس حمد الله، فيقال له: يرحمك الله، فيقول: يهديكم الله ويصلح بالكم".
سیدنا عبداللہ بن جعفر ذوالجناحین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہتے۔ تو جب جواباً «يرحَمك الله» کہا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” «يهديكم الله و يصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حالات کی اصلاح فرمائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2707]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2387
تین دفعہ چھنکینے والے کا جواب
ترقیم الباني: 1330 ترقیم فقہی: -- 2708
-" إذا عطس أحدكم فليشمته جليسه، فإن زاد على ثلاث فهو مزكوم، ولا يشمت بعد ذلك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی چھینکے تو اس کا ہم نشین ( «يرحمك الله» کہہ کر) اسے دعا دے، اگر اسے تین سے زیادہ چھینکیں آئیں تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) اسے زکام ہے، ایسی صورت میں وہ «يرحمك الله» نہ کہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2708]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1330
منافق کو سید کہنا غضب الٰہی کا سبب ہے
ترقیم الباني: 1389 ترقیم فقہی: -- 2709
-" إذا قال الرجل للمنافق يا سيد فقد أغضب ربه تبارك وتعالى".
عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے منافق کو ”اے میرے سردار“ کہہ کر بلایا اس نے اپنے رب کو ناراض کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2709]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1389
ترقیم الباني: 371 ترقیم فقہی: -- 2710
-" لا تقولوا للمنافق سيدنا فإنه إن يك سيدكم فقد أسخطتم ربكم عز وجل".
عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو یوں نہ کہو: اے ہمارے سردار۔ کیونکہ اگر ایسا شخص تمہارا سردار ہوا تو یقیناً تم اپنے ربّ عزوجل کو (اپنے آپ پر) ناراض کر دو گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2710]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 371
خطبہ جمعہ کے آداب
ترقیم الباني: 170 ترقیم فقہی: -- 2711
-" إذا قلت للناس أنصتوا وهم يتكلمون، فقد ألغيت على نفسك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جب امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا ہو اور) تو باتیں کرنے والے لوگوں کو کہے کہ چپ ہو جاؤ، تو یہ تیرا لغو اور بیہودہ کام شمار ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2711]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 170
خطبہ کے آداب
ترقیم الباني: 169 ترقیم فقہی: -- 2712
-" كل خطبة ليس فيها تشهد فهي كاليد الجذماء".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ، جس میں تشہد نہ ہو، کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2712]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 169
مسلمان کے مال پر ناحق قبضے کا انجام بد
ترقیم الباني: 934 ترقیم فقہی: -- 2713
-" من أكل برجل مسلم أكلة، فإن الله يطعمه مثلها من جهنم ومن اكتسى برجل مسلم ثوبا، فإن الله يكسوه مثله في جهنم ومن قام برجل مسلم مقام سمعة، فإن الله يقوم به مقام سمعة يوم القيامة".
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا ایک لقمہ ناحق کھایا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے بقدر جہنم کا کھانا کھلائیں گے، جس نے کسی مسلمان کا کپڑا ناحق پہنا تو اللہ تعالیٰ اسے اسی کے بقدر جہنم کا کپڑا پہنائیں گے اور جس نے اپنے مسلمان بھائی کی ساکھ برقرار رکھی، (اس کے عوض) اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی ساکھ برقرار رکھے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2713]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 934