سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ہر اونٹ کی چوٹی پر شیطان ہے، اس لیے . . .
ترقیم الباني: 2271 ترقیم فقہی: -- 3912
-" ما من بعير إلا على ذروته شيطان، فاذكروا اسم الله إذا ركبتموها كما أمركم، ثم امتهنوها لأنفسكم، فإنما يحمل الله".
سیدنا ابوالآس خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کمزور لوگ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے لیے صدقہ کے اونٹوں پر سوار کیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، کیا آپ ہم کو اس (کوہان) ] پر سوار کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، سو جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، جیسا کہ اس نے تم کو حکم دیا ہے، پھر ان کو اپنے لیے استعمال کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سواریاں عطا کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3912]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2271
ہر سال بارش کی مقدار ایک ہوتی ہے، لیکن . . .
ترقیم الباني: 2461 ترقیم فقہی: -- 3913
-" ما من عام بأكثر مطرا من عام ولكن الله يصرفه بين خلقه [حيث يشاء] . ثم قرأ: * (ولقد صرفناه بينهم [ليذكروا] ) * (¬3) [الآية] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ بات نہیں ہے کہ ایک سال کی بہ نسبت دوسرے سال میں بارش زیادہ ہوتی ہے، (ہر سال بارش کی مقدار ایک ہی ہوتی ہے) لیکن اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق اس کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”اور بیشک ہم نے اسے ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3913]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2461
میت کے حق میں بنوآدم کی شہادت کی اہمیت
ترقیم الباني: 1694 ترقیم فقہی: -- 3914
-" نعم يا أبا بكر! إن لله ملائكة تنطق على ألسنة بني آدم بما في المرء من الخير والشر".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اسی اثنا میں وہاں سے ایک جنازہ گزارا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ جنازہ کس کا ہے؟“ صحابہ نے کہا: یہ فلاں آدمی کا جنازہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا تھا اور اس معاملے میں کوشش کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔“ اتنے میں ایک اور جنازہ گزارا گیا، اس کے بارے صحابہ نے کہا: یہ فلاں آدمی کا جنازہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا تھا اور اس معاملے میں کوشش کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، ثابت ہو گئی، واجب ہو گئی۔“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ایک جنازے کی تعریف کی گئی اور دوسرے کی مذمت کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بارے میں فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ابوبکر!“ بیشک اﷲ تعالیٰ کے فرشتے خیر و شر کے معاملے میں بنو آدم کی زبانوں کی موافقت کرتے ہوئے بولتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3914]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1694
اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے ایک اشرف فرشتے کی ہیئت
ترقیم الباني: 2289 ترقیم فقہی: -- 3915
-" مررت بجبريل ليلة أسري بي بالملإ الأعلى، وهو كالحلس البالي من خشية الله عز وجل".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسرا والی رات جبریل کی مصاحبت میں ایک اشرف فرشتے کے پاس سے گزرا، وہ اﷲ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے بوسیدہ ٹاٹ کی طرح لگ رہا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3915]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2289
جنت سے اتارا جانے والا حجراسود سفید تھا، لیکن سیاہ کیوں ہو گیا؟
ترقیم الباني: 2618 ترقیم فقہی: -- 3916
-" نزل الحجر الأسود من الجنة أشد بياضا من الثلج، فسودته خطايا بني آدم".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حجر اسود جنت سے اترا تھا تو وہ برف سے زیادہ سفید تھا، لیکن بنو آدم کی خطاؤں نے اسے سیاہ کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3916]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2618
ترقیم الباني: 3355 ترقیم فقہی: -- 3917
- لولا ما مسه من أنجاس الجاهلية؛ ما مسه ذو عاهة إلا شُفي، وما على الأرض شيء من الجنة غيره) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس (حجر اسود) کو جاہلیت کی نجاستوں نے نہ چھوا ہوتا تو اسے مس کرنے سے تکلیف والے آدمی کی تکلیف دور ہو جاتی، اس پتھر کے علاوہ زمین میں جنت کی کوئی چیز نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3917]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3355
سورج کیچڑ میں غروب ہو کر سجدہ کرتا ہے
ترقیم الباني: 2403 ترقیم فقہی: -- 3918
-" هل تدري أين تغرب هذه؟ قلت: الله ورسوله أعلم. قال: فإنها تغرب في عين حامية".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، غروب آفتاب کا وقت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک رواں گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے، (اور چلتا رہتا ہے، حتیٰ کہ) عرش کے نیچے پہنچ کر اپنے ربّ کے سامنے سجدے کی حالت میں گر پڑتا ہے۔ جب اس کے طلوع ہونے کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتے ہیں، سو وہ طلوع ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہو گا کہ سورج (مشرق کی بجائے) مغرب سے طلوع ہو تو وہ اسے روک لے گا۔ سورج کہے گا: اے میرے رب! بیشک میری مسافت دور ہے۔ اﷲ تعالیٰ کہے گا: تو پھر مغرب سے طلوع ہو جا، اور یہ اس وقت ہو گا جب ”کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا۔“ (سورۃ الانعام: ۱۵۸) [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3918]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2403
ٹڈیاں بھی اللہ تعالیٰ کا لشکر ہیں، اس لیے . . .
ترقیم الباني: 2428 ترقیم فقہی: -- 3919
-" لا تقتلوا الجراد، فإنه جند من جنود الله الأعظم".
سیدنا ابوزبیر نمیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹڈیوں کو قتل نہ کیا کرو، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم لشکر ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3919]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2428