🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ:
باب: گھوڑے کے رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2860
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً}.
‏‏‏‏ اور گھوڑے، خچر اور گدھے (اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار بھی ہوا کرو اور زینت بھی رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2860]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ أَرْوَاثُهَا وَآثَارُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ وِزْرٌ عَلَى ذَلِكَ، وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ {7} وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ {8} سورة الزلزلة آية 7-8".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے کے مالک تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے وہ باعث اجر و ثواب ہیں، بعضوں کے لیے وہ صرف پردہ ہیں اور بعضوں کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا (یہ فرمایا کہ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے (تاکہ چاروں طرف چر سکے) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی میں بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لیے نیکیاں ہیں اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گزرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں، دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره‏» جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2860]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہیں: کسی شخص کے لیے ثواب کا ذریعہ، کسی کے لیے بچاؤ کا سبب اور کسی کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ ثواب کا ذریعہ تو اس شخص کے لیے ہے جس نے اسے اللہ کی راہ میں باندھا اور اس کی رسی کو چراگاہ یا باغ میں لمبا کر دیا۔ جس قدر وہ چراگاہ یا باغ میں چارا کھائے گا وہ اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ اور اگر وہ رسی توڑ ڈالے اور وہ ایک یا دو بلندیاں دوڑ جائے تو اس کی لید اور قدموں کے نشانات اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ اور اگر وہ نہر کے پاس سے گزرے اور وہاں سے پانی پیے، حالانکہ مالک کا اسے پانی پلانے کا ارادہ نہیں تھا تو اس میں اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ اور جس شخص نے اسے فخر و غرور، نمود و نمائش اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کے لیے باندھا تو وہ اس کے لیے گناہ کا سبب ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے متعلق سوائے اس جامع اور منفرد آیت کے اور کچھ بھی نازل نہیں ہوا: ﴿جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا، اسے دیکھ لے گا (اس کا بدلہ پائے گا) اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اسے بھی دیکھ لے گا۔﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ مَنْ ضَرَبَ دَابَّةَ غَيْرِهِ فِي الْغَزْوِ:
باب: جہاد میں دوسرے کے جانور کو مارنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ أَبُو عَقِيلٍ: لَا أَدْرِي غَزْوَةً أَوْ عُمْرَةً فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيُعَجِّلْ، قَالَ جَابِرٌ: فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ لِي أَرْمَكَ لَيْسَ فِيهِ شِيَةٌ وَالنَّاسُ خَلْفِي فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ اسْتَمْسِكْ فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً فَوَثَبَ الْبَعِيرُ مَكَانَهُ، فَقَالَ: أَتَبِيعُ الْجَمَلَ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ، وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا جَمَلُكَ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ، وَيَقُولُ الْجَمَلُ: جَمَلُنَا فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: أَعْطُوهَا جَابِرًا ثُمَّ، قَالَ: اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَكَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعقیل و بشر بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالمتوکل ناجی (علی بن داود) نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، ان میں سے مجھ سے بھی کوئی حدیث بیان کیجئے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ابوعقیل راوی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں (یہ سفر) جہاد کے لیے تھا یا عمرہ کے لیے (واپس ہوتے ہوئے) جب (مدینہ منورہ) دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آگے بڑھے۔ میں اپنے ایک سیاہی مائل سرخ اونٹ بےداغ پر سوار تھا دوسرے لوگ میرے پیچھے رہ گئے، میں اسی طرح چل رہا تھا کہ اونٹ رک گیا (تھک کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر! اپنا اونٹ تھام لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کوڑے سے اونٹ کو مارا، اونٹ کود کر چل نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ اونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا ہاں! جب مدینہ پہنچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور بلاط کے ایک کونے میں، میں نے اونٹ کو باندھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یہ آپ کا اونٹ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کو گھمانے لگے اور فرمایا کہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اوقیہ سونا مجھے دلوایا اور دریافت فرمایا تم کو قیمت پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قیمت اور اونٹ (دونوں ہی) تمہارے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2861]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر کیا۔۔۔ (راوی حدیث) ابو عقیل کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں وہ سفر جہاد کا تھا یا عمرے کا۔۔۔ جب ہم فارغ ہو کر واپس ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر جب ہم آگے بڑھے، میں اپنے ایک بے داغ سیاہی مائل سرخ اونٹ پر سوار تھا، لوگ میرے پیچھے رہ گئے تھے، میں ایسی حالت میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک میرا اونٹ رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر! اسے روک لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنا کوڑا مارا تو وہ اچھل کر چلنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جابر! کیا تم اپنا اونٹ (مجھے) فروخت کروگے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، جب ہم مدینہ پہنچے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور مسجد کے سامنے ایک میدان کے کنارے اپنا اونٹ باندھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ آپ کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کے ارد گرد چکر لگا کر فرمایا: اونٹ تو ہمارا ہی ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اوقیے سونا بھیجا اور فرمایا: یہ جابر کو دے دو۔ پھر دریافت فرمایا: تمہیں اس کی پوری قیمت مل گئی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیمت اور اونٹ دونوں تمہارے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ الرُّكُوبِ عَلَى الدَّابَّةِ الصَّعْبَةِ وَالْفُحُولَةِ مِنَ الْخَيْلِ:
باب: سخت سرکش جانور اور نر گھوڑے کی سواری کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2862
وَقَالَ رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ كَانَ السَّلَفُ يَسْتَحِبُّونَ الْفُحُولَةَ لِأَنَّهَا أَجْرَى وَأَجْسَرُ.
‏‏‏‏ اور راشد بن سعد تابعی نے بیان کیا کہ صحابہ نر گھوڑے کی سواری پسند کیا کرتے تھے کیونکہ وہ دوڑتا بھی تیز ہے اور بہادر بھی بہت ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2862]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ:" مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ، وَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مدینہ میں (ایک رات) کچھ خوف اور گھبراہٹ ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مانگ لیا۔ اس گھوڑے کا نام مندوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور واپس آ کر فرمایا کہ خوف کی تو کوئی بات ہم نے نہیں دیکھی البتہ یہ گھوڑا کیا ہے دریا ہے!۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2862]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مدینہ طیبہ میں ایک دفعہ خوف طاری ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے گھوڑا مستعار لیا جسے مندوب کہا جاتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور فرمایا: خوف و ہراس کی کوئی بات ہم نے نہیں دیکھی، بلاشبہ اس (گھوڑے) کو ہم نے (روانی میں) دریا ہی پایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ سِهَامِ الْفَرَسِ:
باب: (غنیمت کے مال سے) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2863
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا،
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ابواسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت سے) گھوڑے کے دو حصے لگائے تھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2863]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت میں سے گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کا ایک حصہ مقرر کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2864
وَقَالَ مَالِكٌ: يُسْهَمُ لِلْخَيْلِ وَالْبَرَاذِينِ مِنْهَا لِقَوْلِهِ وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا سورة النحل آية 8وَلَا يُسْهَمُ لِأَكْثَرَ مِنْ فَرَسٍ".
‏‏‏‏ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عربی اور ترکی گھوڑے سب برابر ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا «والخيل والبغال والحمير لتركبوها‏» اور گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو سواری کے لیے بنایا اور ہر سوار کو ایک ہی گھوڑے کا حصہ دیا جائے گا (گو اس کے پاس کئی گھوڑے ہوں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2864]

52. بَابُ مَنْ قَادَ دَابَّةَ غَيْرِهِ فِي الْحَرْبِ:
باب: اگر کوئی لڑائی میں دوسرے کے جانور کو کھینچ کر چلائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ رَجُلٌ: لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَفَرَرْتُمْ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ قَالَ: لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِينَاهُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوا، فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَّ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَإِنَّأَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے کہ ایک شخص نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حنین کی لڑائی میں آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے۔ ہوازن کے لوگ (جن سے اس لڑائی میں مقابلہ تھا) بڑے تیرانداز تھے، جب ہمارا ان سے سامنا ہوا تو شروع میں ہم نے حملہ کر کے انہیں شکست دے دی، پھر مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور دشمن نے تیروں کی ہم پر بارش شروع کر دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» میں نبی ہوں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2864]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا تم غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت نہیں دکھائی۔ قصہ یوں ہوا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ بڑے تیر انداز تھے، پہلے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ نکلے، لیکن جب مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے تو انہوں نے سامنے سے تیر برسانا شروع کر دیے۔ ہم تو بھاگ گئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے، یقیناً میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے سفید خچر پر تھے اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» میں (اللہ کا سچا) نبی ہوں، (اس میں) کوئی جھوٹ نہیں، (اور اس کے ساتھ ساتھ) میں عبد المطلب کا بیٹا (بھی) ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ الرِّكَابِ وَالْغَرْزِ لِلدَّابَّةِ:
باب: جانور پر رکاب یا غرز لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پائے مبارک «غرز» (رکاب) میں ڈالا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا (احرام باندھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2865]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ رُكُوبِ الْفَرَسِ الْعُرْيِ:
باب: گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" اسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ".
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2866]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر، جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے آگے نکل گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں