صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ الْفَرَسِ الْقَطُوفِ:
باب: سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا۔
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ كَانَ يَقْطِفُ، أَوْ كَانَ فِيهِ قِطَافٌ فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ:" وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يُجَارَى".
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ (رات میں) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے (مندوب) پر سوار ہوئے، گھوڑا سست رفتار تھا یا (راوی نے یوں کہا کہ) اس کی رفتار میں سستی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا (یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے) چنانچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2867]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اہل مدینہ کو کوئی خطرہ محسوس ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ وہ گھوڑا سست رفتار تھا یا اس کی رفتار میں سستی تھی۔ پھر جب آپ واپس آئے تو فرمایا: ”ہم نے تو آپ کے اس گھوڑے کو (روانی میں) دریا جیسا پایا ہے۔“ چنانچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
56. بَابُ السَّبْقِ بَيْنَ الْخَيْلِ:
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَجْرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا ضُمِّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَأَجْرَى مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكُنْتُ فِيمَنْ أَجْرَى، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ سُفْيَانُ: بَيْنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ خَمْسَةُ أَمْيَالٍ أَوْ سِتَّةٌ وَبَيْنَ ثَنِيَّةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ مِيلٌ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں میں بھی تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ میل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2868]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار شدہ گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار شدہ نہیں تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنو زریق تک کرائی تھی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں بھی گھڑ دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والوں میں سے تھا۔ (راوی حدیث) حضرت سفیان کہتے ہیں کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع کا فاصلہ پانچ یا چھ میل تھا اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنو زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
57. بَابُ إِضْمَارِ الْخَيْلِ لِلسَّبْقِ:
باب: گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا۔
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَر كَانَ سَابَقَ بِهَا"، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ أَمَدًا غَايَةً فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ «أمدا» (حدیث میں) حد اور انتہا کے معنی میں ہے۔ (قرآن مجید میں ہے) «فطال علیہم الامد» یعنی ”پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی“ جو اسی معنی میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2869]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور مقابلے کی حد ثنیۃ الوداع سے لے کر مسجد بنو زریق تک رکھی تھی، اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے گھوڑے دوڑائے تھے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حدیث میں لفظ «أَمَدٌ» کے معنی حد اور انتہا کے ہیں۔ قرآن مجید میں ﴿فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ﴾ [سورة الحديد: 16] بھی اسی معنی میں ہے، یعنی ان پر وقت کی انتہا طویل ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
58. بَابُ غَايَةِ السَّبْقِ لِلْخَيْلِ الْمُضَمَّرَةِ:
باب: تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو۔
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَهَا مِنْ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ لِمُوسَى: فَكَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: سِتَّةُ أَمْيَالٍ أَوْ سَبْعَةٌ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، فَأَرْسَلَهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ، قُلْتُ: فَكَمْ بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: مِيلٌ أَوْ نَحْوُهُ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِيهَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی (ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2870]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنھیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی حد تھی۔ (راوی حدیث) ابو اسحاق نے (اپنے استاد) موسیٰ سے پوچھا کہ اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جو تیار شدہ نہیں تھے۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور اس کی حد مسجد بنو زریق تھی۔ راوی نے پوچھا: اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ تو بتایا تقریباً ایک میل۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
59. بَابُ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2871
قَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَرْدَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ".
ہم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو قصواء (نامی اونٹنی) پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء نے سرکشی نہیں کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2871]
حدیث نمبر: 2871
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَالُ لَهَا: الْعَضْبَاءُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2871]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2872
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لَا تُسْبَقُ، قَالَ حُمَيْدٌ:" أَوْ لَا تَكَادُ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى عَرَفَهُ، فَقَالَ: حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ"، طَوَّلَهُ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے (کبھی کبھی) اسے وہ گراتا بھی ہے۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2872]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا، دوڑ میں اس سے آگے کوئی اونٹنی نہیں بڑھ سکتی تھی۔ (راویِ حدیث) حمید نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ اس سے آگے بڑھا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ آخر ایک دیہاتی ایک نوجوان اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ امر ناگوار گزرا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناگواری محسوس کی تو فرمایا: ”اللہ پر حق ہے کہ دنیا کی جو چیز بلند ہے اسے پست کردے۔“ موسیٰ نے حماد سے، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو طوالت سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
60. بَابُ الْغَزْوِ عَلَى الْحَمِيرِ:
باب: گدھے پر بیٹھ کر جنگ کرنا۔
حدیث نمبر: Q2873-2
n
(بعض نسخوں میں یہ باب مذکور نہیں، البتہ شیخ فواد عبدالباقی والے نسخے میں یہ باب ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2873-2]
61. بَابُ بَغْلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2873
قَالَهُ أَنَسٌ، وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَغْلَةً بَيْضَاءَ".
اس کا ذکر انس رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں کیا اور ابو حمید ساعدی نے کہا کہ ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر تحفہ میں بھجوایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2873]
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ، وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے بعد) سوا اپنے سفید خچر کے، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کر دی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2873]
حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے وقت) صرف اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور وہ زمین چھوڑی تھی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة