صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: {إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى} الآيَةَ:
باب: (قارون کا بیان) ”بیشک قارون، موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھا“ الآیۃ (سورۃ قص)۔
حدیث نمبر: Q3412-3
لَتَنُوءُ سورة القصص آية 76 لَتُثْقِلُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُولِي الْقُوَّةِ سورة القصص آية 76 لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ يُقَالُ الْفَرِحِينَ سورة القصص آية 76 الْمَرِحِينَ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ سورة القصص آية 82 مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ سورة الرعد آية 26 وَيُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ.
(آیت میں) «لتنوء» بمعنی «لتثقل» یعنی بھاری ہوتی تھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «أولي القوة» کی تفسیر میں کہا کہ اس کی کنجیوں کو لوگوں کی ایک طاقتور جماعت بھی نہ اٹھا پاتی تھی۔ «الفرحين» بمعنی «المرحين» اترانے والے۔ «ويكأن» «ألم تر أن» کی طرح ہے۔ «الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر» یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں فراخی کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3412-3]
34. بَابُ: {وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا}:
باب: اس بیان میں کہ «وإلى مدين أخاهم شعيبا» سے اہل مدین مراد ہیں کیونکہ مدین ایک شہر تھا بحر قلزم پر۔
حدیث نمبر: Q3412-2
إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ لِأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ وَمِثْلُهُ وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ سورة يوسف آية 82 وَاسْأَلْ الْعِيرُ سورة يوسف آية 94 يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ وَأَهْلَ الْعِيرِ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا سورة هود آية 92 لَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَيْهِ يُقَالُ إِذَا لَمْ يَقْضِ حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ حَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ظِهْرِيًّا قَالَ الظِّهْرِيُّ أَنْ تَأْخُذَ مَعَكَ دَابَّةً أَوْ وِعَاءً تَسْتَظْهِرُ بِهِ مَكَانَتُهُمْ وَمَكَانُهُمْ وَاحِدٌ يَغْنَوْا سورة هود آية 95 يَعِيشُوا يَيْأَسُ سورة يوسف آية 87 يَحْزَنْ آسَى سورة الأعراف آية 93 أَحْزَنُ، وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ سورة هود آية 87 يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَيْكَةُ: الْأَيْكَةُ يَوْمِ الظُّلَّةِ سورة الشعراء آية 189 إِظْلَالُ الْغَمَامِ الْعَذَابَ عَلَيْهِمْ.
اس کی مثال جیسے سورۃ یوسف میں فرمایا «واسأل القرية واسأل العير» یعنی بستی والوں سے اور قافلہ والوں پوچھ لے «ظهريا» یعنی ادھر ادھر پھر کر نہیں دیکھتے۔ عرب لوگ جب ان کا کام نہ نکلے تو کہتے ہیں «ظهرت حاجتي» یا «جعلتني ظهريا» تو نے میرا کام پس پشت ڈال دیا ‘ یا مجھ کو پس پشت کر دیا۔ «ظهري» اس جانور یا «ظرف» کو کہتے ہیں جس کو تو اپنی قوت بڑھانے کے لیے ساتھ رکھے «مكانتهم» اور «مكانهم» دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ «لم يغنوا» زندہ نہیں رہے تھے۔ وہاں بسے ہی نہ تھے (سورۃ المائدہ میں) «فلاتاس» رنجیدہ نہ ہو (سورۃ الاعراف میں) «آسى» رنجیدہ ہوں ‘ غم کروں ‘ امام حسن بصری نے کہا (سورۃ ہود میں) کافروں کا جو یہ قول نقل کیا۔ «إنك لأنت الحليم الرشيد» تو یہ کافروں نے ٹھٹھے کے طور پر کہا تھا۔ مجاہد نے کہا سورۃ الشعراء میں «ليكة» سے مراد «أيكة» ہے یعنی جھاڑی میں۔ «يوم الظلة» یعنی جس دن عذاب ایک سائبان کی شکل میں نمودار ہوا (ابر، بادل میں سے آگ برسی)۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3412-2]
35. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ}:
باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔
حدیث نمبر: Q3412
قَالَ مُجَاهِدٌ مُذْنِبٌ الْمَشْحُونُ الْمُوقَرُ فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنْ [ ص: 1254 ] الْمُسَبِّحِينَ الْآيَةَ فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ بِوَجْهِ الْأَرْضِ وَهُوَ سَقِيمٌ وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ مِنْ غَيْرِ ذَاتِ أَصْلٍ الدُّبَّاءِ وَنَحْوِهِ وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ كَظِيمٌ وَهُوَ مَغْمُومٌ.
مجاہد نے کہا: «مليم» گنہگار۔ «المشحون» بوجھل بھری ہوئی۔ «فلولا أنه كان من المسبحين» آخر تک۔ «فنبذناه بالعراء» کا معنی روئے زمین۔ «يقطين» وہ درخت جو اپنی جڑ پر کھڑا نہیں رہتا جیسے کدو وغیرہ۔ «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون فآمنوا فمتعناهم إلى حين» ۔ (سورۃ ن میں فرمایا) «مكظوم» جو «كظيم» کے معنی میں ہے یعنی مغموم رنجیدہ۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3412]
حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، ح حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ زَادَ مُسَدَّدٌ: يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا (دوسری سند) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص میرے متعلق یہ نہ کہے کہ میں یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ مسدد نے یونس بن متی علیہ السلام کے لفظ بڑھا کر روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3412]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ (راویِ حدیث) مسدد نے اپنی روایت میں یونس بن متی کا اضافہ کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3413
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر قرار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ان کا نام لیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3413]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کو یہ زیبا نہیں کہ وہ کہے: میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو باپ کی طرف منسوب کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَتَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَامَ فَلَطَمَ وَجْهَهُ، وَقَالَ: تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَذَهَبَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَبَا الْقَاسِمِ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا فَمَا بَالُ فُلَانٍ لَطَمَ وَجْهِي، فَقَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ فَذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ أَمْ بُعِثَ قَبْلِي.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے ‘ ان سے عبدالعزیز بن سلمہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن فضیل نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ لوگوں کو ایک یہودی اپنا سامان دکھا رہا تھا لیکن اسے اس کی جو قیمت لگائی گئی اس پر وہ راضی نہ تھا۔ اس لیے کہنے لگا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ یہ لفظ ایک انصاری صحابی نے سن لیے اور کھڑے ہو کر انہوں نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ہم میں موجود ہیں اور تو اس طرح قسم کھاتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ اس پر وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے ابوالقاسم! میرا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا عہد و پیمان ہے۔ پھر فلاں شخص کا کیا حال ہو گا جس نے میرے منہ پر چانٹا مارا ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے منہ پر کیوں چانٹا مارا؟ انہوں نے وجہ بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اس قدر کہ غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نمایاں ہو گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں آپس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، جب صور پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی تمام مخلوق پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی ‘ سوا ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا ‘ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوئے کھڑے ہوں گے ‘ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ انہیں طور کی بے ہوشی کا بدلا دیا گیا ہو گا یا مجھ سے بھی پہلے ان کی بے ہوشی ختم کر دی گئی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3414]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ ایک یہودی نے اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے رکھا، اس کو اس کی قیمت تھوڑی دی جا رہی تھی جس سے وہ ناخوش تھا، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! یہ جملہ ایک انصاری مرد نے سن لیا، چنانچہ وہ کھڑا ہوا اور یہودی کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا کہ تو یہ بات کہتا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں؟ وہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابوالقاسم! مجھے امان اور عہد مل چکا ہے، اس کے باوجود فلاں شخص کا کیا حال ہے کہ اس نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے منہ پر کیوں طمانچہ مارا؟“ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصے سے بھر گئے حتیٰ کہ آپ کے چہرہ انور پر اس کے اثرات دیکھے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ واقعہ یہ ہے کہ جب صور میں پھونکا جائے گا اور تمام زمین و آسمان والے بے ہوش ہو جائیں گے ﴿مگر جسے اللہ چاہے﴾ [سورة الزمر: 68] (وہ بے ہوش نہ ہو گا) پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو میں سب سے پہلے اٹھایا جاؤں گا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوں گے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کو طور کے دن کی بے ہوشی کا عوض ملا ہے یا ان کو مجھ سے پہلے اٹھا دیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3415
وَلَا أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
اور میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3415]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کوئی یونس بن متی سے افضل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3416
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے یہ کہنا لائق نہیں کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3416]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے: میں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
36. بَابُ: {وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الاعراف میں) یہ فرمانا ”ان یہودیوں سے اس بستی (ایلہ) کا حال پوچھ جو سمندر کے نزدیک تھی“۔
حدیث نمبر: Q3417-2
يَتَعَدَّوْنَ يُجَاوِزُونَ فِي السَّبْتِ {إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا} شَوَارِعَ إِلَى قَوْلِهِ: {كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ}.
یہ لوگ ہفتہ کے دن زیادتی کرنے لگے۔ «شرعا» یعنی «شوارع» ‘ پانی پر تیرتی ہوئی۔ آخر آیت «كونوا قردة خاسئين» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3417-2]
37. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور دی ہم نے داؤد کو زبور“۔
حدیث نمبر: Q3417
الزُّبُرُ الْكُتُبُ، وَاحِدُهَا زَبُورٌ، زَبَرْتُ كَتَبْتُ. {وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلاً يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ} قَالَ مُجَاهِدٌ سَبِّحِي مَعَهُ، {وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ} الدُّرُوعَ، {وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ} الْمَسَامِيرِ وَالْحَلَقِ، وَلاَ يُدِقَّ الْمِسْمَارَ فَيَتَسَلْسَلَ، وَلاَ يُعَظِّمْ فَيَفْصِمَ، {وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ}.
«الزبر» بمعنی «الكتب» اس کا واحد «زبور» ہے۔ «زبرت» بمعنی «كتبت» میں نے لکھا۔ اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنے پاس سے فضل دیا (اور ہم نے کہا تھا کہ) اے پہاڑ! ان کے ساتھ تسبیح پڑھا کر۔ مجاہد رحمہ اللہ نے کہا کہ ( «اوبي معه») کے معنی «سبحي معه» ہے۔ اور پرندوں کو بھی ہم نے ان کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا اور لوہے کو ان کے لیے نرم کر دیا تھا کہ اس سے زرہیں بنائیں۔ «سابغات» کے معنی «دروع» کے ہیں یعنی زرہیں۔ «وقدر في السرد» کا معنی ہیں۔ اور بنانے میں ایک خاص انداز رکھ (یعنی زرہ کی) کیلوں اور حلقے کے بنانے میں۔ کیلوں کو اتنا باریک بھی نہ کر کہ ڈھیلی ہو جائیں اور نہ اتنی بڑی ہوں کہ حلقہ ٹوٹ جائے اور اچھے عمل کرو۔ بیشک تم جو بھی عمل کرو گے میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3417]