🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى}، {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) فرمان ”اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور (سورۃ نساء میں) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3396
وَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، فَقَالَ: مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَقَالَ: عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ".
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام گندم گوں اور دراز قد تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے قبیلہ شنوہ کے کوئی صاحب ہوں اور فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بال والے اور میانہ قد کے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داروغہ جہنم مالک کا بھی ذکر فرمایا اور دجال کا بھی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3396]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام گندم گوں اور دراز قد تھے، گویا آپ شنوءہ قبیلے کے فرد ہیں۔ نیز فرمایا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بالوں والے درمیانے قد کے تھے۔ ان کے علاوہ آپ نے دوزخ کے نگران مالک اور مسیح دجال کا بھی ذکر کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3397
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ: أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر کے صاحبزادے (عبداللہ) نے اپنے والد سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں (یہودیوں) نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3397]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں کو «عَاشُورَاءُ» عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آلِ فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکر ادا کرنے کے لیے اس دن کا روزہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان کی نسبت موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ قرب رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3397]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلاَثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ مُوسَى لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي} إِلَى قَوْلِهِ: {وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ کیا پھر اس میں دس راتوں کا اور اضافہ کر دیا اور اس طرح ان کے رب کی میعاد چالیس راتیں پوری کر دیں۔“ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری غیر موجودگی میں میری قوم میں میرے خلیفہ رہو۔ اور ان کے ساتھ نرم رویہ رکھنا اور مفسدوں کے راستے پر مت چلنا۔ پھر جب موسیٰ ہمارے ٹھہرائے ہوئے وقت پر (ایک چلہ کے) بعد آئے اور ان کے رب نے ان سے گفتگو کی تو انہوں نے عرض کیا: میرے پروردگار! مجھے اپنا دیدار کرا کہ میں تجھ کو دیکھ لوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وأنا أول المؤمنين‏» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3398
يُقَالُ دَكَّهُ زَلْزَلَهُ فَدُكَّتَا سورة الحاقة آية 14 فَدُكِكْنَ جَعَلَ الْجِبَالَ كَالْوَاحِدَةِ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا سورة الأنبياء آية 30وَلَمْ يَقُلْ كُنَّ رَتْقًا مُلْتَصِقَتَيْنِ وَأُشْرِبُوا سورة البقرة آية 93 ثَوْبٌ مُشَرَّبٌ مَصْبُوغٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَانْبَجَسَتْ سورة الأعراف آية 160 انْفَجَرَتْ وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ سورة الأعراف آية 171 رَفَعْنَا.
‏‏‏‏ عرب لوگ بولتے ہیں «دكه» یعنی اسے ہلا دیا۔ اسی سے ہے (سورۃ الحاقہ میں) «فدكتا‏» «دكه» واحدۃ تثنیہ کا صیغہ اس طرح درست ہوا کہ یہاں پہاڑوں کو ایک چیز فرض کیا اور زمین کو ایک چیز ‘ قاعدے کے موافق یوں ہونا تھا «فدككن» بصیغہ جمع۔ اس کی مثال وہ ہے جو سورۃ انبیاء میں ہے۔ «أن السموات والأرض كانتا رتقا‏» اور یوں نہیں فرمایا «كن‏.‏ رتقابه» صیغہ جمع (حالانکہ قیاس یہی چاہتا تھا) «رتقا» کے معنی جڑے ہوئے ملے ہوئے۔ «أشربوا‏» (جو سورۃ البقرہ میں ہے) اس «شرب» سے نکلا ہے جو رنگنے کے معنوں میں آتا ہے جیسے عرب لوگ کہتے ہیں «ثوب» «مشرب» یعنی رنگا ہوا کپڑا (سورۃ الاعراف میں) «نتقنا» کا معنی ہم سے اٹھا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3398]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3398
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے ان کے والد یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے ‘ پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا (بیہوش ہی نہیں کئے گئے ہوں گے بلکہ) انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3398]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے اور مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا تو میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پائے کو پکڑے ہوں گے۔ نہ معلوم وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا انھیں کوہِ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا؟ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3399
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے (سلویٰ کا گوشت جمع کر کے نہ رکھتے) تو گوشت کبھی نہ سڑتا۔ اور اگر حوا نہ ہوتیں (یعنی آدم علیہ السلام سے دغا نہ کرتیں) تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3399]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت میں سڑاند پیدا نہ ہوتی اور اگر حضرت حواء رضی اللہ عنہا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی کبھی (زندگی بھر) خیانت نہ کرتی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3399]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ طُوفَانٍ مِنَ السَّيْلِ:
باب: (سورۃ الاعراف میں) طوفان سے مراد سیلاب کا طوفان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3400
يُقَالُ لِلْمَوْتِ الْكَثِيرِ طُوفَانٌ الْقُمَّلُ الْحُمْنَانُ يُشْبِهُ صِغَارَ الْحَلَمِ حَقِيقٌ سورة الأعراف آية 105 حَقٌّ سُقِطَ سورة الأعراف آية 149 كُلُّ مَنْ نَدِمَ فَقَدْ سُقِطَ فِي يَدِهِ.
‏‏‏‏ بکثرت اموات کو بھی طوفان کہتے ہیں۔ «القمل» اس چیچڑی کو کہتے ہیں جو چھوٹی جوں کے مشابہ ہوتی ہے۔ «حقيق‏» بمعنی «حق‏» لازم۔ «سقط‏» بمعنی نادم ہوا۔ جو شخص شرمندہ ہوتا ہے اس کے لیے عرب لوگ کہتے ہیں «سقط في يده‏.‏» تو (گویا) وہ اپنے ہاتھ میں گر پڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3400]

27. بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى- عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ-:
باب: خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعات۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3400
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ خَضِرٌ فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ، قَالَ: لَا فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَيْهِ فَجُعِلَ لَهُ الْحُوتُ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ فَكَانَ يَتْبَعُ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ: لِمُوسَى فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ، فَقَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا الَّذِي قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ".
ہم سے عمر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا اختلاف ہوا۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اپنے ان ساتھی سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا ‘ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ان کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا ‘ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اس تمام زمین پر آپ سے زیادہ علم رکھنے والا ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ کیوں نہیں ‘ ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو انہیں مچھلی کو اس کی نشانی کے طور پر بتایا گیا اور کہا گیا کہ جب مچھلی گم ہو جائے (تو جہاں گم ہوئی ہو وہاں) واپس آ جانا وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام دریا میں (سفر کے دوران) مچھلی کی برابر نگرانی کرتے رہے۔ پھر ان سے ان کے رفیق سفر نے کہا کہ آپ نے خیال نہیں کیا جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل رکھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی کی تو ہمیں تلاش ہے چنانچہ یہ بزرگ اسی راستے سے پیچھے کی طرف لوٹے اور خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ان دونوں کے ہی وہ حالات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3400]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا اور حضرت حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے متعلق اختلاف ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ اس دوران میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اور میرے ساتھی کا صاحبِ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق اختلاف ہو گیا ہے جس سے ملاقات کا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مجمع میں وعظ کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے آکر کہا: کیا آپ کسی کو اپنے سے زیادہ عالم جانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (مجھ سے زیادہ کوئی عالم) نہیں۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی: کیوں نہیں، ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے ملاقات کی علامت قرار دیا۔ اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم جہاں مچھلی کو گم پاؤ تو واپس آ جاؤ، وہیں ان سے ملاقات ہو گی، چنانچہ وہ مچھلی کی نگرانی کرتے ہوئے سمندر کے کنارے سفر کرنے لگے۔ آخر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفیقِ سفر نے ان سے کہا: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] کیا آپ نے خیال نہیں کیا کہ جب ہم چٹان کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] اسی کو تو ہم تلاش کر رہے تھے، چنانچہ ﴿فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ [سورة الكهف: 64] وہ دونوں بزرگ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس پلٹے تو حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ آگے ان دونوں کا وہی قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3400]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3401
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ مُوسَى قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ، فَقَالَ: أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: بَلَى لِي عَبْدٌ بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَمَنْ لِي بِهِ وَرُبَّمَا، قَالَ سُفْيَانُ: أَيْ رَبِّ وَكَيْفَ لِي بِهِ، قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ حَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ وَرُبَّمَا، قَالَ: فَهُوَ ثَمَّهْ وَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ حَتَّى إِذَا أَتَيَا الصَّخْرَةَ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا فَرَقَدَ مُوسَى وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فَخَرَجَ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنِ الْحُوتِ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَقَالَ: هَكَذَا مِثْلُ الطَّاقِ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمَهُمَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، قَالَ: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ، قَالَ: لَهُ فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَلَهُمَا عَجَبًا، قَالَ: لَهُ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا رَجَعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ مُوسَى فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ: يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ، قَالَ: هَلْ أَتَّبِعُكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا إِلَى قَوْلِهِ إِمْرًا سورة الكهف آية 68 - 71 فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ كَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمَّا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ جَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، قَالَ لَهُ: الْخَضِرُ يَا مُوسَى مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ إِذْ أَخَذَ الْفَأْسَ فَنَزَعَ لَوْحًا، قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِلَّا وَقَدْ قَلَعَ لَوْحًا بِالْقَدُّومِ، فَقَالَ: لَهُ مُوسَى مَا صَنَعْتَ قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 72، قَالَ: لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73 فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا فَلَمَّا خَرَجَا مِنَ الْبَحْرِ مَرُّوا بِغُلَامٍ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَقَلَعَهُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَوْمَأَ سُفْيَانُ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهُ يَقْطِفُ شَيْئًا، فَقَالَ: لَهُ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 75، قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا {76} فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ سورة الكهف آية 75-76 مَائِلًا أَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَمْسَحُ شَيْئًا إِلَى فَوْقُ فَلَمْ أَسْمَعْ سُفْيَانَ يَذْكُرُ مَائِلًا إِلَّا مَرَّةً، قَالَ: قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُضَيِّفُونَا عَمَدْتَ إِلَى حَائِطِهِمْ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا سورة الكهف آية 78، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى كَانَ صَبَرَ فَقَصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا، قَالَ: سُفْيَانُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ 0 مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ 0، ثُمَّ قَالَ لِي سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، قِيلَ لِسُفْيَانَ حَفِظْتَهُ قَبْلَ أَنْ تَسْمَعَهُ مِنْ عَمْرٍو أَوْ تَحَفَّظْتَهُ مِنْ إِنْسَانٍ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَتَحَفَّظُهُ وَرَوَاهُ أَحَدٌ، عَنْ عَمْرٍو غَيْرِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ موسیٰ ‘ صاحب خضر بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے موسیٰ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دشمن اللہ نے بالکل غلط بات کہی ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ کیوں نہیں میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا آ کر ملتے ہیں وہاں رہتا ہے اور تم سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے رب العالمین! میں ان سے کس طرح مل سکوں گا؟ سفیان نے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے کہ اے رب! «وكيف لي به» اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی پکڑ کر اسے اپنے تھیلے میں رکھ لینا ‘ جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے بس میرا بندہ وہیں تم کو ملے گا۔ بعض دفعہ راوی نے (بجائے «فهو ثم» کے) «فهو ثمه» کہا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لے لی اور اسے ایک تھیلے میں رکھ لیا۔ پھر وہ اور ایک ان کے رفیق سفر یوشع بن نون روانہ ہوئے ‘ جب یہ چٹان پر پہنچے تو سر سے ٹیک لگالی ‘ موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی اور مچھلی تڑپ کر نکلی اور دریا کے اندر چلی گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ محراب کی طرح ہو گئی ‘ انہوں نے واضح کیا کہ یوں محراب کی طرح۔ پھر یہ دونوں اس دن اور رات کے باقی حصے میں چلتے رہے ‘ جب دوسرا دن آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر سے فرمایا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ کیونکہ ہم اپنے سفر میں بہت تھک گئے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکان محسوس نہیں کی تھی جب تک وہ اس مقررہ جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے رفیق نے کہا کہ دیکھئیے تو سہی جب چٹان پر اترے تھے تو میں مچھلی (کے متعلق کہنا) آپ سے بھول گیا اور مجھے اس کی یاد سے شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو وہیں (چٹان کے قریب) دریا میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنا لیا تھا۔ مچھلی کو تو راستہ مل گیا اور یہ دونوں حیران تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں اسی راستے سے پیچھے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ اپنا سارا جسم ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا پھر کہا کہ تمہارے خطے میں سلام کا رواج کہاں سے آ گیا؟ موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا ‘ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں۔ میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم نافع سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے اور آپ اس کو نہیں جانتے۔ اسی طرح آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اسے نہیں جانتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے اور واقعی آپ ان کاموں کے بارے میں صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إمرا‏» تک آخر موسیٰ اور خضر علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے چلے۔ پھر ان کے قریب سے ایک کشتی گزری۔ ان حضرات نے کہا کہ انہیں بھی کشتی والے کشتی پر سوار کر لیں۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کوئی مزدوری لیے بغیر ان کو سوار کر لیا۔ جب یہ حضرات اس پر سوار ہو گئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے اور آپ کے علم کی وجہ سے اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں ہوئی جتنی اس چڑیا کے دریا میں چونچ مارنے سے دریا کے پانی میں کمی ہوئی ہو گی۔ اتنے میں خضر علیہ السلام نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو نظر اٹھائی تو وہ اپنی کلہاڑی سے تختہ نکال چکے تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا انہیں کی کشتی پر آپ نے بری نظر ڈالی اور اسے چیر دیا کہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے نہایت ناگوار کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ (یہ بے صبری اپنے وعدہ کو بھول جانے کی وجہ سے ہوئی ‘ اس لیے) آپ اس چیز کا مجھ سے مواخذہ نہ کریں جو میں بھول گیا تھا اور میرے معاملے میں تنگی نہ فرمائیں۔ یہ پہلی بات موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوئی تھی پھر جب دریائی سفر ختم ہوا تو ان کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے (دھڑ سے) جدا کر دیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے (جدا کرنے کی کیفیت بتانے کے لیے) اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے ایک جان کو ضائع کر دیا۔ کسی دوسری جان کے بدلے میں بھی یہ نہیں تھا۔ بلاشبہ آپ نے ایک برا کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اچھا اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو پھر آپ مجھے ساتھ نہ لے چلئے گا، بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ پھر یہ دونوں آگے بڑھے اور جب ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنا لیں ‘ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ سفیان نے (کیفیت بتانے کے لیے) اس طرح اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز اوپر کی طرف پھیر رہے ہوں۔ میں نے سفیان سے «مائلا» کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ تو ایسے تھے کہ ہم ان کے یہاں آئے اور انہوں نے ہماری میزبانی سے بھی انکار کیا۔ پھر ان کی دیوار آپ نے ٹھیک کر دی ‘ اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت ان سے لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گئی جن باتوں پر آپ صبر نہیں کر سکتے ‘ میں ان کی تاویل و توجیہ اب تم پر واضح کر دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری تو خواہش یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ تکوینی واقعات ہمارے لیے بیان کرتا۔ سفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ‘ اگر انہوں نے صبر کیا ہوتا تو ان کے (مزید واقعات) ہمیں معلوم ہوتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (جمہور کی قرآت «ودرائهم» کے بجائے) «أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا» پڑھا ہے۔ اور وہ بچہ (جس کی خضر علیہ السلام نے جان لی تھی) کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔ پھر مجھ سے سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی اور انہیں سے (سن کر) یاد کی تھی۔ سفیان نے کسی سے پوچھا تھا کہ کیا یہ حدیث آپ نے عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے ہی کسی دوسرے شخص سے سن کر (جس نے عمرو بن دینار سے سنی ہو) یاد کی تھی؟ یا (اس کے بجائے یہ جملہ کہا) «تحفظته من إنسان» دو مرتبہ (شک علی بن عبداللہ کو تھا) تو سفیان نے کہا کہ دوسرے کسی شخص سے سن کر میں یاد کرتا ‘ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے بھی روایت کیا ہے؟ میں نے ان سے یہ حدیث دو یا تین مرتبہ سنی اور انہیں سے سن کر یاد کی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3401]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: نوف بکالی کہتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام جو حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ ہیں وہ بنی اسرائیل کے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔ ہمیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے تقریر کر رہے تھے کہ ان سے دریافت کیا گیا: کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں (سب سے بڑا عالم ہوں)۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوا کہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ کی طرف کیوں نہیں کی اور فرمایا: کیوں نہیں، میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا ملتے ہیں وہ وہاں رہتا ہے، وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے اس تک پہنچنے کا کون ضامن ہے؟ کبھی سفیان نے یوں کہا: میں ان سے کس طرح ملاقات کروں گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک مچھلی لو اور اسے (بھون کر) اپنے توشہ دان (ٹوکری) میں رکھ لو، جہاں تم سے وہ مچھلی گم ہو جائے بس وہ میرا بندہ وہیں ہوگا، چنانچہ انہوں نے ایک مچھلی لی اور اسے ٹوکری میں رکھ لیا۔ پھر وہ اور ان کے خادم یوشع بن نون سفر پر روانہ ہوئے حتیٰ کہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں آرام کرنے کے لیے دونوں نے اپنے سر اس پر رکھ دیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہاں نیند آ گئی۔ اس دوران میں مچھلی نے حرکت کی، توشہ دان سے باہر نکلی اور سمندر کے اندر چلی گئی۔ اس نے سمندر میں اپنا راستہ سرنگ جیسا بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کا بہاؤ روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے بتایا کہ ایسے طاق کی طرح ہو گیا۔ پھر وہ دونوں حضرات باقی رات چلتے رہے حتیٰ کہ جب دوسرا دن ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: ناشتہ لاؤ ہمیں تو اس سفر میں بڑی تھکاوٹ محسوس ہوئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کی جب تک وہ اس مقرر جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔ خادم نے کہا: دیکھئے جہاں ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تھا وہاں میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے اس کے بارے میں شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنایا تھا۔ مچھلی کے لیے تو جانے کا راستہ تھا لیکن ان دونوں کے لیے تعجب کا باعث بن گیا۔ وہ دونوں حیران تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم دونوں نکلے تھے، چنانچہ یہ دونوں اسی راستے سے پہلے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان کے پاس پہنچے تو ایک بزرگ اپنا سارا بدن ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کہا اور انہوں نے اس کا جواب دیا، پھر کہا کہ تمہاری سر زمین میں سلام کہاں سے آیا؟ فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا: ہاں (وہی ہوں) میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم ہدایت سکھائیں جو آپ کو سکھلایا گیا ہے۔ وہ فرمانے لگے: اے موسیٰ! میں اللہ کی طرف سے ایک ایسے علم کا حامل ہوں جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے آپ اسے نہیں جانتے اور آپ اللہ کی طرف سے ایک ایسے علم شریعت کے حامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے میں اسے نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: آپ ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ واقعی آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا۔۔۔ «أَمْرًا» تک؟ پھر دونوں حضرات ساحل سمندر پر چل پڑے تو ان کے قریب سے ایک کشتی گزری۔ انہوں نے ان (کشتی والوں) سے بات چیت کی کہ ان کو بھی سوار کر لیں تو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کرایہ لیے بغیر انہیں سوار کر لیا۔ جب یہ حضرات اس میں سوار ہو گئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم سے اتنی بھی کمی نہیں کر پایا جس قدر اس چڑیا نے اپنی چونچ سے سمندر کے پانی میں کمی کی ہے۔ اس دوران میں حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کے ذریعے سے کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا۔ اچانک موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ کلہاڑی سے کشتی کا ایک تختہ اکھڑ چکا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے ہم سے کرایہ لیے بغیر ہمیں کشتی میں سوار کیا۔ آپ نے دانستہ تختہ نکال کر کشتی میں شگاف کر دیا تاکہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں، اس طرح آپ نے نہایت ہی ناگواری کا کام سرانجام دیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بھول چوک پر آپ میری گرفت نہ کریں اور میرے معاملے میں مجھ پر تنگی نہ فرمائیں۔ یہ پہلی غلطی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوئی تھی، چنانچہ جب سمندری سفر ختم ہوا تو ان دونوں کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اسے دھڑ سے جدا کر دیا۔ راویِ حدیث سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے قتل کر دیا ہے، اس طرح آپ نے ایک ناپسندیدہ حرکت کی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے آپ کو پہلے سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو آپ مجھے ساتھ نہ لے جائیں، میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہو چکا ہے، چنانچہ وہ دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے، ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے میزبانی سے انکار کر دیا۔ ان حضرات کو بستی میں ایک ایسی دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے اسے اپنے ہاتھ سے سیدھا کر دیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ جھک رہی تھی، انہوں نے اشارہ کیا کہ گویا وہ کسی چیز کو اوپر کی طرف پھیر رہے ہیں۔ میں نے سفیان سے «مَائِلًا» کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا ہے۔۔۔ بہرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم ان لوگوں کے پاس آئے، انہوں نے نہ تو ہمیں کھانا کھلایا اور نہ میزبانی ہی کا حق ادا کیا، آپ نے مفت میں ان کی دیوار درست کر دی، آپ چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے سکتے تھے؟ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہوگی، آپ جن باتوں پر صبر نہیں کر سکے میں اب آپ کو ان کی حقیقت بتاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، اگر وہ تھوڑا سا صبر کر لیتے تو اللہ تعالیٰ ہم سے ان کا مزید حال بیان کرتا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بایں طور پر اس آیت کو پڑھا ہے: ﴿وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا﴾ [سورة الكهف: 79] ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح و سالم کشتی ان سے چھین لیتا تھا۔ اور ﴿وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ﴾ [سورة الكهف: 80] اور وہ لڑکا کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔ سفیان نے مجھ سے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو دفعہ سنی اور انہی سے یاد کی۔ سفیان سے پوچھا گیا: کیا عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے آپ نے اس کو یاد کر لیا تھا یا کسی اور انسان سے اسے یاد کیا ہے؟ سفیان نے کہا: میں کس سے اس حدیث کو یاد کرتا؟ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے روایت کیا ہے؟ میں نے ہی اسے عمرو بن دینار سے دو بار یا تین بار سنا اور اس کو ان سے یاد کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبِهَانِيِّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ مِنْ خَلْفِهِ خَضْرَاءَ".
ہم سے محمد بن سعید اصبہانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خضر علیہ السلام کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سوکھی زمین (جہاں سبزی کا نام بھی نہ تھا) پر بیٹھے۔ لیکن جوں ہی وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3402]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خضر علیہ السلام کا نام اس لیے خضر رکھا گیا کہ وہ ایک مرتبہ خشک زمین پر بیٹھے، جب وہاں سے اٹھے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔ علی بن خشرم رحمہ اللہ نے حضرت سفیان رحمہ اللہ کے حوالے سے طویل حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3402]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3403
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ".
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے ‘ ان سے ہمام بن منبہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ بیت المقدس میں سجدہ و رکوع کرتے ہوئے داخل ہوں اور یہ کہتے ہوئے کہ یا اللہ! ہم کو بخش دے۔ لیکن انہوں نے اس کو الٹا کیا اور اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے «حبة في شعرة» (یعنی بالیوں میں دانے خوب ہوں) داخل ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3403]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ اور ﴿حِطَّةٌ﴾ [سورة البقرة: 58] کہو، یعنی ہمارے گناہ معاف کر دے۔ انہوں نے اسے تبدیل کر دیا اور اپنے سرینوں کو گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے جبکہ زبان سے «حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ» کہہ رہے تھے، اس کے معنی ہیں: بالیوں میں دانے خوب ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3403]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں