🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ}:
باب: (یوسف علیہ السلام کا بیان) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں پوچھنے والوں کیلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3389
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتِ قَوْلَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا أَوْ كُذِبُوا، قَالَتْ: بَلْ كَذَّبَهُمْ قَوْمُهُمْ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ وَمَا هُوَ بِالظَّنِّ، فَقَالَتْ: يَا عُرَيَّةُ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ، قُلْتُ: فَلَعَلَّهَا أَوْ كُذِبُوا، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا وَأَمَّا هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَتْ: هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَتْ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنُّوا أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ اسْتَيْأَسُوا سورة يوسف آية 80 افْتَعَلُوا مِنْ يَئِسْتُ مِنْهُ سورة يوسف آية 80مِنْ يُوسُفَ وَلا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ سورة يوسف آية 87 مَعْنَاهُ الرَّجَاءُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے متعلق پوچھا «حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا‏» (تشدید کے ساتھ «كُذِّبُوا») ہے یا «كُذِبُوا» (بغیر تشدید کے) یعنی یہاں تک کہ جب انبیاء ناامید ہو گئے اور انہیں خیال گزرنے لگا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا تو اللہ کی مدد پہنچی تو انہوں نے کہا کہ (یہ تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ہی کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر قرآن میں لفظ «ظن‏.‏» گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے چھوٹے سے عروہ! بیشک ان کو تو یقین تھا۔ میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے «كذبوا‏» ہو گا یعنی پیغمبر یہ سمجھے کہ اللہ نے جو ان کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذاللہ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک اللہ کی آزمائش رہی اور مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ہو گئے (سمجھے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے) اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ہیں وہ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ «استيأسوا‏»، «افتعلوا» کے وزن پر ہے جو «يئست‏.‏ ‏منه‏» سے نکلا ہے۔ «اى من يوسف‏.‏» (سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملہ ہے یعنی زلیخا یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئی۔) «لا تيأسوا من روح الله‏» » ‏‏‏‏ (سورۃ یوسف: 87) یعنی اللہ سے امید رکھو ناامید نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3389]
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت ﴿حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ﴾ [سورة يوسف: 110] کے متعلق سوال کیا کہ اس میں «كُذِّبُوا» تشدید کے ساتھ ہے یا بغیر تشدید کے؟ انہوں نے فرمایا: (تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! انہیں تو یقین تھا کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے، پھر لفظ «ظَنُّوا» کیوں استعمال ہوا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے چھوٹے سے عروہ! بلاشبہ ان کو تو اس کا یقین تھا۔ میں نے عرض کیا: شاید یہ لفظ تشدید کے بغیر «كُذِبُوا» ہو، یعنی پیغمبروں نے خیال کیا کہ ان کے ساتھ جو مدد کا وعدہ کیا گیا تھا وہ صحیح نہیں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذ اللہ! انبیائے کرام اپنے رب کے متعلق ایسا گمان ہرگز نہیں کر سکتے، البتہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ رسولوں کے اتباع (پیروکار) جو ان پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے اپنے رسول کی تصدیق کی تھی، وہ جب عرصہ دراز تک آزمائش میں رہے اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوئی اور انبیائے کرام بھی اپنی قوم کے جھٹلانے والوں (کے ایمان لانے) سے ناامید ہو گئے، تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ انہیں ماننے والے ہیں اب وہ بھی انہیں جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی مدد آپہنچی۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: «اسْتَيْأَسُوا» «اسْتَفْعَلُوا» کے وزن پر ہے جو «يَئِسْتُ مِنْهُ» سے نکلا ہے۔ برادرانِ یوسف، حضرت یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئے تھے۔ ﴿وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ﴾ [سورة يوسف: 87] اللہ کی رحمت سے ناامید نہ رہو بلکہ امیدوار رہو۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَام".
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3390]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ» شریف بن شریف بن شریف بن شریف حضرت یوسف علیہ السلام بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور ایوب کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بیماری نے آ گھیرا ہے اور تو «أرحم الراحمين» ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3391
{ارْكُضْ} اضْرِبْ. {يَرْكُضُونَ} يَعْدُونَ.
‏‏‏‏ جو (سورۃ ص میں) «اركض‏ برجلك» بمعنی «اضرب‏» (یعنی اپنا پاؤں زمین پر مار) «يركضون‏» بمعنی «يعدون‏» (سورۃ انبیاء میں، یعنی دوڑتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3391]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3391
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو (سونے کی ٹڈیاں) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3391]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی بہت سی ٹڈیاں گریں، وہ انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے تو ان کے رب نے انہیں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے ان چیزوں سے بے پرواہ نہیں کر دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو؟ حضرت ایوب علیہ السلام نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کس طرح بے پرواہ ہو سکتا ہوں؟ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3391]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: {وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلِصًا وَكَانَ رَسُولاً نَبِيًّا وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} كَلَّمَهُ:
باب: (سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ”اور یاد کرو کتاب میں موسیٰ علیہ السلام کو کہ وہ چنا ہوا بندہ، رسول و نبی تھا اور ہم نے طور کی داہنی طرف سے انہیں آواز دی اور سرگوشی کے لیے انہیں نزدیک بلایا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3392
وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا سورة مريم آية 53 يُقَالُ لِلْوَاحِدِ وَللْاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ نَجِيٌّ وَيُقَالُ خَلَصُوا نَجِيًّا اعْتَزَلُوا نَجِيًّا وَالْجَمِيعُ أَنْجِيَةٌ يَتَنَاجَوْنَ.
‏‏‏‏ اور ان کے لیے اپنی مہربانی سے ہم نے ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو نبی بنایا۔ واحد ‘ تثنیہ اور جمع سب کے لیے لفظ «نجي‏.‏» بولا جاتا ہے۔ سورۃ یوسف میں ہے۔ «خلصوا نجيا.‏» یعنی اکیلے میں جا کر مشورہ کرنے لگے (اگر «نجي‏.‏» کا لفظ مفرد کے لیے استعمال ہوا ہو تو) اس کی جمع «أنجية‏» ہو گی۔ سورۃ المجادلہ میں لفظ «يتناجون» بھی اسی سے نکلا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3392]

23. بَابُ: {وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ} إِلَى قَوْلِهِ: {مُسْرِفٌ كَذَّابٌ}:
باب: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ”اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد (شمعان نامی) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «مسرف كذاب» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:"فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ رَجُلًا تَنَصَّرَ يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ، فَقَالَ:" وَرَقَةُ مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى وَإِنْ أَدْرَكَنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا النَّامُوسُ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (غار حراء سے) ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھڑک رہا تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ ورقہ نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ «ناموس» جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا۔ «ناموس» محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3392]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (وحی آنے کے بعد) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مبارک لرز رہا تھا، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ وہ شخص نصرانی ہو گیا تھا اور انجیل کا عربی زبان میں ترجمہ کرتا تھا، ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ نے کیا دیکھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ ورقہ نے کہا: یہ تو وہی «النَّامُوسُ» راز دان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۔ اگر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ (ظہور نبوت) مل گیا تو میں آپ کی بھر پور مدد کروں گا۔ «النَّامُوسُ» ناموس، اس راز دان کو کہتے ہیں جو دوسروں سے راز میں رکھتے ہوئے کسی چیز کی اطلاع دے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى إِذْ رَأَى نَارًا} إِلَى قَوْلِهِ: {بِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ طُوًى}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) فرمان فرمانا ”اے نبی تو نے موسیٰ کا قصہ سنا ہے جب انہوں نے آگ دیکھی“ آخر آیت «بالوادي المقدس طوى‏» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3393
آنَسْتُ سورة طه آية 10 أَبْصَرْتُ نَارًا لَعَلِّي آتِيكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ سورة طه آية 10 الْآيَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْمُقَدَّسُ الْمُبَارَكُ طُوًى اسْمُ الْوَادِي سِيرَتَهَا سورة طه آية 21 حَالَتَهَا وَ النُّهَى سورة طه آية 54 التُّقَى بِمَلْكِنَا سورة طه آية 87 بِأَمْرِنَا هَوَى سورة طه آية 81 شَقِيَ فَارِغًا سورة القصص آية 10 إِلَّا مِنْ ذِكْرِ مُوسَى رِدْءًا سورة القصص آية 34 كَيْ يُصَدِّقَنِي وَيُقَالُ مُغِيثًا أَوْ مُعِينًا يَبْطُشُ وَيَبْطِشُ يَأْتَمِرُونَ سورة القصص آية 20 يَتَشَاوَرُونَ وَالْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ سَنَشُدُّ سورة القصص آية 35 سَنُعِينُكَ كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا وَقَالَ غَيْرُهُ كُلَّمَا لَمْ يَنْطِقْ بِحَرْفٍ أَوْ فِيهِ تَمْتَمَةٌ أَوْ فَأْفَأَةٌ فَهِيَ عُقْدَةٌ أَزْرِي سورة طه آية 31 ظَهْرِي فَيُسْحِتَكُمْ سورة طه آية 61 فَيُهْلِكَكُمْ الْمُثْلَى سورة طه آية 63 تَأْنِيثُ الْأَمْثَلِ، يَقُولُ: بِدِينِكُمْ، يُقَالُ: خُذْ الْمُثْلَى خُذْ الْأَمْثَلَ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا سورة طه آية 64 يُقَالُ: هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَّ الْيَوْمَ يَعْنِي الْمُصَلَّى الَّذِي يُصَلَّى فِيهِ فَأَوْجَسَ سورة طه آية 67 أَضْمَرَ خَوْفًا فَذَهَبَتِ الْوَاوُ مِنْ خِيفَةً سورة طه آية 67 لِكَسْرَةِ الْخَاءِ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ سورة طه آية 71 عَلَى جُذُوعِ خَطْبُكَ سورة طه آية 95 بَالُكَ مِسَاسَ سورة طه آية 97 مَصْدَرُ مَاسَّهُ مِسَاسًا لَنَنْسِفَنَّهُ سورة طه آية 97 لَنُذْرِيَنَّهُ الضَّحَاءُ الْحَرُّ قُصِّيهِ سورة القصص آية 11 اتَّبِعِي أَثَرَهُ وَقَدْ يَكُونُ أَنْ تَقُصَّ الْكَلَامَنَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ سورة يوسف آية 3 عَنْ جُنُبٍ سورة القصص آية 11 عَنْ بُعْدٍ وَعَنْ جَنَابَةٍ وَعَنِ اجْتِنَابٍ وَاحِدٌ، قَالَ مُجَاهِدٌ: عَلَى قَدَرٍ سورة طه آية 40مَوْعِدٌ وَلا تَنِيَا سورة طه آية 42 لَا تَضْعُفَا يَبَسًا سورة طه آية 77 يَابِسَا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ سورة طه آية 87 الْحُلِيِّ الَّذِي اسْتَعَارُوا مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ فَقَذَفْتُهَا أَلْقَيْتَهَا أَلْقَى سورة طه آية 87 صَنَعَ فَنَسِيَ سورة طه آية 88 مُوسَى هُمْ يَقُولُونَهُ: أَخْطَأَ الرَّبَّ أَنْ لَا يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ، قَوْلًا: فِي الْعِجْلِ.
‏‏‏‏ «آنست‏» کا معنی میں نے آگ دیکھی (تم یہاں ٹھہرو) میں اس میں سے ایک چنگاری تمہارے پاس لے آؤں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ‘ «مقدس» کا معنی مبارک۔ «طوى‏» اس وادی کا نام تھا جہاں اللہ پاک نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا۔ «سيرتها‏» یعنی پہلی حالت پر۔ «النهى‏» یعنی پرہیزگاری۔ «بملكنا‏» یعنی اپنے اختیار سے۔ «هوى‏» یعنی بدبخت ہوا۔ «فارغا‏» یعنی موسیٰ کے سوا اور کوئی خیال دل میں نہ رہا۔ «ردءا» یعنی فریاد رس یا مددگار۔ «يبطش بضم طا» اور «يبطش بكسر طا» دونوں طرح قرآت ہے۔ «يأتمرون‏» یعنی مشورہ کرتے ہیں۔ «جذوة» یعنی لکڑی کا ایک موٹا ٹکڑا جس میں سے آگ کا شعلہ نہ نکلے (صرف اس کے منہ پر آگ روشن ہو)۔ «سنشد‏ عضدك» یعنی تیری مدد کریں گے۔ جب تو کسی چیز کو زور دے گویا تو نے اس کو «عضد» بازو دیا۔ (یہ سب تفسیریں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں) اوروں نے کہا «عقدة» کا معنی یہ ہے کہ زبان سے کوئی حرف یہاں تک کہ ت یا ف بھی نہ نکل سکے۔ «أزري‏» یعنی پیٹھ «فيسحتكم‏» یعنی تم کو ہلاک کرے۔ «المثلى‏»، «الأمثل» کی مونث ہے، یعنی تمہارا دین خراب کرنا چاہتے ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں «خذ المثلى،‏‏‏‏ خذ الأمثل‏.‏» یعنی اچھی روش ‘ اچھا طریقہ سنبھال۔ «ثم ائتوا صفا‏» یعنی قطار باندھ کر آؤ۔ عرب لوگ کہتے ہیں آج تو «صف» میں گیا یا نہیں یعنی نماز کے مقام پر۔ «فأوجس‏» یعنی موسیٰ کا دل دھڑکنے لگا «خيفة‏» کی اصل «خوفة‏» تھی واؤ کی بوجہ «كسره ما قبل» کے ی سے بدل دیا گیا۔ «في جذوع النخل‏» یعنی «على جذوع النخل‏» ۔ «خطبك‏» یعنی تیرا حال۔ «مساس‏» مصدر ہے «ماسه» «مساسا» سے۔ «لا مساس‏» یعنی تجھ کو نہ چھوئے ‘ نہ تو کسی کو چھوئے۔ «لننسفنه‏» یعنی ہم اس کو راکھ کر کے دریا میں اڑا دیں گے۔ «لا تضحي» «ضحى» سے ہے، یعنی گرمی۔ «قصيه‏» یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا کبھی «قصص» کا معنی کہنا اور بیان کرنا بھی آتا ہے۔ (سورۃ یوسف میں) اسی سے «نحن نقص عليك‏» ہے۔ لفظ «عن جنب‏» اور «عن جنابة» اور «عن اجتناب» سب کا معنی ایک ہی ہے، یعنی دور سے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے کہا «على قدر‏» یعنی وعدے پر۔ «لا تنيا‏» یعنی سستی نہ کرو۔ «يبسا‏» یعنی خشک۔ «من زينة القوم‏» یعنی زیور میں سے جو بنی اسرائیل نے فرعون والوں سے مانگ کر لیے تھے۔ «فقذفتها‏» یعنی میں نے اس کو ڈال دیا۔ «ألقى‏» یعنی بنایا۔ «فنسي‏» اس کا مطلب یہ ہے کہ سامری اور اس کے لوگ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے غلطی کی جو اس بچھڑے کو خدا نہ سمجھ کر دوسری جگہ چل دیا۔ «أن لا يرجع إليهم قولا» یعنی وہ بچھڑا ان کی بات کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3393]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3393
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَإِذَا هَارُونُ، قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ"، تَابَعَهُ ثَابِتٌ وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں ‘ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: خوش آمدید ‘ صالح بھائی اور صالح نبی۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3393]
حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس رات کے متعلق بتایا جس میں آپ کو سیر کرائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانچویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ہارون علیہ السلام ہیں ان کو سلام کریں۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: اے برادرِ محترم و نبیِ مکرم! خوش آمدید۔ ثابت اور عباد بن ابو علی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے میں قتادہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3393]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى}، {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) فرمان ”اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور (سورۃ نساء میں) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3394
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا هُوَ رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ، فَقَالَ: اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ: أَخَذْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا (دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3394]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی تو میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ ایک دبلے پتلے، سیدھے بالوں والے آدمی ہیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ سے ہوں۔ اور میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا، وہ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف ہیں جیسے ابھی غسل خانے سے نکلے ہوں۔ اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ان کے ساتھ نہایت بہت ملتا جلتا ہوں۔ اس دوران میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ ان میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ ان میں سے جسے چاہیں نوش کریں۔ میں نے دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیا اور اسے نوش کیا۔ تو مجھ سے کہا گیا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔ اگر آپ شراب پیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3395
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ، يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالعالیہ نے بیان کیا اور ان سے تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کو یوں نہ کہنا چاہئے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ان کے والد کی طرف منسوب کر کے لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3395]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف منسوب کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں