🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ تَعَرُّقِ الْعَضُدِ:
باب: بازو کا گوشت نوچ کر کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5406
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَكَّةَ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) دوسری سند (حدیث دیکھیں 5407) [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5406]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5406]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5407
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ، فَالْتَفَتُّ، فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ، فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَغَضِبْتُ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا، ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ، فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ، فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، مِثْلَهُ.
اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا۔ ان لوگوں نے مجھے اس گورخر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اتر کر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس (شکار کا گوشت) کھانا کیسا ہے؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5407]
حضرت ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک مقام پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ دیگر تمام صحابہ احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر دیکھا۔ میں اس وقت اپنے جوتے گانٹھنے میں مصروف تھا انہوں نے مجھے گورخر کے متعلق کچھ نہ بتایا لیکن وہ چاہتے تھے کہ میں اس کی طرف دیکھ لوں اچانک میں ادھر متوجہ ہوا تو وہ مجھے نظر آ گیا۔ پھر میں اپنے گھوڑے کی طرف گیا، اس پر زین رکھی اور سوار ہو گیا لیکن اپنا کوڑا اور نیزہ نیچے بھول گیا میں نے ان سے کہا: مجھے نیزہ اور کوڑا پکڑا دو۔ انہوں نے کہا: ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! ہم اس (شکار کے) معاملے میں تمہاری کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے۔ میں یہ سن کر غصے سے بھر گیا چنانچہ میں نے اتر کر یہ دونوں چیزیں اٹھائیں، پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور اس کے پاؤں کاٹ ڈالے پھر میں اس کو لایا تو وہ ختم ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے پکا لیا تو کھانے میں سب شریک ہو گئے۔ بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں انہیں اسے کھانے کی اجازت بھی تھی؟ چنانچہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اس کے بازو کا گوشت چھپا کر رکھا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ شانہ پیش کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا یہاں تک کہ اس کے گوشت کو دانتوں سے نوچ کر ہڈی کو ننگا کر دیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ قَطْعِ اللَّحْمِ بِالسِّكِّينِ:
باب: گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5408
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے گوشت اور وہ چھری جس سے گوشت کی بوٹی کاٹ رہے تھے، ڈال دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ نے نیا وضو نہیں کیا (کیونکہ آپ پہلے ہی وضو کئے ہوئے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5408]
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں بکری کا شانہ تھا جسے آپ چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے۔ پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے وہ شانہ اور چھری جس سے گوشت کاٹ رہے تھے دونوں کو پھینک دیا، پھر کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5408]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قسم کے کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوا تو کھا لیا اور اگر ناپسند ہوا تو چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5409]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا، اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5409]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ النَّفْخِ فِي الشَّعِيرِ:
باب: جَو کو پیس کر منہ سے پھونک کر اس کا بھوسہ اڑا دینا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5410
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَهْلًا:" هَلْ رَأَيْتُمْ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟ قَالَ: لَا، فَقُلْتُ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَنْخُلُونَ الشَّعِيرَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ كُنَّا نَنْفُخُهُ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان (محمد بن مطرف لیثی) نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میدہ دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، میں نے پوچھا کیا تم جَو کے آٹے کو چھانتے تھے؟ کہا نہیں، بلکہ ہم اسے صرف پھونک لیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5410]
حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میدے کی روٹی دیکھی تھی؟ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے پوچھا: کیا تم جو کا آٹا چھانتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ اسے پھونک مار لیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خوارک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5411
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا شَدَّتْ فِي مَضَاغِي".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں۔ ان میں ایک خراب تھی (اور سخت تھی) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5411]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کھجوریں تقسیم کیں تو ہر صحابی کو سات، سات کھجوریں عنایت فرمائیں، میرے حصے میں جو سات کھجوریں آئیں ان میں سے ایک تو بہت ردی قسم کی تھی لیکن سب سے زیادہ پسند بھی مجھے یہی کھجور تھی کیونکہ وہ چبانے میں سخت واقع ہوئی تھی، یعنی اسے میں دیر تک چباتا رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5411]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5412
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ أَوِ الْحَبَلَةِ حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا مَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سات آدمیوں میں سے ساتواں پایا (جنہوں نے اسلام سب سے پہلے قبول کیا تھا) اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے یہی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پاخانہ بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ بنی اسد قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں۔ اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ بنی اسد کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہی ہو گیا میری محنت برباد ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5412]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آدمیوں میں سے ساتواں تھا۔ ان دنوں ہمارا کھانا خار دار درخت کی پتیاں ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے ہم بکریوں کی طرح مینگنیاں کیا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ قبیلہ بنو اسد مجھے اسلام کے احکام سکھاتا ہے، اگر واقعی ایسا ہے تو میں خسارے میں رہا اور میری ساری کوشش ضائع ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5412]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5413
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَقُلْتُ: هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟ قَالَ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا۔ میں نے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے پوچھا آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جَو کس طرح کھاتے تھے؟ بتلایا ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑ جاتا اور جو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے (اور پکا کر) کھا لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5413]
حضرت ابوحازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدے کی روٹی کھائی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے، آپ نے میدے کی روٹی دیکھی تک نہیں حتیٰ کہ آپ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں چھانٹنیاں ہوتی تھیں؟ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: زمانہِ بعثت سے لے کر مرتے دم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھاننی نہیں دیکھی۔ ابوحازم کہتے ہیں پھر میں نے سوال کیا: پھر تم بنا چھنے جو کا آٹا کیسے کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم انہیں پیستے تھے پھر اسے پھونک لیا کرتے تھے، اس سے جو کچھ اڑتا ہوتا اڑ جاتا، جو باقی رہتا اسے پانی سے گوندھ لیتے اور اس کی روٹی پکا کر لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5413]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5414
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ".
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی۔ انہوں نے ان کو کھانے پر بلایا لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے کبھی جَو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5414]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی، انہوں نے آپ کو دعوت دی تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن کبھی جو کی روٹی بھی آپ نے پیٹ بھر کر نہ کھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5415
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكْرُجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ، قُلْتُ لِقَتَادَةَ: عَلَى مَا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس بن ابی الفرات نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ تشتری میں دو چار قسم کی چیزیں رکھ کر کھائیں اور نہ کبھی چپاتی کھائی۔ میں نے قتادہ سے پوچھا، پھر آپ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ بتلایا کہ سفرہ (چمڑے کے دستر خوان) پر۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5415]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو میز پر رکھ کر کھانا کھایا اور نہ چھوٹے چھوٹے پیالوں کو کھانے میں استعمال کیا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باریک چپاتی ہی پکائی گئی۔ (راویِ حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے قتادہ سے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: چمڑے کے دستر خوان پر کھانا رکھ کر اسے تناول فرماتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5415]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں