🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب صلاة الاستسقاء
نماز استسقاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 409
وعنه رضي الله عنه أن عمر رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب وقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا فيسقون. رواه البخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہو جاتے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنا کر بارش طلب فرماتے تھے اور یوں دعا کرتے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بارش طلب کرتے تھے تو ہمیں باران رحمت سے نواز دیتا تھا اور اب ہم تیرے حضور تیرے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چچا کو بطور وسیلہ لائے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش سے سیراب فرما دے (اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں) ان کو بارش سے سیراب کیا جاتا تھا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 409]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «كَانَ إِذَا قَحَطُوا» جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے – «اسْتَسْقَى» تو بارش کی دعا کرتے – «بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے (ان سے دعا کروا کر) – «وَقَالَ» اور کہتے: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «إِنَّا كُنَّا» بے شک ہم – «نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ» تیری طرف وسیلہ بناتے تھے – «بِنَبِيِّنَا» اپنے نبی (کی دعا) کو – «فَتَسْقِينَا» تو تو ہمیں بارش دیتا تھا – «وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ» اور اب ہم تیری طرف وسیلہ بناتے ہیں – «بِعَمِّ نَبِيِّنَا» اپنے نبی کے چچا (کی دعا) کو – «فَاسْقِنَا» پس ہمیں بارش دے – «فَيُسْقَوْنَ» تو انہیں بارش دی جاتی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (سے دعا کروا کر ان) کے ذریعے بارش طلب کرتے اور کہتے: اے اللہ! ہم (پہلے) اپنے نبی (کی دعا) کو تیری طرف وسیلہ بناتے تھے تو تو ہمیں بارش عطا فرماتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کے چچا (کی دعا) کو تیری طرف وسیلہ بناتے ہیں، پس ہمیں بارش عطا فرما۔ چنانچہ انہیں بارش دی جاتی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، حديث:1010.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 410
وعنه رضي الله عنه قال: أصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مطر قال فحسر ثوبه حتى أصابه من المطر وقال: «‏‏‏‏إنه حديث عهد بربه» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ ہم ایک دفعہ بارش کی لپیٹ میں آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا اوپر اٹھایا کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور ارشاد فرمایا کہ ”یہ اپنے آقا و مالک کے ہاں سے نئی نئی (تحفہ کی صورت میں) آ رہی ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 410]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَصَابَنَا» ہمیں پہنچی – «وَنَحْنُ» جبکہ ہم – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ تھے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَطَرٌ» بارش – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَحَسَرَ» تو آپ نے ہٹا دیا – «ثَوْبَهُ» اپنا کپڑا – «حَتَّى أَصَابَهُ» یہاں تک کہ آپ کو لگی – «مِنَ الْمَطَرِ» بارش – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّهُ» بے شک یہ – «حَدِيثُ عَهْدٍ» تازہ تازہ آئی ہے – «بِرَبِّهِ» اپنے رب کے پاس سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو آپ نے اپنا کپڑا (جسم سے) ہٹا دیا یہاں تک کہ بارش آپ کے جسم پر پڑی، اور فرمایا: ”یہ اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 411
وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا رأى المطر قال: «‏‏‏‏اللهم صيبا نافعا» . أخرجاه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو اس طرح دعا مانگتے۔ «اللهم صيبا نافعا» ”اے اللہ! اس بارش کو منافع بخش و سود مند بنا دے۔ “ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 411]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ إِذَا رَأَى» جب دیکھتے – «الْمَطَرَ» بارش – «قَالَ» تو فرماتے: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «صَيِّبًا» (اسے) زور سے برسنے والی – «نَافِعًا» نفع دینے والی (بنا)۔ – «أَخْرَجَاهُ» اسے ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت کیا ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! (اسے) خوب برسنے والی نفع بخش بارش بنا۔“ اسے دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستسقاء، باب ما يقال إذا أمطرت، حديث:1032، ومسلم، صلاة الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم....، حديث:899.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 412
وعن سعد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم دعا في الاستسقاء: «‏‏‏‏اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» .‏‏‏‏ رواه أبو عوانة في صحيحه.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء میں یہ دعا مانگی «اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» ”یا الٰہی! ہمیں ایسے بادل سے جو ساری زمین پر چھایا ہوا ہو، گہرا ہو، کڑکنے والا، زور سے برسنے والا، چمکنے گرجنے والا، تہ بہ تہ ہو، سے بارش کی باریک بوندیں بہت زیادہ برسا دے۔ اے بزرگی اور عزت کے مالک!۔“ (مسند ابی عوانہ) [بلوغ المرام/حدیث: 412]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدٍ» سعد – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «دَعَا» نے دعا کی – «فِي الِاسْتِسْقَاءِ» بارش طلب کرنے میں: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «جَلِّلْنَا» ہم پر چھا دے – «سَحَابًا» بادل – «كَثِيفًا» گھنا – «قَصِيفًا» گرجنے والا – «دَلُوقًا» خوب برسنے والا – «ضَحُوكًا» چمکنے والا – «تُمْطِرُنَا مِنْهُ» جس سے تو ہم پر برسائے – «رَذَاذًا» ہلکی پھوار – «قِطْقِطًا» چھوٹے چھوٹے قطرے – «سَجْلًا» زوردار بارش – «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» اے جلال اور اکرام والے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو عَوَانَةَ» ابو عوانہ نے – «فِي صَحِيحِهِ» اپنی صحیح میں۔
اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش طلب کرتے ہوئے یہ دعا کی: ”اے اللہ! ہم پر گھنا، گرجنے والا، خوب برسنے والا اور چمکنے والا بادل چھا دے، جس سے تو ہم پر ہلکی پھوار، چھوٹے چھوٹے قطرے اور زوردار بارش برسائے، اے جلال اور اکرام والے!“ اسے ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو عوانة:2 /119.* فيه أبو محمد عبدالله بن محمد بن عبدالله الأنصاري المدني ولم أجد له ترجمة، ولعله البلوي الترجم في لسان الميزان وهو كذاب.»

الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 413
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏خرج سليمان عليه السلام يستسقي فرأى نملة مستلقية على ظهرها رافعة قوائمها إلى السماء تقول: اللهم إنا خلق من خلقك ليس بنا غنى عن سقياك فقال: ارجعوا سقيتم بدعوة غيركم» . رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سیدنا سلیمان علیہ السلام بارش طلب کرنے کے لئے باہر نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی کو پشت کے بل ٹانگیں آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے دیکھا جو بارگاہ رب العزت میں عرض کر رہی تھی۔ الٰہی ہم تیری مخلوق ہیں تیری دوسری مخلوق کی طرح، ہم بھی تیری بارش سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہیں، یہ سن کر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چلو واپس چلیں تمہیں بارش سے سیراب کر دیا گیا، غیروں کی دعا کی بدولت۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 413]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «خَرَجَ» نکلے – «سُلَيْمَانُ» سلیمان – «عَلَيْهِ السَّلَامُ» ان پر سلامتی ہو – «يَسْتَسْقِي» بارش کی دعا کرنے – «فَرَأَى» تو دیکھا – «نَمْلَةً» ایک چیونٹی کو – «مُسْتَلْقِيَةً» لیٹی ہوئی – «عَلَى ظَهْرِهَا» اپنی پیٹھ کے بل – «رَافِعَةً» اٹھائے ہوئے – «قَوَائِمَهَا» اپنے پاؤں – «إِلَى السَّمَاءِ» آسمان کی طرف – «تَقُولُ» کہہ رہی تھی: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «إِنَّا» بے شک ہم – «خَلْقٌ» ایک مخلوق ہیں – «مِنْ خَلْقِكَ» تیری مخلوق میں سے – «لَيْسَ بِنَا» ہمیں نہیں ہے – «غِنًى» بے نیازی – «عَنْ سُقْيَاكَ» تیری (دی ہوئی) بارش سے – «فَقَالَ» تو (سلیمان نے) کہا: – «ارْجِعُوا» لوٹ چلو – «سُقِيتُمْ» تمہیں بارش دے دی گئی – «بِدَعْوَةِ غَيْرِكُمْ» دوسرے کی دعا سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام بارش کی دعا کرنے نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی دیکھی جو اپنی پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے کہہ رہی تھی: اے اللہ! ہم تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیری (عطا کردہ) بارش سے بے نیاز نہیں ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام نے (لوگوں سے) کہا: واپس چلو، تمہیں دوسرے کی دعا کی وجہ سے بارش دے دی گئی ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد، ولم أجده، عزاه المؤلف في كتابه اتحاف المهرة:16 /1 ص70، حديث:20399 إلي الحاكم فقط، قال المؤلف: أخرجه الحاكم في المستدرك:1 /325 وصححه [ووافقه الذهبي] .»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 414
وعن أنس رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استسقى فأشار بظهر كفيه إلى السماء. أخرجه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ الٹی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا کر ارشاد فرمایا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 414]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَسْقَى» نے بارش کی دعا کی – «فَأَشَارَ» تو اشارہ کیا – «بِظَهْرِ كَفَّيْهِ» اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت سے – «إِلَى السَّمَاءِ» آسمان کی طرف۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کی دعا کی تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء، حديث:896.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب اللباس
لباس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 415
عن أبي عامر الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الخز والحرير» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وأصله في البخاري.
سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میری امت میں لازماً کچھ ایسی قومیں ہوں گی جو (زنا) اور ریشم کو حلال سمجھیں گی۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 415]
«عَنْ» سے – «أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ» ابو عامر اشعری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَيَكُونَنَّ» ضرور ہوں گے – «مِنْ أُمَّتِي» میری امت میں سے – «أَقْوَامٌ» کچھ لوگ – «يَسْتَحِلُّونَ» جو حلال سمجھیں گے – «الْخَزَّ» خز (ریشم ملا کپڑا / ایک روایت میں: شرمگاہ یعنی زنا) – «وَالْحَرِيرَ» اور ریشم کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الْبُخَارِيِّ» بخاری میں ہے۔
سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں ضرور کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو خز اور ریشم کو حلال سمجھیں گے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، اللباس، باب ما جاء في الخز، حديث:4039، وأصله في البخاري، الأشربة، باب ما جاء فيمن يسحل الخمر ويسميه بغير اسمه، حديث:5590.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 416
وعن حذيفة رضي الله عنه قال: نهى النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن نشرب في آنية الذهب والفضة وأن نأكل فيها وعن لبس الحرير والديباج وأن نجلس عليه. رواه البخاري.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے، باریک اور موٹا ریشم پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 416]
«وَعَنْ» اور سے – «حُذَيْفَةَ» حذیفہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ نَشْرَبَ» کہ ہم پئیں – «فِي آنِيَةِ» برتنوں میں – «الذَّهَبِ» سونے – «وَالْفِضَّةِ» اور چاندی کے – «وَأَنْ نَأْكُلَ» اور یہ کہ ہم کھائیں – «فِيهَا» ان میں – «وَعَنْ لُبْسِ» اور پہننے سے – «الْحَرِيرِ» ریشم – «وَالدِّيبَاجِ» اور دیباج (موٹا ریشم) – «وَأَنْ نَجْلِسَ» اور یہ کہ ہم بیٹھیں – «عَلَيْهِ» اس پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے اور ان میں کھانے سے، اور ریشم و دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللباس، باب افتراش الحرير، حديث:5838.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 417
وعن عمر رضي الله عنه قال: نهى النبي صلى الله عليه وآله وسلم عن لبس الحرير إلا موضع أصبعين أو ثلاث أو أربع. متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو یا چار انگشت (کے برابر جگہ پر)۔ (بخاری و مسلم) اور متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 417]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ لُبْسِ» پہننے سے – «الْحَرِيرِ» ریشم – «إِلَّا» سوائے – «مَوْضِعَ» جگہ کے – «إِصْبَعَيْنِ» دو انگلیوں (کی) – «أَوْ ثَلَاثٍ» یا تین – «أَوْ أَرْبَعٍ» یا چار۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو، تین یا چار انگلیوں کے برابر جگہ کے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري،اللباس، باب لبس الحرير للرجال وقدر ما يجوزمنه، حديث:5828، ومسلم، اللباس، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة، حديث:2069.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 418
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم رخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير في قميص الحرير في سفر من حكة كانت بهما. متفق عليه
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس وجہ سے کہ ان کو خارش تھی۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 418]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَخَّصَ» نے رخصت دی – «لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ» عبدالرحمن بن عوف کو – «وَالزُّبَيْرِ» اور زبیر کو – «فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ» ریشم کی قمیص (پہننے) میں – «فِي سَفَرٍ» ایک سفر میں – «مِنْ حِكَّةٍ» خارش کی وجہ سے – «كَانَتْ بِهِمَا» جو ان دونوں کو تھی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو ایک سفر میں خارش کی وجہ سے، جو ان دونوں کو تھی، ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللباس، باب ما يرخص للرجال من الحرير للحكة، حديث:5839، ومسلم، اللباس، باب إباحة لبس الحرير للرجال، حديث:2076.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں