🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب صلاة العيدين
نماز عیدین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 399
وعن علي رضي الله عنه قال: من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا. رواه الترمذي وحسنه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیدگاہ کی جانب پیدل چل کر جانا سنت ہے۔
اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 399]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مِنَ السُّنَّةِ» سنت میں سے ہے – «أَنْ تَخْرُجَ» کہ تم نکلو – «إِلَى الْعِيدِ» عید کی طرف – «مَاشِيًا» پیدل چل کر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ تم عید (کی نماز) کے لیے پیدل جاؤ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في المشي يوم العيد، حديث: 530، وقال: "هذا حديث حسن"، الحارث الأعور ضعيف جدًا متهم، وأبواسحاق عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 400
وعن أبي هريرة رضي الله عنه: أنهم أصابهم مطر في يوم عيد فصلى بهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلاة العيد في المسجد. رواه أبو داود بإسناد لين.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک موقع پر عید کے دن مسلمانوں کو بارش نے آ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔
اسے ابوداؤد نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 400]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُمْ» کہ انہیں – «أَصَابَهُمْ» پہنچی – «مَطَرٌ» بارش – «فِي يَوْمِ عِيدٍ» عید کے دن – «فَصَلَّى بِهِمُ» تو انہیں پڑھائی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةَ الْعِيدِ» عید کی نماز – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِإِسْنَادٍ لَيِّنٍ» کمزور سند کے ساتھ۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عید کے دن بارش ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ اسے ابو داود نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب يصلي بالناس العيد في المسجد، حديث:1160، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1313.* عيسي بن عبدالأعلي مجهول (تقريب) وشيخه مستور، وله شاهد ضعيف عند البيهقي:3 /310.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب صلاة الكسوف
نماز کسوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 401
عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال: انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم مات إبراهيم،‏‏‏‏ فقال الناس: انكسفت الشمس لموت إبراهيم،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتموهما فادعوا الله وصلوا حتى تنكشف» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري:«حتى تنجلي» .وللبخاري من حديث أبي بكرة رضي الله عنه: «‏‏‏‏فصلوا وادعوا حتى يكشف ما بكم» .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جس دن ابراہیم کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن لگا۔ لوگوں نے کہا کہ سورج گرہن ابراہیم کی وفات کی وجہ سے لگا ہے، جس پر رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان کو گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ چنانچہ جب تم ان دونوں (چاند اور سورج) کو اس حالت میں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ سورج گرہن کھل جائے۔“ (بخاری ومسلم)
اور بخاری کی ایک روایت میں ہے ”نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔“ اور بخاری میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے ”نماز پڑھو، دعا مانگو یہاں تک کہ وہ کیفیت تمہارے سامنے سے دور ہو جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 401]
«عَنْ» سے – «الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ» مغیرہ بن شعبہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ» سورج گرہن ہوا – «عَلَى عَهْدِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَوْمَ مَاتَ» جس دن فوت ہوئے – «إِبْرَاهِيمُ» ابراہیم – «فَقَالَ النَّاسُ» تو لوگوں نے کہا: – «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ» سورج گرہن ہوا ہے – «لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ» ابراہیم کی موت کی وجہ سے – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الشَّمْسَ» بے شک سورج – «وَالْقَمَرَ» اور چاند – «آيَتَانِ» دو نشانیاں ہیں – «مِنْ آيَاتِ اللَّهِ» اللہ کی نشانیوں میں سے – «لَا يَنْكَسِفَانِ» ان کو گرہن نہیں لگتا – «لِمَوْتِ أَحَدٍ» کسی کی موت کی وجہ سے – «وَلَا لِحَيَاتِهِ» اور نہ اس کی زندگی کی وجہ سے – «فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا» پس جب تم انہیں (اس حالت میں) دیکھو – «فَادْعُوا اللَّهَ» تو اللہ سے دعا کرو – «وَصَلُّوا» اور نماز پڑھو – «حَتَّى تَنْكَشِفَ» یہاں تک کہ وہ کھل جائے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: – «حَتَّى تَنْجَلِيَ» یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔ – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی روایت میں – «مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ کی حدیث سے ہے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فَصَلُّوا» تو نماز پڑھو – «وَادْعُوا» اور دعا کرو – «حَتَّى يُكْشَفَ» یہاں تک کہ دور کر دیا جائے – «مَا بِكُمْ» جو تمہیں (پیش) ہے۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جس دن (آپ کے صاحبزادے) ابراہیم فوت ہوئے اس دن سورج گرہن ہوا، تو لوگوں نے کہا: ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ کھل جائے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔“ اور بخاری میں سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: ”پس نماز پڑھو اور دعا کرو یہاں تک کہ جو (مصیبت) تمہیں پیش ہے وہ دور کر دی جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الكسوف، باب الصلاةفي كسوف الشمس، حديث:1043، وحديث أبي بكرة أخرجه البخاري، الكسوف، حديث:1040.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 402
وعن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم جهر في صلاة الكسوف بقراءته فصلى أربع ركعات في ركعتين وأربع سجدات. متفق عليه. وهذا لفظ مسلم. وفي رواية له: فبعث مناديا ينادي:«‏‏‏‏الصلاة جامعة» .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں قرآت بلند آواز سے کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ (بخاری و مسلم) اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرنے والے کو بھیجا جو «الصلاة جامعة» کی عنادی کرتا تھا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 402]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «جَهَرَ» نے بلند آواز سے کی – «فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ» گرہن کی نماز میں – «بِقِرَاءَتِهِ» اپنی قراءت – «فَصَلَّى» پس نماز پڑھی – «أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ» چار رکوع – «فِي رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتوں میں – «وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ» اور چار سجدے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ» اور یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور اس (مسلم) کی ایک روایت میں ہے: – «فَبَعَثَ» تو آپ نے بھیجا – «مُنَادِيًا» ایک منادی کرنے والا – «يُنَادِي» جو اعلان کرتا تھا: – «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» نماز جمع کرنے والی ہے (یعنی جمع ہو جاؤ)۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قراءت کی، اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: پھر آپ نے ایک منادی کرنے والا بھیجا جو اعلان کر رہا تھا: ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ (الصلاة جامعة)۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 402]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الكسوف، باب الجهر با لقراءة في الكسوف، حديث:1065، ومسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، حديث:901.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 403
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: انخسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقام قياما طويلا نحوا من قراءة سورة البقرة ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع فقام قياما طويلا وهو دون القيام الأول ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الأول ثم سجد ثم قام قياما طويلا وهو دون القيام الأول ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الأول ثم رفع فقام قياما طويلا وهو دون القيام الأول ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الأول ثم رفع رأسه ثم سجد ثم انصرف وقد تجلت الشمس فخطب الناس. متفق عليه. واللفظ للبخاري وفي رواية لمسلم: صلى حين كسفت الشمس ثماني ركعات في أربع سجدات. وعن علي رضي الله عنه مثل ذلك. وله عن جابر رضي الله عنه: صلى ست ركعات بأربع سجدات. ولأبي داود: عن أبي بن كعب رضي الله عنه: صلى فركع خمس ركعات وسجد سجدتين وفعل في الثانية مثل ذلك.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف ادا فرمائی اس میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کے برابر قیام کیا۔ پھر رکوع بھی بڑا لمبا کیا۔ پھر کھڑے ہوئے تو قیام بھی طویل کیا، مگر پہلے قیام سے کم۔ پھر لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے کم۔ پھر سجدہ ریز ہوئے۔ (اس کے بعد) پھر لمبا قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا پھر ایک لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ پھر اپنا سر مبارک رکوع سے اٹھایا اور ایک لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا اس کے بعد پھر ایک اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم (لمبا) تھا، پھر اپنا سر مبارک (رکوع سے) اٹھایا۔ پھر سجدہ کیا پھر آخر کار سلام پھیر دیا تو (اس دوران) سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وعظ بھی کیا۔ (بخاری و مسلم) اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر آٹھ رکوع چار سجدوں کے درمیان ادا کیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یوں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع چار سجدوں کے ساتھ ادا کیے ہیں۔ اور ابوداؤد میں سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی تو پانچ رکوع اور دو سجدے پہلی رکعت میں کیے اور اسی طرح دوسری رکعت میں کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 403]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ» سورج گرہن ہوا – «عَلَى عَهْدِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَصَلَّى» تو نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَامَ» پس کھڑے ہوئے – «قِيَامًا طَوِيلًا» لمبا قیام – «نَحْوًا مِنْ» تقریباً – «قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ» سورۂ بقرہ کی قراءت کے برابر – «ثُمَّ رَكَعَ» پھر رکوع کیا – «رُكُوعًا طَوِيلًا» لمبا رکوع – «ثُمَّ رَفَعَ» پھر (سر) اٹھایا – «فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا» پھر لمبا قیام کیا – «وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ» اور وہ پہلے قیام سے کم تھا – «ثُمَّ رَكَعَ» پھر رکوع کیا – «رُكُوعًا طَوِيلًا» لمبا رکوع – «وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ» اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا – «ثُمَّ سَجَدَ» پھر سجدہ کیا – «ثُمَّ قَامَ» پھر کھڑے ہوئے – «قِيَامًا طَوِيلًا» لمبا قیام – «وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ» اور وہ پہلے قیام سے کم تھا – «ثُمَّ رَكَعَ» پھر رکوع کیا – «رُكُوعًا طَوِيلًا» لمبا رکوع – «وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ» اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا – «ثُمَّ رَفَعَ» پھر (سر) اٹھایا – «فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا» پھر لمبا قیام کیا – «وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ» اور وہ پہلے قیام سے کم تھا – «ثُمَّ رَكَعَ» پھر رکوع کیا – «رُكُوعًا طَوِيلًا» لمبا رکوع – «وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ» اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا – «ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ» پھر اپنا سر اٹھایا – «ثُمَّ سَجَدَ» پھر سجدہ کیا – «ثُمَّ انْصَرَفَ» پھر (نماز سے) فارغ ہوئے – «وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ» اور سورج روشن ہو چکا تھا – «فَخَطَبَ النَّاسَ» پھر لوگوں کو خطبہ دیا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ» اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: – «صَلَّى» آپ نے نماز پڑھی – «حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ» جب سورج گرہن ہوا – «ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ» آٹھ رکوع – «فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ» چار سجدوں میں۔ – «وَعَنْ عَلِيٍّ» اور علی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِثْلُ ذَلِكَ» اسی کی مثل (مروی) ہے۔ – «وَلَهُ» اور اسی (مسلم) کی روایت میں ہے – «عَنْ جَابِرٍ» جابر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «صَلَّى» آپ نے نماز پڑھی – «سِتَّ رَكَعَاتٍ» چھ رکوع – «بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ» چار سجدوں کے ساتھ۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے – «عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ» ابی بن کعب سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «صَلَّى» آپ نے نماز پڑھی – «فَرَكَعَ» تو رکوع کیے – «خَمْسَ رَكَعَاتٍ» پانچ رکوع – «وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ» اور دو سجدے کیے – «وَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ» اور دوسری (رکعت) میں کیا – «مِثْلَ ذَلِكَ» اسی کی مثل۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ نے سورۂ بقرہ کی قراءت کے برابر لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر (سر) اٹھایا اور لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت میں) لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر (سر) اٹھایا اور لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، پھر (نماز سے) فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: جب سورج گرہن ہوا تو آپ نے چار سجدوں میں آٹھ رکوع کے ساتھ نماز پڑھی۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے۔ اور مسلم ہی کی روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہے: آپ نے چار سجدوں کے ساتھ چھ رکوع والی نماز پڑھی۔ اور ابو داود کی روایت میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہے: آپ نے نماز پڑھی تو (پہلی رکعت میں) پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 403]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الكسوف، باب صلاة الكسوف جماعة، حديث:1052، ومسلم، الكسوف باب ما عرض علي النبي صلي الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من أمرالجنة والنار، حديث:907، وحديث علي أخرجه أحمد:1 /143، وابن خزيمة، حديث:1388، 1394 وهو حديث حسن، وحديث جابرأخرجه مسلم، الكسوف، حديث:904، وحديث أبي بن كعب أخرجه أبوداود، صلاة الإستسقاء، حديث:1182 وسنده ضعيف.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 404
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ما هبت الريح قط إلا جثا النبي صلى الله عليه وآله وسلم على ركبتيه وقال: «‏‏‏‏اللهم اجعلها رحمة ولا تجعلها عذابا» .‏‏‏‏ رواه الشافعي والطبراني
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب ہوا تیز و تند چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یوں (بارگاہ الٰہی میں) عرض کرتے «‏‏‏‏اللهم اجعلها رحمة ولا تجعلها عذابا» ”اے اللہ! اس ہوا کو رحمت بنا، عذاب نہ بنا۔“ اسے شافعی اور طبرانی دونوں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 404]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَا هَبَّتِ» نہیں چلی – «الرِّيحُ» ہوا – «قَطُّ» کبھی – «إِلَّا جَثَا» مگر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى رُكْبَتَيْهِ» اپنے گھٹنوں پر – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «اجْعَلْهَا» اسے بنا دے – «رَحْمَةً» رحمت – «وَلَا تَجْعَلْهَا» اور اسے نہ بنا – «عَذَابًا» عذاب۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی – «وَالطَّبَرَانِيُّ» اور طبرانی نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب بھی ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور فرماتے: ”اے اللہ! اسے رحمت بنا دے اور اسے عذاب نہ بنا۔“ اسے شافعی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «أخرجه الشافي في الأم:1 /253، والطبراني في الكبير:11 /213، حديث:11533 وفيه حسين بن قيس متروك.* فيه قوله: أخبرني من لا أتهم: هو مجهول، والعلاء بن راشد مثله في الجهالة.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
وعنه رضي الله عنه أنه صلى الله عليه وآله وسلم صلى في زلزلة ست ركعات وأربع سجدات وقال:«‏‏‏‏هكذا صلاة الآيات» . رواه البيهقي وذكر الشافعي عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مثله دون آخره.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ انہوں نے زلزلے کے موقع پر نماز چار سجدوں اور چھ رکوعوں سے پڑھی اور فرمایا کہ آیات الٰہی کی نماز اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔
اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور شافعی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے البتہ اس میں روایت کے آخری الفاظ نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 405]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ آپ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے نماز پڑھی – «فِي زَلْزَلَةٍ» ایک زلزلے میں – «سِتَّ رَكَعَاتٍ» چھ رکوع – «وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ» اور چار سجدے – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «هَكَذَا» اسی طرح ہے – «صَلَاةُ الْآيَاتِ» نشانیوں (کے ظاہر ہونے) کی نماز۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے – «وَذَكَرَ» اور ذکر کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی نے – «عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِثْلَهُ» اسی کی مثل – «دُونَ آخِرِهِ» اس کے آخری حصے کے بغیر۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زلزلے کے موقع پر (دو رکعتوں میں) چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور فرمایا: ”نشانیوں (کے ظاہر ہونے) کی نماز اسی طرح ہے۔“ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ اور شافعی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل ذکر کیا ہے مگر اس کا آخری حصہ (”نشانیوں کی نماز اسی طرح ہے“) ذکر نہیں کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البهقي:3 /343، وحديث علي أخرجه الشافي وسنده ضعيف، فيه بلاغ الشافي، أي لم يذكر سنده.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب صلاة الاستسقاء
نماز استسقاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: خرج النبي صلى الله عليه وآله وسلم متواضعا متبذلا متخشعا مترسلا متضرعا فصلى ركعتين كما يصلي في العيد لم يخطب خطبتكم هذه. رواه الخمسة وصححه الترمذي وأبو عوانة وابن حبان.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی تواضع کے ساتھ سادہ لباس میں نہایت عاجزی و انکساری، بہت خشوع اور بڑی زاری اور تضرع کرتے ہوئے نماز کے لئے باہر نکلے۔ عید کی نماز کی طرح لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ تمہارے خطبہ کی طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔
اس روایت کو پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابوعوانہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 406]
«عَنْ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجَ» نکلے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مُتَوَاضِعًا» عاجزی کرتے ہوئے – «مُتَبَذِّلًا» معمولی لباس میں – «مُتَخَشِّعًا» خشوع اختیار کرتے ہوئے – «مُتَرَسِّلًا» آہستہ آہستہ چلتے ہوئے – «مُتَضَرِّعًا» گڑگڑاتے ہوئے – «فَصَلَّى» پس نماز پڑھی – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «كَمَا يُصَلِّي» جیسے پڑھتے ہیں – «فِي الْعِيدِ» عید میں – «لَمْ يَخْطُبْ» خطبہ نہیں دیا – «خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ» تمہارے اس خطبے جیسا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَأَبُو عَوَانَةَ» اور ابو عوانہ – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز استسقاء کے لیے) عاجزی کرتے ہوئے، معمولی لباس میں، خشوع کے ساتھ، آہستہ چلتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں پڑھتے ہیں، آپ نے تمہارے اس خطبے جیسا خطبہ نہیں دیا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابو عوانہ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، صلاة الاستسقاء، باب جماع أبواب صلاة الاستسقاء وتفريعها، حديث:1165، والترمذي، الجمعة، حديث:558، والنسائي، الاستسقاء، حديث:1507، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1266، وأحمد:1 /230، 269، 355، وابن حبان(الإحسان):4 /229، حديث:2851، وأبوعوانه:6 /33، القسم المفقود.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 407
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قحوط المطر فأمر بمنبر فوضع له بالمصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فكبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وحمد الله عز وجل ثم قال: «إنكم شكوتم جدب دياركم وقد أمركم الله أن تدعوه ووعدكم أن يستجيب لكم» ثم قال: «‏‏‏‏الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت علينا قوة وبلاغا إلى حين» ثم رفع يديه فلم يزل حتى رئي بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب رداءه وهو رافع يديه ثم أقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين فأنشأ الله سحابة فرعدت وبرقت ثم أمطرت. رواه أبو داود وقال غريب وإسناده جيد. وقصة التحويل في الصحيح من حديث عبد الله بن زيد وفيه: فتوجه إلى القبلة يدعو ثم صلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة. وللدارقطني من مرسل أبي جعفر الباقر: وحول رداءه ليتحول القحط.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں منبر لے جانے کا حکم دیا، چنانچہ منبر عید گاہ میں لا کر رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سارے باہر نکلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا۔ تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے اور «الله اكبر» کہا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا ”تم لوگوں نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کا شکوہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تو تمہیں یہ حکم دے چکا ہے کہ اس سے دعا کرو وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا ”تعریف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے جو کائنات کا پروردگار ہے۔ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان اور ہمیشہ مہربان ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں۔ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ الٰہی! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر باران رحمت کا نزول فرما۔ جو کچھ تو ہمارے اوپر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے روزی اور مدت دراز تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک اوپر اٹھائے کہ وہ بتدریج آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ پھر لوگوں کی جانب اپنی پشت کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پھیر کر پلٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے پھر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اسی لمحہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بادل پیدا کیا۔ وہ بدلی گرجی اور چمکی اور بارش ہونے لگی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے اور اس کی سند نہایت عمدہ و جید ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما کی روایت میں (تبدیلی چادر) کا قصہ اس طرح ہے ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا فرماتے رہے، پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ ان میں قرآت بلند آواز سے کی۔“ اور دارقطنی میں ابوجعفر باقر کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس لیے پھیر کر بدلی کہ قحط سالی بھی اسی طرح پھر جائے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 407]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «شَكَا النَّاسُ» لوگوں نے شکایت کی – «إِلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قُحُوطَ الْمَطَرِ» بارش نہ ہونے کی – «فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ» تو آپ نے منبر کا حکم دیا – «فَوُضِعَ لَهُ» تو آپ کے لیے رکھا گیا – «بِالْمُصَلَّى» عید گاہ میں – «وَوَعَدَ النَّاسَ» اور لوگوں سے وعدہ کیا – «يَوْمًا» ایک دن کا – «يَخْرُجُونَ فِيهِ» جس میں وہ نکلیں – «قَالَتْ عَائِشَةُ» عائشہ نے کہا: – «فَخَرَجَ» پس نکلے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حِينَ بَدَا» جب ظاہر ہوا – «حَاجِبُ الشَّمْسِ» سورج کا کنارہ – «فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ» تو منبر پر بیٹھ گئے – «فَكَبَّرَ» پھر تکبیر کہی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَحَمِدَ اللَّهَ» اور اللہ کی حمد کی – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ ہے – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «إِنَّكُمْ» بے شک تم نے – «شَكَوْتُمْ» شکایت کی ہے – «جَدْبَ دِيَارِكُمْ» اپنے علاقوں کی خشک سالی کی – «وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ» اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے – «أَنْ تَدْعُوهُ» کہ تم اس سے دعا کرو – «وَوَعَدَكُمْ» اور تم سے وعدہ کیا ہے – «أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ» کہ وہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «الْحَمْدُ لِلَّهِ» سب تعریف اللہ کے لیے ہے – «رَبِّ الْعَالَمِينَ» جو تمام جہانوں کا رب ہے – «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا – «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» بدلے کے دن کا مالک – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ» وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «أَنْتَ اللَّهُ» تو ہی اللہ ہے – «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» تیرے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «أَنْتَ الْغَنِيُّ» تو بے نیاز ہے – «وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ» اور ہم محتاج ہیں – «أَنْزِلْ عَلَيْنَا» ہم پر نازل فرما – «الْغَيْثَ» بارش – «وَاجْعَلْ» اور بنا دے – «مَا أَنْزَلْتَ عَلَيْنَا» جو تو ہم پر نازل کرے – «قُوَّةً» قوت – «وَبَلَاغًا» اور (ضرورت کے) پہنچنے کا ذریعہ – «إِلَى حِينٍ» ایک مدت تک۔ – «ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ» پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے – «فَلَمْ يَزَلْ» اور اٹھائے رکھے – «حَتَّى رُئِيَ» یہاں تک کہ دیکھی گئی – «بَيَاضُ إِبْطَيْهِ» آپ کی بغلوں کی سفیدی – «ثُمَّ حَوَّلَ» پھر پھیر دی – «إِلَى النَّاسِ» لوگوں کی طرف – «ظَهْرَهُ» اپنی پیٹھ – «وَقَلَبَ» اور الٹ دی – «رِدَاءَهُ» اپنی چادر – «وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ» اس حال میں کہ آپ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے – «ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ» پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے – «وَنَزَلَ» اور (منبر سے) اترے – «فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ» اور دو رکعتیں پڑھیں – «فَأَنْشَأَ اللَّهُ» تو اللہ نے پیدا فرمایا – «سَحَابَةً» ایک بادل – «فَرَعَدَتْ» تو وہ گرجا – «وَبَرَقَتْ» اور چمکا – «ثُمَّ أَمْطَرَتْ» پھر برس پڑا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَقَالَ» اور کہا: – «غَرِيبٌ» (یہ) غریب ہے – «وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ» اور اس کی سند عمدہ ہے۔ – «وَقِصَّةُ التَّحْوِيلِ» اور (چادر) پلٹنے کا قصہ – «فِي الصَّحِيحِ» صحیح (بخاری) میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ» عبداللہ بن زید کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «فَتَوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ» تو آپ قبلہ رخ ہوئے – «يَدْعُو» دعا کرتے ہوئے – «ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ» پھر دو رکعتیں پڑھیں – «جَهَرَ فِيهِمَا» ان میں بلند آواز سے کی – «بِالْقِرَاءَةِ» قراءت۔ – «وَلِلدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کی روایت میں ہے – «مِنْ مُرْسَلِ» مرسل (روایت) سے – «أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ» ابو جعفر الباقر کی: – «وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ» اور آپ نے اپنی چادر پلٹی – «لِيَتَحَوَّلَ» تاکہ پلٹ جائے – «الْقَحْطُ» قحط۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (لانے) کا حکم دیا، چنانچہ وہ آپ کے لیے عید گاہ میں رکھا گیا، اور آپ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ (عید گاہ کی طرف) نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، آپ منبر پر بیٹھے، اللہ اکبر کہا اور اللہ عزوجل کی حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کی شکایت کی ہے، اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا: ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا، بدلے کے دن کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما، اور جو (بارش) تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک مدت تک (ضروریات) پوری ہونے کا ذریعہ بنا دے۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اٹھائے رکھے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر لی اور ہاتھ اٹھائے ہوئے ہی اپنی چادر پلٹی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور (منبر سے) اتر کر دو رکعتیں پڑھیں، تو اللہ نے ایک بادل پیدا فرمایا جو گرجا اور چمکا، پھر برس پڑا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور کہا: یہ غریب ہے، اور اس کی سند عمدہ ہے۔ اور چادر پلٹنے کا قصہ صحیح (بخاری) میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے، اور اس میں ہے: پھر آپ قبلہ رخ ہو کر دعا کرنے لگے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں بلند آواز سے قراءت کی۔ اور دارقطنی کی روایت میں ابو جعفر الباقر کی مرسل روایت سے ہے: اور آپ نے اپنی چادر اس لیے پلٹی تاکہ قحط (خوشحالی میں) پلٹ جائے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب رفع اليدين في الاستسقاء، حديث:1173، وقصة التحويل: ذكرها البخاري، الاستسقاء، حديث:1024، ومرسل أبي جعفر أخرجه الدارقطني:2 /66، وسنده ضعيف، حفص بن غياث مدلس وعنعن، والسند مرسل.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 408
وعن أنس أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وآله وسلم قائم يخطب.فقال: يا رسول الله هلكت الأموال وانقطعت السبل فادع الله عز وجل يغيثنا فرفع يديه ثم قال: «‏‏‏‏اللهم أغثنا اللهم أغثنا» ‏‏‏‏فذكر الحديث وفيه الدعاء بإمساكها. متفق عليه
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ بولا یا رسول اللہ! اموال (مویشی) ہلاک ہو گئے اور آمدورفت کے راستے بند ہو گئے ہیں۔ اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش نازل فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور دعا فرمائی۔ «‏‏‏‏اللهم أغثنا اللهم أغثنا» ‏‏‏‏ یا الٰہی! بارش سے ہماری فریاد رسی فرما۔ یا الٰہی! باران رحمت سے ہماری فریاد رسی فرما۔ ساری حدیث بیان فرمائی۔ اس میں بارش کے بند کروانے کی دعا کا بھی ذکر ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 408]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «أَنَّ» کہ – «رَجُلًا» ایک آدمی – «دَخَلَ الْمَسْجِدَ» مسجد میں داخل ہوا – «يَوْمَ الْجُمُعَةِ» جمعہ کے دن – «وَالنَّبِيُّ» جبکہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَائِمٌ» کھڑے – «يَخْطُبُ» خطبہ دے رہے تھے – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول – «هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ» مال (مویشی) ہلاک ہو گئے – «وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ» اور راستے منقطع ہو گئے – «فَادْعُ اللَّهَ» پس اللہ سے دعا کیجیے – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ ہے – «يُغِيثُنَا» کہ وہ ہمیں بارش دے – «فَرَفَعَ يَدَيْهِ» تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» اے اللہ ہمیں بارش دے – «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» اے اللہ ہمیں بارش دے۔ – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (پوری) حدیث ذکر کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے – «الدُّعَاءُ» دعا کرنا – «بِإِمْسَاكِهَا» اس (بارش) کے روکنے کی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، لہٰذا اللہ عزوجل سے دعا فرمائیے کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔“ پھر (راوی نے پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں (بعد میں) بارش روکنے کی دعا کا ذکر بھی ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستسقاء، باب الاستسقاء في المسجد الجامع، حديث:1013، ومسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:897.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں