🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب صلاة الخوف
نماز خوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
عن صالح بن خوات رضي الله عنه عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف: أن طائفة صلت معه وطائفة وجاه العدو،‏‏‏‏ فصلى بالذين معه ركعة،‏‏‏‏ ثم ثبت قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا،‏‏‏‏ فصفوا وجاه العدو،‏‏‏‏ وجاءت الطائفة الأخرى،‏‏‏‏ فصلى بهم الركعة التي بقيت،‏‏‏‏ ثم ثبت جالسا،‏‏‏‏ وأتموا لأنفسهم،‏‏‏‏ ثم سلم بهم. متفق عليه وهذا لفظ مسلم ووقع في المعرفة لابن منده عن صالح بن خوات عن أبيه.
سیدنا صالح بن خوات رحمہ اللہ نے ایسے شخص سے روایت کی ہے جس نے ذات الرقاع کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوٰۃ خوف پڑھی تھی۔ اس شخص نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لئے صف بندی کی اور ایک دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ کے لئے اس کے روبرو صف باندھ کر کھڑا رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف باندھ کر کھڑے تھے ایک رکعت پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر باقی نماز مکمل کر لی اور چلے گئے۔ جا کر دشمن کے سامنے صف بند ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی اپنی ایک رکعت پڑھائی اور بیٹھے رہے انہوں نے اس دوران اپنے طور پر نماز مکمل کر لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا (بخاری و مسلم) مگر متن حدیث الفاظ مسلم کے ہیں۔ ابن مندہ کی «المعرفة» میں ہے کہ صالح بن خوات اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 379]
«عَنْ» سے – «صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ» صالح بن خوات – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَمَّنْ» اس شخص سے جس نے – «صَلَّى» نماز پڑھی – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ» ذات الرقاع (کی جنگ) کے دن – «صَلَاةَ الْخَوْفِ» خوف کی نماز – «أَنَّ» کہ – «طَائِفَةً» ایک گروہ نے – «صَلَّتْ مَعَهُ» آپ کے ساتھ نماز پڑھی – «وَطَائِفَةً» اور ایک گروہ – «وِجَاهَ الْعَدُوِّ» دشمن کے سامنے (رہا) – «فَصَلَّى» پس آپ نے پڑھائی – «بِالَّذِينَ مَعَهُ» ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ تھے – «رَكْعَةً» ایک رکعت – «ثُمَّ» پھر – «ثَبَتَ» ٹھہرے رہے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «وَأَتَمُّوا» اور انہوں نے پوری کی – «لِأَنْفُسِهِمْ» اپنے طور پر – «ثُمَّ انْصَرَفُوا» پھر وہ چلے گئے – «فَصَفُّوا» اور صف بنا لی – «وِجَاهَ الْعَدُوِّ» دشمن کے سامنے – «وَجَاءَتِ» اور آیا – «الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى» دوسرا گروہ – «فَصَلَّى بِهِمُ» تو آپ نے انہیں پڑھائی – «الرَّكْعَةَ» وہ رکعت – «الَّتِي بَقِيَتْ» جو باقی رہ گئی تھی – «ثُمَّ» پھر – «ثَبَتَ» ٹھہرے رہے – «جَالِسًا» بیٹھ کر – «وَأَتَمُّوا» اور انہوں نے پوری کی – «لِأَنْفُسِهِمْ» اپنے طور پر – «ثُمَّ» پھر – «سَلَّمَ بِهِمْ» آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَهَذَا لَفْظُ» اور یہ الفاظ – «مُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں – «وَوَقَعَ» اور آیا ہے – «فِي الْمَعْرِفَةِ» (کتاب) المعرفہ میں – «لِابْنِ مَنْدَهْ» ابن مندہ کی – «عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ» صالح بن خوات سے – «عَنْ أَبِيهِ» ان کے والد سے۔
صالح بن خوات اس صحابی سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے ذات الرقاع کی جنگ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی کہ ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا، آپ نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر کھڑے رہے اور انہوں نے اپنی (دوسری رکعت) خود پوری کی، پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بنا لی، اور دوسرا گروہ آیا تو آپ نے انہیں باقی رہ جانے والی رکعت پڑھائی، پھر بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنی (رکعت) خود پوری کی، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور ابن مندہ کی کتاب المعرفہ میں یہ روایت صالح بن خوات عن ابیہ (یعنی سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے) مذکور ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة ذات الرقاع، حديث:4131، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الخوف، حديث:841.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 380
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل نجد فوازينا العدو،‏‏‏‏ فصاففناهم،‏‏‏‏ فقام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي بنا فقامت طائفة معه وأقبلت طائفة على العدو وركع بمن معه وسجد سجدتين ثم انصرفوا مكان الطائفة التي لم تصلي فجاؤوا فركع بهم ركعة،‏‏‏‏ وسجد سجدتين ثم سلم فقام كل واحد منهم فركع لنفسه ركعة وسجد سجدتين. متفق عليه وهذا لفظ البخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کسی غزوہ میں گیا۔ ہم دشمن کے بالکل مقابل صف بستہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک جماعت نماز ادا کرنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑی ہو گئی۔ جو جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک تھی اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے اور اس گروہ کی جگہ واپس چلی گئی جس نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی۔ اس جماعت کے افراد آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی دو سجدوں کے ساتھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا تو دونوں گروہوں نے اٹھ کر الگ الگ پوری کی۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 380]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «غَزَوْتُ» میں نے جہاد کیا – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قِبَلَ نَجْدٍ» نجد کی جانب – «فَوَازَيْنَا» تو ہم مقابل ہوئے – «الْعَدُوَّ» دشمن کے – «فَصَافَفْنَاهُمْ» اور ہم نے ان کے مقابلے میں صفیں بنائیں – «فَقَامَ» تو کھڑے ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي بِنَا» ہمیں نماز پڑھانے – «فَقَامَتْ» تو کھڑا ہوا – «طَائِفَةٌ» ایک گروہ – «مَعَهُ» آپ کے ساتھ – «وَأَقْبَلَتْ» اور متوجہ ہوا – «طَائِفَةٌ» ایک گروہ – «عَلَى الْعَدُوِّ» دشمن کی طرف – «وَرَكَعَ» اور آپ نے رکوع کیا – «بِمَنْ مَعَهُ» ان کے ساتھ جو آپ کے ساتھ تھے – «وَسَجَدَ» اور کیے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «ثُمَّ انْصَرَفُوا» پھر وہ چلے گئے – «مَكَانَ» جگہ پر – «الطَّائِفَةِ» اس گروہ کی – «الَّتِي لَمْ تُصَلِّ» جس نے نماز نہیں پڑھی تھی – «فَجَاءُوا» پس وہ آئے – «فَرَكَعَ بِهِمْ» تو آپ نے ان کے ساتھ رکوع کیا – «رَكْعَةً» ایک رکعت – «وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ» اور دو سجدے کیے – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا – «فَقَامَ» تو کھڑا ہوا – «كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ» ان میں سے ہر ایک – «فَرَكَعَ» اور رکوع کیا – «لِنَفْسِهِ» اپنے طور پر – «رَكْعَةً» ایک رکعت – «وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ» اور دو سجدے کیے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَهَذَا لَفْظُ» اور یہ الفاظ – «الْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نجد کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، ہم دشمن کے مقابل ہوئے اور ان کے سامنے صفیں بنا لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا اور دوسرا گروہ دشمن کی طرف متوجہ رہا، آپ نے اپنے ساتھ والوں کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ اس گروہ کی جگہ چلے گئے جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، پھر وہ (دوسرا گروہ) آیا تو آپ نے ان کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا، پھر ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنے طور پر ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الخوف، باب صلاة الخوف، حديث:942، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الخوف، حديث:839.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 381
وعن جابر رضي الله عنه قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم صلاة الخوف فصفنا صفين: صف خلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والعدو بيننا وبين القبلة فكبر النبي صلى الله عليه وآله وسلم وكبرنا جميعا ثم ركع وركعنا جميعا ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه وقام الصف المؤخر في مخر العدو فلما قضى السجود قام الصف الذي يليه. فذكر الحديث. وفي رواية: ثم سجد وسجد معه الصف الأول فلما قاموا سجد الصف الثاني ثم تأخر الصف الأول وتقدم الصف الثاني. فذكر مثله،‏‏‏‏ وفي آخره: ثم سلم النبي صلى الله عليه وآله وسلم وسلمنا جميعا. رواه مسلم. ولأبي داود عن أبي عياش الزرقي رضي الله عنه مثله،‏‏‏‏ وزاد: إنها كانت بعسفان. وللنسائي من وجه آخر عن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بطائفة من أصحابه ركعتين ثم صلى بآخرين ركعتين ثم سلم. ومثله لأبي داود عن أبي بكرة رضي الله عنه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں حاضر تھا۔ ہم نے دو صفیں بنائیں ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوئی جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور ہم سب نے بھی اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اوپر اٹھایا اور ہم سب نے بھی اپنے سر اٹھائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والی صف بھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے کیلئے کھڑی رہی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ پورا کر لیا تو وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی کھڑی ہو گئی۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی۔ ایک روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ سب کھڑے ہو گئے تو دوسری صف سجدے میں چلی گئی اور پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آ گئی اور پہلے کی طرح ہی ذکر کیا اور آخر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیر دیا (مسلم) اور ابوداؤد نے ابوعیاش زرقی سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”وہ عسفان مقام پر (ادا کی گئی) تھی۔“ اور نسائی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر ایک دوسرے گروہ کو اسی طرح دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ ابوداؤد میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی ایک روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 381]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «شَهِدْتُ» میں حاضر ہوا – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةَ الْخَوْفِ» خوف کی نماز میں – «فَصُفِفْنَا» تو ہمیں صف بستہ کیا گیا – «صَفَّيْنِ» دو صفوں میں – «صَفٌّ» ایک صف – «خَلْفَ» پیچھے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَالْعَدُوُّ» اور دشمن – «بَيْنَنَا» ہمارے درمیان – «وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ» اور قبلہ کے درمیان تھا – «فَكَبَّرَ» تو تکبیر کہی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَكَبَّرْنَا» اور ہم نے تکبیر کہی – «جَمِيعًا» سب نے – «ثُمَّ رَكَعَ» پھر آپ نے رکوع کیا – «وَرَكَعْنَا جَمِيعًا» اور ہم سب نے رکوع کیا – «ثُمَّ رَفَعَ» پھر آپ نے اٹھایا – «رَأْسَهُ» اپنا سر – «مِنَ الرُّكُوعِ» رکوع سے – «وَرَفَعْنَا جَمِيعًا» اور ہم سب نے اٹھایا – «ثُمَّ انْحَدَرَ» پھر آپ جھکے – «بِالسُّجُودِ» سجدے میں – «وَالصَّفُّ» اور وہ صف – «الَّذِي يَلِيهِ» جو آپ کے قریب تھی – «وَقَامَ» اور کھڑی رہی – «الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ» پچھلی صف – «فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ» دشمن کے سامنے – «فَلَمَّا» پھر جب – «قَضَى» پورا کر لیا – «السُّجُودَ» سجدہ – «قَامَ» کھڑی ہوئی – «الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ» وہ صف جو آپ کے قریب تھی۔ – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (پوری) حدیث ذکر کی۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «ثُمَّ سَجَدَ» پھر آپ نے سجدہ کیا – «وَسَجَدَ مَعَهُ» اور آپ کے ساتھ سجدہ کیا – «الصَّفُّ الْأَوَّلُ» پہلی صف نے – «فَلَمَّا قَامُوا» پھر جب وہ کھڑے ہوئے – «سَجَدَ» سجدہ کیا – «الصَّفُّ الثَّانِي» دوسری صف نے – «ثُمَّ تَأَخَّرَ» پھر پیچھے ہٹ گئی – «الصَّفُّ الْأَوَّلُ» پہلی صف – «وَتَقَدَّمَ» اور آگے آ گئی – «الصَّفُّ الثَّانِي» دوسری صف۔ – «فَذَكَرَ مِثْلَهُ» پھر اسی طرح ذکر کیا – «وَفِي آخِرِهِ» اور اس کے آخر میں ہے: – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا» اور ہم سب نے سلام پھیرا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں – «عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ» ابو عیاش زرقی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِثْلُهُ» اسی کی مثل ہے – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «إِنَّهَا كَانَتْ» کہ یہ (نماز) تھی – «بِعُسْفَانَ» عسفان میں۔ – «وَلِلنَّسَائِيِّ» اور نسائی کی روایت میں – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک اور سند سے – «عَنْ جَابِرٍ» جابر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے پڑھائیں – «بِطَائِفَةٍ» ایک گروہ کو – «مِنْ أَصْحَابِهِ» اپنے صحابہ میں سے – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «ثُمَّ صَلَّى» پھر پڑھائیں – «بِآخَرِينَ» دوسروں کو – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا۔ – «وَمِثْلُهُ» اور اسی کی مثل – «لِأَبِي دَاوُدَ» ابو داود کی روایت ہے – «عَنْ أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں حاضر ہوا، ہمیں دو صفوں میں کھڑا کیا گیا، ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھی اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم سب نے تکبیر کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے سر اٹھایا، پھر آپ اور آپ کے قریب والی صف سجدے میں چلے گئے اور پچھلی صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی، جب آپ نے سجدہ پورا کر لیا تو قریب والی صف کھڑی ہو گئی... پھر (پوری) حدیث ذکر کی۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ پہلی صف نے سجدہ کیا، جب وہ کھڑے ہو گئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا، پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آ گئی... پھر اسی طرح ذکر کیا، اور اس کے آخر میں ہے: پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے سلام پھیرا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ابو داود میں سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ یہ (نماز) عسفان میں تھی۔ اور نسائی میں ایک اور سند سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر دوسروں کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا۔ اور اسی طرح ابو داود میں سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الخوف، حديث:840، وحديث أبي عياش الزرقي أخرجه أبوداود، صلاة السفر، حديث:1236 وسنده صحيح،وحديث جابر أخرجه النسائي، صلاة الخوف، حديث:1553 وهو حديث صحيح، وحديث أبي بكرة أخرجه أبوداود، صلاة السفر، حديث:1248 وهو حديث صحيح.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 382
وعن حذيفة رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم في الخوف بهؤلاء ركعة وهؤلاء ركعة ولم يقضوا. رواه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه ابن حبان. ومثله عند ابن خزيمة عن ابن عباس رضي الله عنهما.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان کو بھی ایک ہی رکعت۔ انہوں نے نماز کو پورا نہیں کیا۔
اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابن خزیمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 382]
«وَعَنْ» اور سے – «حُذَيْفَةَ» حذیفہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے نماز پڑھائی – «فِي الْخَوْفِ» خوف (کی حالت) میں – «بِهَؤُلَاءِ» ان لوگوں کو – «رَكْعَةً» ایک رکعت – «وَهَؤُلَاءِ» اور ان (دوسرے) لوگوں کو – «رَكْعَةً» ایک رکعت – «وَلَمْ يَقْضُوا» اور انہوں نے (بعد میں) قضا نہیں کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔ – «وَمِثْلُهُ» اور اسی کی مثل – «عِنْدَ ابْنِ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ کے ہاں ہے – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو۔
اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوف کی حالت میں ان (ایک گروہ) کو ایک رکعت اور ان (دوسرے گروہ) کو ایک رکعت پڑھائی، اور انہوں نے (باقی رکعت) قضا نہیں کی۔ اسے احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور اسی طرح ابن خزیمہ کے ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب من قال يصلي بكل طائفة ركعة ولا يقضون، حديث:1246، والنسائي، صلاة الخوف، حديث:1530، وأحمد:5 /385، 399 وابن حبان (الموارد)، حديث:586، وابن خزيمة، حديث:1343، وحديث ابن عباس أخرجه ابن خزيمة، حديث:1344.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 383
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏صلاة الخوف ركعة على أي وجه كان» .‏‏‏‏ رواه البزار بإسناد ضعيف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نماز خوف ایک رکعت ہی ہے جس طرح بھی ادا ہو جائے۔“
اسے بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 383]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةُ الْخَوْفِ» خوف کی نماز – «رَكْعَةٌ» ایک رکعت ہے – «عَلَى أَيِّ وَجْهٍ» جس طریقے پر بھی – «كَانَ» ہو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَزَّارُ» بزار نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خوف کی نماز ایک رکعت ہے، جس طریقے پر بھی ہو۔“ اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار (كشف الأستار):1 /326، وفيه محمد بن عبدالرحمن بن البيلماني وهو منكر الحديث ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 384
وعنه رضي الله عنه مرفوعا:«‏‏‏‏ليس في صلاة الخوف سهو» .‏‏‏‏ أخرجه الدارقطني بإسناد ضعيف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاَ مروی ہے کہ نماز خوف میں سجدہ سہو نہیں۔ اسے دارقطنی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 384]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً (روایت ہے): – «لَيْسَ» نہیں ہے – «فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ» خوف کی نماز میں – «سَهْوٌ» سہو (کا سجدہ)۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے مرفوعاً روایت ہے: ”خوف کی نماز میں سہو (کا سجدہ) نہیں۔“ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 384]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني:2 /57 وقال: "تفرد به عبدالحميد بن السري وهو ضعيف".»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب صلاة العيدين
نماز عیدین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 385
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الفطر يوم يفطر الناس والأضحى يوم يضحي الناس» . رواه الترمذي.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عید الفطر اس دن ہے جس دن لوگ افطار کریں (یعنی روزے مکمل کر کے روزے رکھنا چھوڑ دیں) اور عید الاضحی اس روز ہے جس دن لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔“ (ترمذی) [بلوغ المرام/حدیث: 385]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْفِطْرُ» عید الفطر – «يَوْمَ» اس دن ہے – «يُفْطِرُ» جس دن (روزے) چھوڑیں – «النَّاسُ» لوگ – «وَالْأَضْحَى» اور عید الاضحیٰ – «يَوْمَ» اس دن ہے – «يُضَحِّي» جس دن قربانی کریں – «النَّاسُ» لوگ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر اس دن ہے جس دن لوگ روزے چھوڑیں، اور عید الاضحیٰ اس دن ہے جس دن لوگ قربانی کریں۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 385]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الصوم، باب ما جاء في الفطر والأضحي متي يكون، حديث:802، وقال: "حسن غريب صحيح".»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 386
وعن أبي عمير بن أنس رضي الله عنهما عن عمومة له من أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ أن ركبا جاءوا إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمرهم أن يفطروا وإذا أصبحوا أن يغدوا إلى مصلاهم. رواه أحمد وأبو داود وهذا لفظه وإسناده صحيح.
سیدنا ابوعمیر بن انس رحمہ اللہ نے اپنے ایک چچا صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ چند سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے شہادت دی کہ انہوں نے کل شام چاند دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا کہ ”روزہ افطار کر دو اور کل صبح نماز عید کے لئے عید گاہ میں آ جاؤ۔“
اسے احمد، ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 386]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ» ابو عمیر بن انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ» اپنے چچاؤں سے – «مِنْ أَصْحَابِ» صحابہ میں سے – «النَّبِيِّ» نبی کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَكْبًا» کچھ سوار – «جَاءُوا» آئے – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَشْهَدُونَ» گواہی دیتے ہوئے – «أَنَّهُمْ رَأَوُا» کہ انہوں نے دیکھا – «الْهِلَالَ» چاند – «بِالْأَمْسِ» کل (گزشتہ شام) – «فَأَمَرَهُمْ» تو آپ نے انہیں حکم دیا – «أَنْ يُفْطِرُوا» کہ وہ روزہ کھول دیں – «وَإِذَا أَصْبَحُوا» اور جب صبح کریں – «أَنْ يَغْدُوا» کہ صبح سویرے جائیں – «إِلَى مُصَلَّاهُمْ» اپنی عیدگاہ کی طرف۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَهَذَا لَفْظُهُ» اور یہ انہی (ابو داود) کے الفاظ ہیں – «وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ» اور اس کی سند صحیح ہے۔
اور ابو عمیر بن انس اپنے ان چچاؤں سے روایت کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے کہ کچھ سوار نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور گواہی دی کہ انہوں نے کل (شام) چاند دیکھا ہے، تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ کھول دیں اور جب صبح ہو تو اپنی عیدگاہ کی طرف جائیں۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ ابو داود کے ہیں، اور اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب إذا لم يخرج الإمام للعيد من يومه، حديث:1157، وأحمد:5 /57، 58، وابن ماجه، الصيام، حديث:1653، والنسائي، صلاة العيدين، حديث:1558.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 387
وعن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات. أخرجه البخاري. وفي رواية معلقة ووصلها أحمد: ويأكلهن أفرادا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کیلئے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے اور طاق عدد میں کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور ایک معلق روایت میں بھی ایسا ہے اور احمد نے موصول روایت میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کھجوروں کو ایک ایک کر کے تناول فرماتے تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 387]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَغْدُو» صبح نہیں نکلتے تھے – «يَوْمَ الْفِطْرِ» عید الفطر کے دن – «حَتَّى يَأْكُلَ» یہاں تک کہ کھا لیتے – «تَمَرَاتٍ» کچھ کھجوریں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «مُعَلَّقَةٍ» جو معلق ہے – «وَوَصَلَهَا» اور اسے موصول بیان کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے: – «وَيَأْكُلُهُنَّ» اور آپ انہیں کھاتے – «أَفْرَادًا» طاق (عدد میں)۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھجوریں کھائے بغیر (عیدگاہ کی طرف) نہیں نکلتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور (بخاری کی) ایک معلق روایت میں، جسے احمد نے موصول بیان کیا ہے، یہ ہے: ”اور آپ انہیں طاق عدد میں کھاتے تھے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب الأكل يوم الفطرقبل الخروج، حديث:953، وأحمد:3 /126، 232، وابن ماجه، الصيام، حديث:1754، وابن خزيمة، حديث:1429.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 388
وعن ابن بريدة عن أبيه رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي. رواه أحمد والترمذي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کے لئے کچھ نہ کچھ کھائے بغیر نہ نکلتے تھے البتہ عید قربان (عید الاضحی) کے دن جب تک نماز ادا نہ فرما لیتے کچھ تناول نہ فرماتے تھے۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 388]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ بُرَيْدَةَ» ابن بریدہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَخْرُجُ» نہیں نکلتے – «يَوْمَ الْفِطْرِ» عید الفطر کے دن – «حَتَّى يَطْعَمَ» یہاں تک کہ کچھ کھا لیتے – «وَلَا يَطْعَمُ» اور نہیں کھاتے تھے – «يَوْمَ الْأَضْحَى» عید الاضحیٰ کے دن – «حَتَّى يُصَلِّيَ» یہاں تک کہ نماز پڑھ لیتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر نہیں نکلتے تھے، اور عید الاضحیٰ کے دن نماز پڑھنے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، حديث:542، وقال: غريب، وابن حبان (الموارد)، حديث:593، وأحمد:5 /353.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں