🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب صلاة العيدين
نماز عیدین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: أمرنا أن نخرج العواتق والحيض في العيدين يشهدن الخير ودعوة المسلمين ويعتزل الحيض المصلى. متفق عليه.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم جوان لڑکیوں اور حائضہ عورتوں کو بھی عیدین میں ساتھ لے کر نکلیں تاکہ وہ بھی مسلمانوں کے امور خیر اور دعاؤں میں شریک ہوں۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ کے کنارے پر رہیں۔ (نماز میں شامل نہ ہوں صرف دعا میں شرکت کریں) (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 389]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ عَطِيَّةَ» ام عطیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أُمِرْنَا» ہمیں حکم دیا گیا – «أَنْ نُخْرِجَ» کہ ہم نکالیں – «الْعَوَاتِقَ» جوان (پردہ نشین) لڑکیوں کو – «وَالْحُيَّضَ» اور حیض والی عورتوں کو – «فِي الْعِيدَيْنِ» دونوں عیدوں میں – «يَشْهَدْنَ» تاکہ وہ حاضر ہوں – «الْخَيْرَ» خیر (کے کاموں) میں – «وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ» اور مسلمانوں کی دعا میں – «وَيَعْتَزِلُ» اور الگ رہیں – «الْحُيَّضُ» حیض والی عورتیں – «الْمُصَلَّى» نماز کی جگہ سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم دونوں عیدوں میں جوان پردہ نشین لڑکیوں اور حیض والی عورتوں کو (بھی) نکالیں تاکہ وہ خیر (کے کاموں) اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، اور حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب خروج النساء والحيض إلي المصلي، حديث:974، ومسلم، صلاة العيدين، باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلي المصلي، حديث:890.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 390
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأبو بكر وعمر يصلون العيدين قبل الخطبة. متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبہ (عیدین) سے پہلے پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 390]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَأَبُو بَكْرٍ» اور ابو بکر – «وَعُمَرُ» اور عمر – «يُصَلُّونَ» پڑھا کرتے – «الْعِيدَيْنِ» دونوں عیدوں (کی نماز) – «قَبْلَ الْخُطْبَةِ» خطبے سے پہلے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دونوں عیدوں کی نماز خطبے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 390]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب الخطبة بعد العيد، حديث:963، ومسلم، صلاة العيدين، حديث:888.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى يوم العيد ركعتين لم يصل قبلهما ولا بعدهما. أخرجه السبعة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے روز دو ہی رکعتیں ادا فرمائیں نہ پہلے کچھ پڑھا اور نہ بعد میں کوئی نماز پڑھی۔
اسے ساتوں یعنی احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 391]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے پڑھیں – «يَوْمَ الْعِيدِ» عید کے دن – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «لَمْ يُصَلِّ» نہیں پڑھی (کوئی نماز) – «قَبْلَهُمَا» ان سے پہلے – «وَلَا بَعْدَهُمَا» اور نہ ان کے بعد۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «السَّبْعَةُ» ساتوں (ائمہ) نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھیں، نہ ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ ان کے بعد۔ اسے ساتوں (احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 391]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب الخطبة بعد العيد، حديث:964، ومسلم، صلاة العيدين، باب ترك الصلاة قبل العيد وبعدها في المصلي، حديث:884، وأبوداود، صلاة الاستسقاء، حديث:1159، والترمذي، الجمعة، حديث:537، والنسائي، صلاة العيدين، حديث:1588، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1291، وأحمد:1 /280، 340، 355.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
وعنه رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم العيد بلا أذان ولا إقامة. أخرجه أبو داود وأصله في البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید بغیر اذان و اقامت ادا فرمائی۔
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 392]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے پڑھی – «الْعِيدَ» عید (کی نماز) – «بِلَا أَذَانٍ» بغیر اذان کے – «وَلَا إِقَامَةٍ» اور بغیر اقامت کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الْبُخَارِيِّ» بخاری میں ہے۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ترك الأذان في العيد، حديث:1147. ابن جريج مدلس وعنعن، وأصله في البخاري، العيدين، حديث:959.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 393
وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم لا يصلي قبل العيد شيئا فإذا رجع إلى منزله صلى ركعتين. رواه ابن ماجه بإسناد حسن
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ البتہ جب واپس گھر تشریف لے آتے تو دو رکعت نماز نفل ادا فرماتے۔
اسے ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 393]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يُصَلِّي» نہیں پڑھتے – «قَبْلَ الْعِيدِ» عید سے پہلے – «شَيْئًا» کچھ بھی – «فَإِذَا رَجَعَ» پھر جب لوٹتے – «إِلَى مَنْزِلِهِ» اپنے گھر کی طرف – «صَلَّى» تو پڑھتے – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ» حسن سند کے ساتھ۔
اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید (کی نماز) سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے، پھر جب اپنے گھر لوٹتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ اسے ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 393]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب ما جاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها، حديث:1293.* ابن عقيل ضعيف ضعفه الجمهور علي الراجح.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 394
وعنه رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى وأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس على صفوفهم فيعظهم ويأمرهم. متفق عليه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید قربان (عید الاضحی) کے لئے عید گاہ کی طرف تشریف لے جاتے اور پہلی چیز جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز فرماتے وہ نماز ہوتی۔ ادائیگی نماز کے بعد رخ پھیر کر لوگوں کی طرف کھڑے ہوتے لوگ اس وقت اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور نیکی کا حکم کرتے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 394]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَخْرُجُ» نکلتے – «يَوْمَ الْفِطْرِ» عید الفطر کے دن – «وَالْأَضْحَى» اور عید الاضحیٰ کے دن – «إِلَى الْمُصَلَّى» عیدگاہ کی طرف – «وَأَوَّلُ شَيْءٍ» اور پہلی چیز – «يَبْدَأُ بِهِ» جس سے آپ ابتدا کرتے – «الصَّلَاةُ» نماز ہوتی – «ثُمَّ يَنْصَرِفُ» پھر (نماز سے) فارغ ہوتے – «فَيَقُومُ» تو کھڑے ہوتے – «مُقَابِلَ النَّاسِ» لوگوں کے سامنے – «وَالنَّاسُ» جبکہ لوگ – «عَلَى صُفُوفِهِمْ» اپنی صفوں میں (بیٹھے) ہوتے – «فَيَعِظُهُمْ» پس آپ انہیں نصیحت کرتے – «وَيَأْمُرُهُمْ» اور انہیں حکم دیتے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عیدگاہ کی طرف نکلتے، اور سب سے پہلے نماز سے ابتدا کرتے، پھر فارغ ہو کر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے جبکہ لوگ اپنی صفوں میں (بیٹھے) ہوتے، تو آپ انہیں وعظ و نصیحت کرتے اور (احکام کا) حکم دیتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 394]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب الخروج إلي المصلي بغير منبر، حديث:956، ومسلم، صلاة العيدين، حديث:889.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 395
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم قال: قال نبي الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏التكبير في الفطر سبع في الأولى وخمس في الأخرى والقراءة بعدهما كلتيهما» . أخرجه أبو داود ونقل الترمذي عن البخاري تصحيحه.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عید الفطر کی نماز کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ ہیں۔ دونوں رکعتوں میں قرآت تکبیرات کے بعد ہے۔“
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کی صحت نقل کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 395]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» اپنے دادا سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «نَبِيُّ اللَّهِ» اللہ کے نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «التَّكْبِيرُ» تکبیریں – «فِي الْفِطْرِ» عید الفطر میں – «سَبْعٌ» سات ہیں – «فِي الْأُولَى» پہلی (رکعت) میں – «وَخَمْسٌ» اور پانچ – «فِي الْأُخْرَى» دوسری میں – «وَالْقِرَاءَةُ» اور قراءت – «بَعْدَهُمَا» ان کے بعد ہے – «كِلْتَيْهِمَا» دونوں (رکعتوں) میں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَنَقَلَ» اور نقل کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «عَنِ الْبُخَارِيِّ» بخاری سے – «تَصْحِيحَهُ» اس کا صحیح قرار دینا۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر میں تکبیریں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ ہیں، اور قراءت دونوں رکعتوں میں تکبیروں کے بعد ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے بخاری سے اس کا صحیح قرار دینا نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب التكبيرفي العيدين، حديث:1151، والترمذي في علل الكبير:1 /88.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 396
وعن أبي واقد الليثي رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يقرأ في الفطر والأضحى بقاف واقتربت. أخرجه مسلم.
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ «ق» اور سورۃ «اقتربت الساعة» تلاوت فرماتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 396]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ» ابو واقد لیثی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقْرَأُ» پڑھا کرتے – «فِي الْفِطْرِ» عید الفطر میں – «وَالْأَضْحَى» اور عید الاضحیٰ میں – «بِقَافْ» (سورۂ) ق – «وَاقْتَرَبَتْ» اور (سورۂ) اقتربت (القمر)۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں سورۂ ق اور سورۂ اقتربت الساعۃ (القمر) پڑھا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة العيدين، باب ما يقرأ به في صلاة العيدين، حديث:891.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 397
وعن جابر رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا كان يوم العيد خالف الطريق. أخرجه البخاري. ولأبي داود عن ابن عمر رضي الله عنهما نحوه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ جانے اور واپس ہونے کے لیے راستہ تبدیل فرماتے تھے۔
اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 397]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا كَانَ» جب ہوتا – «يَوْمُ الْعِيدِ» عید کا دن – «خَالَفَ الطَّرِيقَ» راستہ بدل لیتے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں – «عَنِ ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «نَحْوُهُ» اسی طرح ہے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کے دن (آنے جانے کا) راستہ بدل لیتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور ابو داود میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب من خالف الطريق إذا رجع يوم العيد، حديث:986، وحديث ابن عمر أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1156 وسنده حسن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 398
وعن أنس رضي الله عنه قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال: «‏‏‏‏قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما: يوم الأضحى ويوم الفطر» . أخرجه أبو داود والنسائي بإسناد صحيح.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے لیے دو روز کھیل کود کے لیے مقرر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو دنوں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن عنایت فرما دیے ہیں۔ ایک عید الاضحی کا اور دوسرا عید الفطر کا دن۔“
اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 398]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَدِمَ» تشریف لائے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمَدِينَةَ» مدینہ – «وَلَهُمْ» اور ان (اہل مدینہ) کے لیے تھے – «يَوْمَانِ» دو دن – «يَلْعَبُونَ فِيهِمَا» جن میں وہ کھیلتے تھے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «قَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ» یقیناً اللہ نے تمہیں بدلے میں دیے ہیں – «بِهِمَا» ان دونوں کے – «خَيْرًا مِنْهُمَا» ان دونوں سے بہتر (دو دن): – «يَوْمَ الْأَضْحَى» قربانی کا دن – «وَيَوْمَ الْفِطْرِ» اور عید الفطر کا دن۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» صحیح سند کے ساتھ۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان (اہل مدینہ) کے دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے، آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا کیے ہیں: عید الاضحیٰ کا دن اور عید الفطر کا دن۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 398]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب صلاة العيدين، حديث:1134، والنسائي، صلاة العيدين، حديث:1557، وحميد صرح بالسماع عند أحمد:3 /250.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں