🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب الْوُضُوءِ مِنَ الْمِيضَأَةِ:
لوٹے سے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 713
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَأْتِينَا فِي مَنْزِلِنَا، فَآخُذُ مِيضَأَةً لَنَا تَكُونُ مُدًّا وَثُلُثَ مُدٍّ، أَوْ رُبُعَ مُدٍّ فَأَسْكُبُ عَلَيْهِ فَيَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے، پس میں اپنے گھر کا ایک لوٹا لیتی جو ایک مد اور ثلث مد یا ربع مد پانی کا ہوتا اور پانی ڈالتی، آپ تین تین بار اعضائے وضو کو دھوتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 717] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 390] ، [بيهقي 237] ، [أبوداؤد 126] ، [ترمذي 33] و [أحمد 358/6] ۔ نیز دیکھئے: [فتح الباري 286/1] و [نيل الأوطار 179/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب التَّسْمِيَةِ في الْوُضُوءِ:
وضو کے لئے بسم اللہ کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 714
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بسم اللہ نہ کہے اس کا وضو نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 714]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 718] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 397] ، [مسند أبى يعلی 1060، 1221] ، [دارقطني 71/1] و [ابن أبى شيبه 3/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 712 سے 714)
اس حدیث کے پیشِ نظر امام احمد رحمہ اللہ نے وضو سے پہلے بسم اللہ کہنا واجب قرار دیا ہے۔
اور ائمہ ثلاثہ (رحمہم اللہ) نے مسنون کہا ہے۔
اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے عمداً بسم اللہ نہ کہا اس کا وضو نہیں ہوا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب فِيمَنْ يُدْخِلُ يَدَيْهِ في الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهُمَا:
پانی کے برتن میں دھونے سے پہلے ہاتھ ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 715
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ أَنَّهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَوَضَّأَ، فَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا"، فَقُلْتُ أَنَا لَهُ: أَيُّ شَيْءٍ اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا؟ قَالَ: غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا.
سیدنا اوس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ نے دونوں پہنچوں پر تین بار پانی ڈالا۔ میں نے عرض کیا: «استوكف ثلاثا» سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 719] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 83] ، [الطيالسي 168] ، [أحمد 8/4، 9]
وضاحت: (تشریح حدیث 714)
اس حدیث سے وضو میں تین تین بار ہاتھ کا دھونا ثابت ہوا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب الْوُضُوءِ ثَلاَثاً:
اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ"أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ، فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قَالَ:"مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران مولی عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو کلی کی، ناک صاف کی، اور اپنے چہرے کو تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پیر (ٹخنے تک) تین بار دھوئے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھیک اسی طرح وضو کرتے دیکھا جس طرح میں نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر دو رکعت پڑھیں جن میں کچھ اور نہیں سوچا، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے گئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 720] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 159، 160] ، [مسلم 226] ، [أبوداؤد 100] ، [ترمذي 48] ، [نسائي 97] ، [ابن ماجه 405]
وضاحت: (تشریح حدیث 715)
اس حدیث سے اعضائے وضو تین تین بار دھونا ثابت ہوا اور مسح صرف ایک بار، اور یہ وضوئے کامل ہے، جو شخص ایسا وضو کرنے کے بعد دل لگا کر دو رکعت پڑھے اس کی یہ فضیلت ہے کہ اس کے تمام پچھلے صغیرہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
یہ دو رکعت تحیۃ الوضو ہیں، اس سے تحیۃ الوضو کی اہمیت و فضیلت بھی ثابت ہوئی، اور اسی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی آہٹ جنّت میں اپنے سے آگے محسوس کی۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ:
دو دو بار وضو کے اعضاء دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "دَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ"..
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جو عمرو کے دادا ہیں) نے پانی کا لوٹا منگوایا، پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور تین مرتبہ ہاتھ دھوئے (بخاری میں دو مرتبہ)، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنیوں تک اپنے ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 721] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 185] ، [مسلم 235] ، [صحيح ابن حبان 1077، 1083] ، [مسند الحميدي 421]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 718
أَخْبَرَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْهُ..
وضو کی مذکورہ بالا کیفیت سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 722] »
دیکھئے مذکورہ بالا تخریج۔
وضاحت: (تشریح احادیث 716 سے 718)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضو کرتے وقت کچھ اعضاء تین بار کچھ اعضاء دو بار دھوئے تب بھی وضو صحیح ہوگا، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:
اعضائے وضو کو ایک بار دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "أَلَا أُنَبِّئُكُمْ أَوْ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، أَوْ قَالَ: مَرَّةً مَرَّةً".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ نہ بتاؤں؟ اس کے بعد انہوں نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا، راوی نے کہا یا فرمایا: کہ وضو ایک ایک بار ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 723] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 157] ، [أبوداؤد 138] ، [نسائي 80] ، [ابن ماجه 411] ، [ابن حبان 1095]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 720
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضائے وضوء کو ایک ایک بار دھویا، اور کلی و استنشاق ایک چلو سے کئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 724] »
دیکھئے: تخریج سابق و [ابن حبان 1076] ، [حاكم 150/1] ، [البيهقي 50/1] و [ابن الجارود 69]
وضاحت: (تشریح احادیث 718 سے 720)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا جائے تب بھی وضو ہو جاتا ہے۔
اور استنشاق سے مراد ناک میں پانی چڑھانا اور ناک کو جھاڑنا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب مَا جَاءَ في إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ:
اچھی طرح وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: "أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:"إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ"..
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کیا نہ بتاؤں میں تم کو ایسی چیز جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور نیکیوں کو بڑھا دیتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تکلیف کے وقت (سردی وغیرہ میں) اچھی طرح وضو کرنا، اور بہت چلنا مسجدوں کی طرف، اور ایک نماز سے دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن والحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 725] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 427] ، [مسند أبى يعلی 1355] ، [صحيح ابن حبان 402]
وضاحت: (تشریح حدیث 720)
یعنی یہ تینوں چیزیں گناہوں کا کفارہ اور حسنات میں اضافہ کا باعث ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ..
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 726] »
تخريج سابق ملاحظہ کیجئے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں