سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في ابْنِ الْمُلاَعَنَةِ:
لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 2994
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ فِي ابْنِ الْمُلاعَنَةِ، قَالا: "عَصَبَتُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ".
سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن الملاعنہ کے عصبہ اس کی ماں کے عصبہ ہیں (یعنی وارث موجود نہ ہونے کی صورت میں سارا مال ان کا ہوگا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 3004] »
اس اثر کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ سیٔ الحفظ جدا ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11375] ، [عبدالرزاق 12482، ومن طريقه الطبراني فى الكبير 390/9، 9663] ، [ابن منصور 120] ، [البيهقي 258/6]
اس اثر کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ سیٔ الحفظ جدا ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11375] ، [عبدالرزاق 12482، ومن طريقه الطبراني فى الكبير 390/9، 9663] ، [ابن منصور 120] ، [البيهقي 258/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا
حدیث نمبر: 2995
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْحَلَبِيُّ مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا المُعْتَمِر، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُول: "مِيرَاثُ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّه، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ لَهُ أَخٌ مِنْ أُمِّه؟ قَالَ: لَهُ السُّدُسُ".
یونس نے کہا کہ حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: ولد الملاعنہ کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، یونس نے کہا: میں نے کہا اگر اس کا مادری بھائی بھی موجود ہو تو؟ کہا: اگر اس کا مادری بھائی ہو تو اس کے لئے سدس ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3005] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک جید ہے۔
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک جید ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد إلى الحسن
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: "وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّه، تَرِثُ فَرِيضَتَهَا مِنْهُ، وَسَائِرُ ذَلِكَ فِي بَيْتِ الْمَالِ".
امام زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا: ولد الملاعنہ: اس کی ماں اس کی وارث ہوگی اور اپنا حصہ اس کے مال سے لے گی، اور یہ سب مال بیت المال میں جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2996]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3006] »
اس اثر کی سند زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11370] ، [عبدالرزاق 12484] ، [كنزل العمال 40608]
اس اثر کی سند زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11370] ، [عبدالرزاق 12484] ، [كنزل العمال 40608]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الزهري
حدیث نمبر: 2997
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "إِذَا تَلَاعَنَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَجْتَمِعَا، وَدُعِيَ الْوَلَدُ لِأُمِّهِ، يُقَالُ: ابْنُ فُلَانَةَ، هِيَ عَصَبَتُهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُهُ، وَمَنْ دَعَاهُ لِزِنْيَةٍ، جُلِدَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر میاں بیوی لعان کریں تو ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی، پھر وہ کبھی بھی میاں بیوی نہ بن سکیں گے، اور لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا، یہ کہا جائے گا کہ فلاں عورت کا لڑکا ہے، وہ (ملاعنہ عورت) اس لڑکے کے لئے عصبہ ہوگی، وہ لڑکا اس کا وارث ہوگا اور وہ لڑکے کی وارث ہوگی۔ اور جس نے اس لڑکے کو ولد الزنا کا طعنہ دیا تو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ (اسّی کوڑے تہمت لگانے کے ہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2997]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف موسى بن عبيدة، [مكتبه الشامله نمبر: 3007] »
موسیٰ بن عبید کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11376] ، [عبدالرزاق 12478]
موسیٰ بن عبید کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11376] ، [عبدالرزاق 12478]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف موسى بن عبيدة
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ:"أَنَّهُ تَرِثُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ، وَهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ".
شیبانی (سلیمان بن ابی سلیمان) نے شعبی رحمہ اللہ سے ولد المتلاعنین کے بارے میں بیان کیا کہ اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث ہوں گے اور اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3008] »
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11367]
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11367]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الشعبي
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ هُوَ الَّذِي لَا أَبَ لَهُ "تَرِثُهُ أُمُّهُ وَإِخْوَتُهُ مِنْ أُمِّهِ، ِوَعَصَبَةُُ أُمِّهِ، فَإِنْ قَذَفَهُ قَاذِف، جُلِدَ قَاذِفُهُ".
سعید بن جبیر سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ولد المتلاعنہ کے بارے میں روایت کیا: جس کا باپ (معلوم) نہ ہو اس کی ماں اور اس کے مادری بھائی اور اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث ہوں گے، اگر اس کو کوئی زنا کی تہمت لگائے گا تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے (اسّی کوڑے تہمتِ زنا کے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 3009] »
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ہمام: ابن یحییٰ اور عزرہ: ابن عبدالرحمٰن ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8522] ، [البيهقي 402/7، فى كتاب اللعان، باب سنة اللعان و نفى الولد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ہمام: ابن یحییٰ اور عزرہ: ابن عبدالرحمٰن ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8522] ، [البيهقي 402/7، فى كتاب اللعان، باب سنة اللعان و نفى الولد]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى ابن عباس
حدیث نمبر: 3000
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِمَنْ هُوَ؟ قَالَ: جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِأُمِّهِ فِي سَبَبِهِ لِمَا لَقِيَتْ مِنْ الْبَلَاءِ، وَلِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ، وقَالَ مَكْحُول: فَإِنْ مَاتَتْ الْأُمُّ، وَتَرَكَتْ ابْنَهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ ابْنُهَا الَّذِي جُعِلَ لَهَا، كَانَ مِيرَاثُهُ لِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ كُلُّهُ، لِأَنَّهُ كَانَ لِأُمِّهِمْ وَجَدِّهِمْ، وَكَانَ لِأَبِيهَا السُّدُسُ مِنْ ابْنِ ابْنَتِهِ، وَلَيْسَ يَرِثُ الْجَدُّ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ أَبُ الْأُمِّ، وَإِنَّمَا وَرِثَ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ أُمَّهُمْ، وَوَرِثَ الْجَدُّ ابْنَتَهُ لِأَنَّهُ جُعِلَ لَهَا، فَالْمَالُ الَّذِي لِلْوَلَدِ لِوَرَثَةِ الْأُمِّ وَهُوَ بِحَوْزَةِ الْجَدُّ وَحْدَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ".
نعمان سے مروی ہے مکحول رحمہ اللہ سے ولد الملاعنہ کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا کہ کس کے لئے ہوگی؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث کو ماں کے لئے خاص کیا کیوں کہ اس کی وجہ سے ہی وہ اس (لعان کی) مصیبت میں گرفتار ہوئی، اور اس کی (میراث کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) مادری بھائیوں کے لئے خاص کیا۔
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: اگر ماں فوت ہو جائے اور اپنا بیٹا چھوڑ جائے، پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہو جائے جس کے لئے میراث تھی، تو اس کی میراث مادری بھائیوں کے لئے ہوگی، کیوں کہ یہ میراث ان (مادری بھائیوں کی) ماں اور نانا کے لئے ہے، اور نانا کے لئے اس کی نواسی کی میراث میں سے چھٹا حصہ ہوگا، اور نانا صرف اسی صورت میں وارث ہوگا اس لئے کہ وہ ماں کا باپ ہے، اور مادری بھائی اپنی ماں کے اور نانا اپنی بیٹی کا وارث ہوگا، کیونکہ اس (متلاعن بیٹے) کی میراث ماں کے لئے ہے، پس جو مال اس لڑکے کا ہے وہ ماں کے وارثین کا ہے، اگر کوئی دوسرا وارث نہ ہوتو کل میراث نانا کے قبضہ میں ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3000]
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: اگر ماں فوت ہو جائے اور اپنا بیٹا چھوڑ جائے، پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہو جائے جس کے لئے میراث تھی، تو اس کی میراث مادری بھائیوں کے لئے ہوگی، کیوں کہ یہ میراث ان (مادری بھائیوں کی) ماں اور نانا کے لئے ہے، اور نانا کے لئے اس کی نواسی کی میراث میں سے چھٹا حصہ ہوگا، اور نانا صرف اسی صورت میں وارث ہوگا اس لئے کہ وہ ماں کا باپ ہے، اور مادری بھائی اپنی ماں کے اور نانا اپنی بیٹی کا وارث ہوگا، کیونکہ اس (متلاعن بیٹے) کی میراث ماں کے لئے ہے، پس جو مال اس لڑکے کا ہے وہ ماں کے وارثین کا ہے، اگر کوئی دوسرا وارث نہ ہوتو کل میراث نانا کے قبضہ میں ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى محكول صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3010] »
اس حدیث کی سند مکحول رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2907] ، [ابن أبى شيبه 11364، مختصرًا] و [البيهقي 259/6]
اس حدیث کی سند مکحول رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2907] ، [ابن أبى شيبه 11364، مختصرًا] و [البيهقي 259/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده إلى محكول صحيح
حدیث نمبر: 3001
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْه فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَجَاءَ عَصَبَةُ أَبِيهِ يَطْلُبُونَ مِيرَاثَه، فَقَالَ: "إِنَّ أَبَاهُ كَانَ تَبَرَّأَ مِنْهُ، فَلَيْسَ لَكُمْ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِأُمِّهِ، وَجَعَلَهَا عَصَبَتَهُ".
عکرمہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس متلاعنین کے لڑکے کا جھگڑا لے کر آئے تو اس (ولد الملاعنہ) کے باپ کی طرف کے لوگ (عصبہ) بھی اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے باپ نے اس سے بیزاری اختیار کی (اس لئے) اس کی میراث میں سے تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس کی میراث کا فیصلہ اس (ولد الملاعنہ) کی ماں کے حق میں دیا اور ماں کو اس کا عصبہ قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، [مكتبه الشامله نمبر: 3011] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے کیوں کہ سماک کی روایت عکرمہ سے مضطرب ہے، لیکن یہ فیصلہ سہی ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 258/6]
اس اثر کی سند ضعیف ہے کیوں کہ سماک کی روایت عکرمہ سے مضطرب ہے، لیکن یہ فیصلہ سہی ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 258/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 2988 سے 3001)
لعان يا ملاعنہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے حمل کا انکاری ہو، چار گواہ نہ لانے کی صورت میں لعان کے بعد حاکم میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا، اس کی تفصیل کتاب النکاح میں گذر چکی ہے۔
اس صورت میں لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی میراث ماں اور ماں جائے بھائی اور ماں کے عصبہ کی طرف ہی منتقل ہوگی، باپ کیوں کہ اس کا انکاری تھا اس لئے باپ یا اس کے قریبی اس ولد ملاعن کے وارث نہ ہوں گے۔
ان تمام آثار کا لب لباب یہ ہی ہے جیسا کہ ضعیف حدیث میں ہے: «إنه يرث أمه وترثه» یعنی وہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔
جمہور علماءکا اسی پر عمل ہے۔
والله اعلم۔
لعان يا ملاعنہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے حمل کا انکاری ہو، چار گواہ نہ لانے کی صورت میں لعان کے بعد حاکم میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا، اس کی تفصیل کتاب النکاح میں گذر چکی ہے۔
اس صورت میں لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی میراث ماں اور ماں جائے بھائی اور ماں کے عصبہ کی طرف ہی منتقل ہوگی، باپ کیوں کہ اس کا انکاری تھا اس لئے باپ یا اس کے قریبی اس ولد ملاعن کے وارث نہ ہوں گے۔
ان تمام آثار کا لب لباب یہ ہی ہے جیسا کہ ضعیف حدیث میں ہے: «إنه يرث أمه وترثه» یعنی وہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔
جمہور علماءکا اسی پر عمل ہے۔
والله اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
25. باب في مِيرَاثِ الْخُنْثَى:
خنثی (ہیجڑے) کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3002
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى: أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ مَا لِلرَّجُلِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ أَيِّهِمَا يُوَرَّثُ، فَقَالَ: "مِنْ أَيِّهِمَا بَالَ".
محمد بن علی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ایسے آدمی کے بارے میں جو نہ مرد ہو نہ عورت (یعنی ہیجڑا ہو) اس کو کس حیثیت سے میراث دی جائے گی (مرد کی یا عورت کی)، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جس عضو سے پیشاب نکلے (یعنی پیشاب جس جگہ سے کرے اس کا اعتبار ہو گا، ذکر سے پیشاب کرے تو مرد ورنہ عورت کی میراث پائے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع (بين محمد بن علي بن الحسين وعلي بن أبي طالب)، [مكتبه الشامله نمبر: 3012] »
محمد بن علی الحسین کا اپنے دادا سے لقاء ثابت نہیں۔ تخریج اگلی حدیث کے تحت آرہی ہے۔
محمد بن علی الحسین کا اپنے دادا سے لقاء ثابت نہیں۔ تخریج اگلی حدیث کے تحت آرہی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع (بين محمد بن علي بن الحسين وعلي بن أبي طالب)
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْخُنْثَى، قَالَ: "يُوَرَّثُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ".
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خنثی (ہیجڑے) کے بارے میں کہا: پیشاب کرنے کی جگہ کے اعتبار سے وہ وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3003]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 3013] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: شعبی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا، اور ہشیم مدلس ہیں عنعنہ سے روایت کی ہے۔ تخریج دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11410] ، [عبدالرزاق 19204] ، [ابن منصور 126] ۔ مغیرہ: ابن مقسم ہیں۔
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: شعبی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا، اور ہشیم مدلس ہیں عنعنہ سے روایت کی ہے۔ تخریج دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11410] ، [عبدالرزاق 19204] ، [ابن منصور 126] ۔ مغیرہ: ابن مقسم ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: