سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في مِيرَاثِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الإِسْلاَمِ:
مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ عِيسَى الْخياط، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالُوا: لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ دِينَيْنِ".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دو (مختلف) دین کے لوگوں کو آپس میں وارث نہیں مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3034] »
اس اثر کی سند میں حسن: ابن صالح ہیں اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الخیاط متروک ہیں۔ اس اثر کو عبدالرزاق نے [مصنف 9871] پر ذکر کیا ہے۔
اس اثر کی سند میں حسن: ابن صالح ہیں اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الخیاط متروک ہیں۔ اس اثر کو عبدالرزاق نے [مصنف 9871] پر ذکر کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 3025
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: "لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ".
عامر (الشعبی) رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو (مختلف) ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3035] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے کیوں کہ عامر الشعبی کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 9864] ، لیکن اس کا شاہد صحیحین میں موجود ہے جیسا کہ آگے (3033) میں آرہا ہے۔
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے کیوں کہ عامر الشعبی کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 9864] ، لیکن اس کا شاہد صحیحین میں موجود ہے جیسا کہ آگے (3033) میں آرہا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3026
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا يَرِثُونَا، إِلَّا أَنْ يَمُوتَ لِلرَّجُلِ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب کے نہ ہم وارث ہوں گے نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔ سوائے اس کے کہ کسی آدمی کا غلام یا اس کی لونڈی فوت ہو جائے۔“ (یعنی مسلم غیر مسلم کا وارث نہیں لیکن کسی کا غیر مسلم غلام یا لونڈی فوت ہوئے تو اس کا مال آقا کو ملے گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو موقوف على جابر، [مكتبه الشامله نمبر: 3036] »
اس روایت کی سند میں ضعف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11495] و [مجمع الزوائد 7245 موقوفًا على جابر]
اس روایت کی سند میں ضعف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11495] و [مجمع الزوائد 7245 موقوفًا على جابر]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف وهو موقوف على جابر
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا يَرِثُونَا، إِلَّا الرَّجُلُ يَرِثُ عَبْدَهُ، أَوْ أَمَتَهُ".
اس حدیث کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3037] »
تخریج بھی وہی ہے جو اوپر گذری۔
تخریج بھی وہی ہے جو اوپر گذری۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3028
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:"كَانَ مُعَاوِيَةُ يُوَرِّثُ الْمُسْلِمَ مِنْ الْكَافِرِ، وَلَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُسْلِمِ، قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ: وَمَا حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ قَضَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهَذَا؟ قَالَ: لا.
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان کو کافر کا وارث مانتے تھے لیکن کافر کو مسلم کا وارث نہیں مانتے تھے، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مسروق نے کہا: اسلام میں اس سے زیادہ اچھا مجھے اور کوئی فیصلہ نہ لگا۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہی فرماتے ہیں؟ کہا: نہیں (یعنی دونوں کے درمیان توارث جائز نہیں جیسا کہ آگے صحیح حدیث میں آرہا ہے۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أننا لم نعرف لمسروق رواية عن معاوية، [مكتبه الشامله نمبر: 3038] »
اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11497] ، [ابن منصور 145، 147 بسند صحيح]
اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11497] ، [ابن منصور 145، 147 بسند صحيح]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أننا لم نعرف لمسروق رواية عن معاوية
حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ: أَنَّ الْمُعْزِلَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تُوُفِّيَتْ بِالْيَمَنِ وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، فَرَكِبَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَكَانَتْ عَمَّتَهُ، إِلَى عُمَرَ فِي مِيرَاثِهَا، فَقَالَ عُمَرُ:"لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، يَرِثُهَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، لَا يَتَوَارَثُ مِلَّتَانِ".
عامر الشعبی رحمہ اللہ نے کہا: معزلہ بنت حارث یہودیہ یمن میں فوت ہوئیں تو اشعث بن قیس جن کی وہ پھوپھی تھیں سوار ہو کر اس کی میراث کے بارے میں پوچھنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ان کی میراث نہیں پا سکتے ہو، ان کے دین والا ان کا قریبی رشتے دار ہی ان کا وارث ہو گا (کیوں کہ) دو ملتوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3029]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3039] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 144] ۔ نیز دیکھئے: رقم (3024، 3025) کی تخریج۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 144] ۔ نیز دیکھئے: رقم (3024، 3025) کی تخریج۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3030
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "لَا يَتَوَارَثُ مِلَّتَانِ شَتَّى، وَلَا يَحْجُبُ مَنْ لَا يَرِثُ".
انس بن سیرین نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو مختلف ملتوں کے لوگ وارث نہ ہوں گے، اور جو وارث نہ ہو محروم بھی نہ کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3030]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع أنس بن سيرين لم يدرك ابن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 3040] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، انس نے امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، رجال اس سند کے ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن منصور 138]
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، انس نے امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، رجال اس سند کے ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن منصور 138]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع أنس بن سيرين لم يدرك ابن الخطاب
حدیث نمبر: 3031
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3031]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3041] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6764] ، [مسلم 1614] ، [أبوداؤد 2909] ، [ترمذي 2108] ، [ابن ماجه 2729] ، [أبويعلی 4757] ، [ابن حبان 6033] ، [الحميدي 551] ۔ نیز آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6764] ، [مسلم 1614] ، [أبوداؤد 2909] ، [ترمذي 2108] ، [ابن ماجه 2729] ، [أبويعلی 4757] ، [ابن حبان 6033] ، [الحميدي 551] ۔ نیز آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3020 سے 3031)
یعنی باپ مسلمان ہو اور بیٹا کافر تو باپ بیٹے کا وارث نہیں ہوگا، اور بیٹا کافر باپ مسلمان ہو تب بھی بیٹا باپ کا وارث نہ ہوگا۔
یعنی باپ مسلمان ہو اور بیٹا کافر تو باپ بیٹے کا وارث نہیں ہوگا، اور بیٹا کافر باپ مسلمان ہو تب بھی بیٹا باپ کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا، وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جب آدمی مر جائے تو وارث کا حق (وراثت) واجب ہو جاتا ہے، اور جو میراث کی تقسیم سے پہلے مسلمان ہو یا آزاد ہو اس کے لئے میراث میں سے انہوں نے کچھ نہیں رکھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3032]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جعفر بن عون لم يذكر فيمن سمع سعيد بن أبي عروبة قبل الاختلاط، [مكتبه الشامله نمبر: 3042] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11675] ، [عبدالرزاق 9889]
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11675] ، [عبدالرزاق 9889]
وضاحت: (تشریح حدیث 3031)
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جعفر بن عون لم يذكر فيمن سمع سعيد بن أبي عروبة قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 3033
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3033]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3043] »
اس حدیث کی تخریج (3031) پرگذر چکی ہے۔
اس حدیث کی تخریج (3031) پرگذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه