سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب في مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ:
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3014
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: "الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَالْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، وَبِنْتُ الْأَخِ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَكُلُّ ذِي رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ رَحِمِهِ الَّتِي يُدْلِي بِهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ ذُو قَرَابَةٍ".
مسروق رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: خالہ ماں کے درجے میں ہے، اور پھوپھی باپ کے درجے میں، اور بھتیجی بھائی کے درجہ میں، اور ہر ذی رحم (قرابت دار) اس درجہ میں ہے جو میت سے قریب کا رشتہ دار ہو جب کہ اس کا قریبی وارث نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3014]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3024] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11165] ، [عبدالرزاق 19115] ، [ابن منصور 155]
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11165] ، [عبدالرزاق 19115] ، [ابن منصور 155]
وضاحت: (تشریح احادیث 3009 سے 3014)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ خالہ، پھوپھی، ماموں، چچا، بھائی اور بہن کی اولاد میت کے اصل وارث نہ ہونے کی صورت میں اس کے مال کے وارث ہوں گے، اور اس کے مال کو بیت المال میں جمع کرنے کے بعد ذوی الارحام میں ذوی الفروض کی طرح تقسیم کر دیا جائے گا۔
والله اعلم وعلمہ اتم۔
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ خالہ، پھوپھی، ماموں، چچا، بھائی اور بہن کی اولاد میت کے اصل وارث نہ ہونے کی صورت میں اس کے مال کے وارث ہوں گے، اور اس کے مال کو بیت المال میں جمع کرنے کے بعد ذوی الارحام میں ذوی الفروض کی طرح تقسیم کر دیا جائے گا۔
والله اعلم وعلمہ اتم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
28. باب الْعَصَبَةِ:
عصبہ کا بیان
حدیث نمبر: 3015
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: أَنَّ عُمَرَ قَضَى فِي أَهْلِ طَاعُونِ عَمَوَاسَ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا مِنْ قِبَلِ الْأَبِ سَوَاءً، فَبَنُو الْأُمِّ أَحَقُّ، وَإِذَا كَانَ بَعْضُهُمْ أَقْرَبَ مِنْ بَعْضٍ بِأَبٍ، فَهُمْ أَحَقُّ بِالْمَالِ".
ضحاک بن قیس نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طاعون عمواس (یا دور اسلام میں جو پہلا طاعون آیا اس) میں میراث کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وارثین جو باپ کی جانب سے بچے ہوں وہ سب درجے میں برابر ہوں تو ماں کی جانب والے زیادہ حق دار ہوں گے اور وارثین میں سے جو بھی باپ کے زیادہ قریب ہو گا وہ ہی مال کا زیادہ حق دار ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3025] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19039، 19136] ، [البيهقي 239/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19039، 19136] ، [البيهقي 239/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 3014)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عمواس نامی مقام پر طاعون کی وبا پھیلی تو اس میں پورے خاندان اور قبیلے کے قبیلے ختم ہو گئے اور مال کے وارثین نہ بچے، وہاں کے امیر نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا کہ ہلاک شدگان کے اموال و ترکے کا کیا کیا جائے؟ تو امیر المؤمنین نے جواب دیا کہ باپ اور ماں کے قریبی رشتے دار موجود ہوں تو ان میں اس مال کو تقسیم کر دیا جائے جنہیں عصبہ کہتے ہیں۔
یعنی عاصب وہ شخص ہے جس کا حصہ قرآن پاک میں مقرر نہیں اور وارث کی غیر موجودگی میں کل مال سمیٹ لے، یا اصحاب الفروض کے سہام نکال دینے کے بعد جو بچ جائے وہ اس کا ہو جائے۔
عصبہ کی دو قسمیں ہیں: عصبہ بالنسب اور عصب بالسبب، عصبہ بالسبب تو یہ ہے کہ جو شخص کسی کو آزاد کرائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو آزاد کرانے والا اس کے کل مال کا حق دار ہوگا، اور عصبہ بالنسب تین طرح کے ہیں: (1) عصبہ بنفسہ: باپ، دادا، پردادا وغیرہ، بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیره، حقیقی بھائی، پدری بھائی وغیرہ، (2) عصب لغیرہ: وہ عورت جو کسی مرد کی معیت سے عصبہ بنے، مثلاً حقیقی بہن جب کہ اس کے ساتھ حقیقی بھائی موجود ہو، وغیرہ وغیرہ، (3) عصبہ مع الغير: وہ عورت جو کسی عورت کی معیت میں عصبہ بنے، جیسے ایک یا زیادہ حقیقی بہنیں، ایک یا زیادہ بیٹوں یا ایک یا زیادہ پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ مع الغیر ہو جاتی ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 112] اور [منهاج المسلم للشيخ الجزائري، ص: 674] ۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عمواس نامی مقام پر طاعون کی وبا پھیلی تو اس میں پورے خاندان اور قبیلے کے قبیلے ختم ہو گئے اور مال کے وارثین نہ بچے، وہاں کے امیر نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا کہ ہلاک شدگان کے اموال و ترکے کا کیا کیا جائے؟ تو امیر المؤمنین نے جواب دیا کہ باپ اور ماں کے قریبی رشتے دار موجود ہوں تو ان میں اس مال کو تقسیم کر دیا جائے جنہیں عصبہ کہتے ہیں۔
یعنی عاصب وہ شخص ہے جس کا حصہ قرآن پاک میں مقرر نہیں اور وارث کی غیر موجودگی میں کل مال سمیٹ لے، یا اصحاب الفروض کے سہام نکال دینے کے بعد جو بچ جائے وہ اس کا ہو جائے۔
عصبہ کی دو قسمیں ہیں: عصبہ بالنسب اور عصب بالسبب، عصبہ بالسبب تو یہ ہے کہ جو شخص کسی کو آزاد کرائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو آزاد کرانے والا اس کے کل مال کا حق دار ہوگا، اور عصبہ بالنسب تین طرح کے ہیں: (1) عصبہ بنفسہ: باپ، دادا، پردادا وغیرہ، بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیره، حقیقی بھائی، پدری بھائی وغیرہ، (2) عصب لغیرہ: وہ عورت جو کسی مرد کی معیت سے عصبہ بنے، مثلاً حقیقی بہن جب کہ اس کے ساتھ حقیقی بھائی موجود ہو، وغیرہ وغیرہ، (3) عصبہ مع الغير: وہ عورت جو کسی عورت کی معیت میں عصبہ بنے، جیسے ایک یا زیادہ حقیقی بہنیں، ایک یا زیادہ بیٹوں یا ایک یا زیادہ پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ مع الغیر ہو جاتی ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 112] اور [منهاج المسلم للشيخ الجزائري، ص: 674] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3016
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: أُصِيبَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ الْيَمَامَة، فَبَلَغَ مِيرَاثُهُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ عُمَرُ: "احْبِسُوهَا عَلَى أُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا".
عبداللہ بن شداد بن الہاد نے کہا: ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام: سالم معرکہ یمامہ میں جاں بحق ہو گئے اور انہوں نے دو سو درہم میراث میں چھوڑے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان (دراہم) کو ان کی ماں کے لئے روکے رکھو یہاں تک کہ وہ فوت ہو جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3016]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي وأبو شهاب هو: عبد ربه بن نافع وأبو إسحاق الشيباني هو: سليمان بن أبي سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 3026] »
اس اثر کی سند قوی ہے۔ ابوشہاب کا نام عبدربہ بن نافع ہے اور ابواسحاق کانام سلیمان بن ابی سلیمان الشیبانی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16237 وفيه: حتى تستكمه أو تموت]
اس اثر کی سند قوی ہے۔ ابوشہاب کا نام عبدربہ بن نافع ہے اور ابواسحاق کانام سلیمان بن ابی سلیمان الشیبانی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16237 وفيه: حتى تستكمه أو تموت]
وضاحت: (تشریح حدیث 3015)
مرنے والا اپنے پیچھے صرف ماں کو چھوڑے اور میت کے بیٹے، پوتے، بھائی، بہن کوئی نہ ہوں تو ماں کا مقررہ حصہ ثلث ہے۔
مرنے والا اپنے پیچھے صرف ماں کو چھوڑے اور میت کے بیٹے، پوتے، بھائی، بہن کوئی نہ ہوں تو ماں کا مقررہ حصہ ثلث ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي وأبو شهاب هو: عبد ربه بن نافع وأبو إسحاق الشيباني هو: سليمان بن أبي سليمان
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ، يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مادری بھائی (ماں کے) وارث ہوں گے، پدری بھائی وارث نہ ہوں گے، اور آدمی اپنے حقیقی بھائی کا وارث ہو گا پدری بھائی کے علاوہ (یعنی پدری بھائی، حقیقی بھائی کی موجودگی میں وارث نہ ہو گا)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3027] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2739، فى ميراث العصبه] ، [أبويعلی 300، 361] ، [الحميدي 55]
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2739، فى ميراث العصبه] ، [أبويعلی 300، 361] ، [الحميدي 55]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ:"أَرَأَيْتَ رَجُلًا تَرَكَ ابْنَ ابْنَتِهِ، أَيَرِثُهُ؟ قَالَ: لا".
نعمان بن سالم نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک آدمی اپنا نواسہ چھوڑ کر مر گیا، کیا وہ اس مرنے والے کا وارث ہو گا؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں (کیونکہ نواسہ وارث نہیں تو عصبہ ہو کر بھی وہ ترکہ نہ لے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى ابن عمر وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3028] »
یہ اثر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پرموقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2094] ، [ابن ماجه 2739] ، [ابن أبى شيبه 11245]
یہ اثر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پرموقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2094] ، [ابن ماجه 2739] ، [ابن أبى شيبه 11245]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى ابن عمر وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 3019
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ، وَالْأُخْتُ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں اس کی عصبہ ہے جس کا اور کوئی عصبہ نہ ہو، اور بہن اس کی عصبہ ہے جس کا کوئی اور عصبہ نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3019]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3029] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم کا لقاء سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے منقطع ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 166] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (2997)۔
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم کا لقاء سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے منقطع ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 166] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (2997)۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3020
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِي، فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو اور جو بچ جائے وہ (میت کے) قریب ترین مرد (رشتہ دار) کا حصہ ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3030] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6732] ، [مسلم 1615] ، [أبوداؤد 2898] ، [ترمذي 2098] ، [ابن ماجه 4740] ، [ابن حبان 6028، 6049]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6732] ، [مسلم 1615] ، [أبوداؤد 2898] ، [ترمذي 2098] ، [ابن ماجه 4740] ، [ابن حبان 6028، 6049]
وضاحت: (تشریح احادیث 3016 سے 3020)
عصبہ کے حق میں یہ قوی دلیل ہے جو ان کو وراثت میں حق دار قرار دیتی ہے۔
عصبہ کے حق میں یہ قوی دلیل ہے جو ان کو وراثت میں حق دار قرار دیتی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
29. باب في مِيرَاثِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الإِسْلاَمِ:
مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3021
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ: أَنَّ عَمَّةً لَهُ تُوُفِّيَتْ يَهُودِيَّةً بِالْيَمَنِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: "يَرِثُهَا أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا".
محمد بن اشعث سے مروی ہے کہ ان کی یہودیہ پھوپھی یمن میں فوت ہو گئیں، انہوں نے اس کا تذکرہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: جو ان کا قریبی رشتہ دار ان کے مذہب پر ہو گا وہی ان کا وارث ہو گا۔ (یعنی تم مسلمان ہو، اس یہودیہ پھوپھی کے وارث نہ ہو گے، ان کا یہودی رشتے دار ہی ان کا وارث ہو گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3031] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [الموطأ: ميراث أهل الملل فى الفرائض 12] ، [ابن أبى شيبه 11490] ، [عبدالرزاق 9859، 19307] ، [البيهقي 218/3]
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [الموطأ: ميراث أهل الملل فى الفرائض 12] ، [ابن أبى شيبه 11490] ، [عبدالرزاق 9859، 19307] ، [البيهقي 218/3]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
حدیث نمبر: 3022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: مَاتَتْ عَمَّةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَهِيَ يَهُودِيَّة، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّاب، فَقَالَ: "أَهْلُ دِينِهَا يَرِثُونَهَا".
طارق بن شہاب نے کہا: اشعث بن قیس کی پھوپھی وفات پا گئیں جو کہ یہودی تھیں، وہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے جواب دیا: جو ان کے دین پر ہیں (یعنی یہودی ہیں صرف) وہی ان کے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3022]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3032] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11484] ، [عبدالرزاق 9860] ، [البيهقي 219/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11484] ، [عبدالرزاق 9860] ، [البيهقي 219/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "أَهْلُ الشِّرْكِ لَا نَرِثُهُمْ، وَلَا يَرِثُونَا".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مشرکین کے وارث نہیں ہیں، نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3033] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے، ابراہیم رحمہ اللہ ( «لم يدرك عمر رضي الله عنه» ) اور حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [عبدالرزاق 9856، 19294] ، [ابن منصور 141] ۔ یہ روایت آگے مرفوع آرہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مشرک کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ مشرک مسلمان کا وراث بنے گا۔
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے، ابراہیم رحمہ اللہ ( «لم يدرك عمر رضي الله عنه» ) اور حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [عبدالرزاق 9856، 19294] ، [ابن منصور 141] ۔ یہ روایت آگے مرفوع آرہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مشرک کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ مشرک مسلمان کا وراث بنے گا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع