سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في مِيرَاثِ الْخُنْثَى:
خنثی (ہیجڑے) کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ، قَالَ: سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ مَوْلُودٍ وُلِدَ، وَلَيْسَ بِذَكَرٍ، وَلَا أُنْثَى، لَيْسَ لَهُ مَا لِلذَّكَرِ، وَلَيْسَ لَهُ مَا لِلْأُنْثَى، يُخْرِجُ مِنْ سُرَّتِهِ كَهَيْئَةِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ: "نِصْفُ حَظِّ الذَّكَرِ، وَنِصْفُ حَظِّ الْأُنْثَى".
ابوہانی نے کہا: عامر (الشعبی) رحمہ اللہ سے ایسے بچے کے بارے میں پوچھا گیا جو نہ مذکر ہو نہ مؤنث، نہ پورا عضو مرد کا نہ پورا عضو عورت کا ہو، اس کی ٹنڈی سے پیشاب پاخانہ نکلے، اس کا میراث میں حصہ کس حیثیت سے ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: اس کا آدھا حصہ مرد کی حیثیت سے اور آدھا حصہ عورت کی حیثیت سے ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3014] »
ابوہانی کا نام عمر بن بشیر ہے، اور اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11413] ، [دارقطني 81/4]
ابوہانی کا نام عمر بن بشیر ہے، اور اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11413] ، [دارقطني 81/4]
وضاحت: (تشریح احادیث 3001 سے 3004)
یہ مسئلہ خنثی مشکل کا ہے، اور اس بارے میں بہتر یہ ہے کہ بچہ اگر ہو تو بلوغت تک انتظار کر لیا جائے، ہو سکتا ہے کوئی صورتِ حال واضح ہو جائے، اور اگر میراث کی تقسیم فی الفور ضروری ہو تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اسے نصف حصہ مذکّر کا اور نصف حصہ مؤنّث کا دے دیا جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [منهاج المسلم، ص: 697] ۔
یہ مسئلہ خنثی مشکل کا ہے، اور اس بارے میں بہتر یہ ہے کہ بچہ اگر ہو تو بلوغت تک انتظار کر لیا جائے، ہو سکتا ہے کوئی صورتِ حال واضح ہو جائے، اور اگر میراث کی تقسیم فی الفور ضروری ہو تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اسے نصف حصہ مذکّر کا اور نصف حصہ مؤنّث کا دے دیا جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [منهاج المسلم، ص: 697] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
26. باب الْكَلاَلَةِ:
کلالہ کا بیان
حدیث نمبر: 3005
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ:"إِنِّي سَأَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، وَمِنَ الشَّيْطَانِ: أُرَاهُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدِ"، َفَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، قَالَ: إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللَّهَ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ.
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں اس بارے میں اپنی رائے بیان کرتا ہوں، وہ صحیح ہو تو الله تعالیٰ کی طرف سے (ہدایت) ہے اور اگر غلط ہوا تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، میرا خیال ہے کہ (کلالہ وہ میت ہے) جس نے نہ باپ چھوڑا ہو اور نہ بیٹا، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے کہا: مجھے اللہ سے اس بات پر شرم آتی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو کہا اس کو رد کر دوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3015] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ عاصم: ابن سلیمان ہیں اور عامر: ابن شراحبیل الشعبی ہیں۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11646] ، [عبدالرزاق 19191] ، [ابن منصور 591] ، [البيهقي 224/6]
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ عاصم: ابن سلیمان ہیں اور عامر: ابن شراحبیل الشعبی ہیں۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11646] ، [عبدالرزاق 19191] ، [ابن منصور 591] ، [البيهقي 224/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 3004)
کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس نے نہ باپ چھوڑا ہو اور نہ بیٹا۔
سورۂ نساء کی آخری آیت 176 میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ ایسے مرنے والے نے اگر صرف بہن چھوڑی ہے تو اس کو نصف ملے گا، دو بہنیں ہیں تو دو ثلث ملے گا، اور اگر صرف بہن بھائی چھوڑے ہیں تو للذکر مثل حظ الانثین کے قاعدے کے مطابق ترکہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا۔
کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس نے نہ باپ چھوڑا ہو اور نہ بیٹا۔
سورۂ نساء کی آخری آیت 176 میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ ایسے مرنے والے نے اگر صرف بہن چھوڑی ہے تو اس کو نصف ملے گا، دو بہنیں ہیں تو دو ثلث ملے گا، اور اگر صرف بہن بھائی چھوڑے ہیں تو للذکر مثل حظ الانثین کے قاعدے کے مطابق ترکہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: "مَا أَعْضَلَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مَا أَعْضَلَتْ بِهِمْ الْكَلَالَةُ".
عقبہ بن عامر جہنی نے کہا: اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز نے اتنا نہیں تھکایا جتنا کلالہ نے انھیں تھکایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3016] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11648]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11648]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3007
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "الْكَلَالَةُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کلالہ یہ ہے کہ (مرنے والا) باپ اور بیٹا نہ چھوڑے (جو اس کا وارث ہو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 3017] »
اس روایت کی سند صحیح على شرط البخاری ہے۔ اس کی سند میں حسن بن محمد: ابن علی بن ابی طالب ہیں۔ تخریج دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11647] ، [عبدالرزاق 19189] ، [ابن منصور 588] ، [تفسير طبري 284/4] ، [البيهقي 225/6]
اس روایت کی سند صحیح على شرط البخاری ہے۔ اس کی سند میں حسن بن محمد: ابن علی بن ابی طالب ہیں۔ تخریج دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11647] ، [عبدالرزاق 19189] ، [ابن منصور 588] ، [تفسير طبري 284/4] ، [البيهقي 225/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح على شرط البخاري
حدیث نمبر: 3008
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدٍ:"أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَو امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ سورة النساء آية 12 لِأُمٍّ".
سعید (بعض روایات میں سعد) سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی: «وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ . . . . . .» [نساء: 12/4] یعنی: جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو (یعنی اس کا باپ اور بیٹا نہ ہو) اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے، یہ آیت ہے لیکن اس کو سعید نے «فله أخ أو أخت لأم» پڑھا ہے، یعنی بھائی اور مادری بہن چھوڑے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3008]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «ما بين حاصرتين زيادة من الطبري إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3018] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11650] ، [ابن منصور 592] ، [طبري 287/4] ، [البيهقي 231/6] ۔ «باب فرض الأخوة والأخوات لأم» مقصد یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں بھائی اور بہن سے مراد اخیافی بھائی اور بہن (مادری بہن بھائی ہیں) اور حقیقی بہن کا حصہ نصف ہے۔ «كما فى آخر آية من سورة النساء والله اعلم»
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11650] ، [ابن منصور 592] ، [طبري 287/4] ، [البيهقي 231/6] ۔ «باب فرض الأخوة والأخوات لأم» مقصد یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں بھائی اور بہن سے مراد اخیافی بھائی اور بہن (مادری بہن بھائی ہیں) اور حقیقی بہن کا حصہ نصف ہے۔ «كما فى آخر آية من سورة النساء والله اعلم»
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: ما بين حاصرتين زيادة من الطبري إسناده صحيح
27. باب في مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ:
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3009
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ: أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"الْتَمَسَ مَنْ يَرِثُ ابْنَ الدَّحْدَاحَةِ، فَلَمْ يَجِدْ وَارِثًا، فَدَفَعَ مَالَ ابْنِ الدَّحْدَاحَةِ إِلَى أَخْوَالِ ابْنِ الدَّحْدَاحَةِ".
عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری نے خبر دی کہ امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابن الدحداحہ کا وارث تلاش کیا جو انہیں ملا نہیں، چنانچہ انہوں نے ابن الدحداحہ کا مال ان کے ماموؤں کو دے دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3019] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں لیکن سند میں انقطاع ہے۔ دیکھیں: [البيهقي 216/6-217] ۔ نیز (3093) پر آگے یہ اثر آ رہا ہے۔
اس اثر کے رجال ثقات ہیں لیکن سند میں انقطاع ہے۔ دیکھیں: [البيهقي 216/6-217] ۔ نیز (3093) پر آگے یہ اثر آ رہا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3005 سے 3009)
ذوی الارحام ان قرابت داروں کو کہا جاتا ہے جو نہ اصحاب الفروض سے ہوں اور نہ ہی عصبہ سے، جیسے: ماموں، خالہ، پھوپھی، چچا کی بیٹی، بھانجا، بھانجی، اور بیٹی کی اولاد (نواسی نواسے) وغیرہ جو وارث نہیں ہوتے۔
ان قرابت داروں کے وارث ہونے میں اختلاف ہے، بعض صحابۂ کرام، تابعین اور ائمہ رحمہم اللہ ان کی وراثت کے قائل نہیں، کیوں کہ الله تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انہیں وارث نہیں بنایا، اس کے برعکس بعض صحابہ و تابعین نے انہیں وارث مانا ہے جیسا کہ مذکور بالا اثر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک حدیث میں ہے: «الخال وارث من لا وارث له» [ترمذي 2104] ، اور اس مسئلہ میں یہی مسلک ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور امام احمد رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں، الله تعالى کا فرمان ہے: «﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ .....﴾ [الأحزاب: 6] » ۔
ذوی الارحام ان قرابت داروں کو کہا جاتا ہے جو نہ اصحاب الفروض سے ہوں اور نہ ہی عصبہ سے، جیسے: ماموں، خالہ، پھوپھی، چچا کی بیٹی، بھانجا، بھانجی، اور بیٹی کی اولاد (نواسی نواسے) وغیرہ جو وارث نہیں ہوتے۔
ان قرابت داروں کے وارث ہونے میں اختلاف ہے، بعض صحابۂ کرام، تابعین اور ائمہ رحمہم اللہ ان کی وراثت کے قائل نہیں، کیوں کہ الله تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انہیں وارث نہیں بنایا، اس کے برعکس بعض صحابہ و تابعین نے انہیں وارث مانا ہے جیسا کہ مذکور بالا اثر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک حدیث میں ہے: «الخال وارث من لا وارث له» [ترمذي 2104] ، اور اس مسئلہ میں یہی مسلک ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور امام احمد رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں، الله تعالى کا فرمان ہے: «﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ .....﴾ [الأحزاب: 6] » ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور رسول اس کے والی ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 3020] »
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں، ابن جریج کا عنعنہ اس میں قادح ہے لیکن مصنف عبدالرزاق میں سماع کی صراحت ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [ترمذي 2103] ، [ابن ماجه 2737] ، [عبدالرزاق 19124] ، [ابن حبان 6035] ، [موارد الظمآن 1225] ، [ابن منصور 171] ، [البيهقي 215/6] ۔ کچھ روایات میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے جیسا کہ ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی میں صراحت ہے۔
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں، ابن جریج کا عنعنہ اس میں قادح ہے لیکن مصنف عبدالرزاق میں سماع کی صراحت ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [ترمذي 2103] ، [ابن ماجه 2737] ، [عبدالرزاق 19124] ، [ابن حبان 6035] ، [موارد الظمآن 1225] ، [ابن منصور 171] ، [البيهقي 215/6] ۔ کچھ روایات میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے جیسا کہ ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی میں صراحت ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن وهو مدلس
حدیث نمبر: 3011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زِيَادٍ، قَالَ:"أُتِيَ عُمَرُ فِي عَمٍّ لِأُمٍّ، وَخَالَة، فَأَعْطَى الْعَمَّ لِلْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطَى الْخَالَةَ الثُّلُثَ".
زیاد نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ماں کے چچا اور خالہ کا قضیہ لایا گیا تو انہوں نے ماں کے چچا کو دو ثلث دیئے اور خالہ کو ایک ثلث دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3021] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11161] ، [ابن منصور 154] ، [طحاوي فى شرح معاني الآثار 399/4] ، [البيهقي 216/6-217] ۔ اس کی سند میں زیاد: ابن عیاض ہیں۔
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11161] ، [ابن منصور 154] ، [طحاوي فى شرح معاني الآثار 399/4] ، [البيهقي 216/6-217] ۔ اس کی سند میں زیاد: ابن عیاض ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
حدیث نمبر: 3012
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "أَعْطَى الْخَالَةَ الثُّلُثَ، وَالْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خالہ کو ثلث اور پھوپھی کو دو ثلث دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3022] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11162، 11168] ، [عبدالرزاق 19113] ، [ابن منصور 154]
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11162، 11168] ، [عبدالرزاق 19113] ، [ابن منصور 154]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الحسن
حدیث نمبر: 3013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ غَالِبِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فِي خَالَةٍ وَعَمَّةٍ، فَقَامَ شَيْخٌ، فَقَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "أَعْطَى الْخَالَةَ الثُّلُثَ، وَالْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ"، قَالَ: فَهَمَّ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ زَيْدٌ عَنْ هَذَا.
قیس بن حبتر نہشلی نے کہا: عبدالملک بن مروان کے پاس خالہ اور پھوپھی کا مسئلہ لایا گیا تو ایک شیخ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: میں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، انہوں نے خالہ کو ثلث دیا اور پھوپھی کو دو ثلث (دو تہائی) دیا۔ اور انہوں نے اس کو لکھ دینے کا ارادہ کیا پھر کہا: ز ید اس سے کہاں جائیں گے؟ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3013]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 3023] »
اس اثر کی سند بہت ضعیف ہے۔ غالب بن زیاد غیر معروف اور شیخ نامعلوم ہیں۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19112] ۔ واضح رہے کہ اکثر صحابہ وراثت کے ذوی الارحام کی طرف منتقل ہونے کے قائل تھے، لیکن سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کے مخالف تھے۔
اس اثر کی سند بہت ضعیف ہے۔ غالب بن زیاد غیر معروف اور شیخ نامعلوم ہیں۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19112] ۔ واضح رہے کہ اکثر صحابہ وراثت کے ذوی الارحام کی طرف منتقل ہونے کے قائل تھے، لیکن سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کے مخالف تھے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جدا