سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في مِيرَاثِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الإِسْلاَمِ:
مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گزری۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3044] »
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گذری۔
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گذری۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3032 سے 3034)
ان تمام آثار اور احادیث سے ثابت ہوا کہ مسلم غیرمسلم کا اور غیرمسلم مسلمان کا وارث نہ ہوگا۔
ان تمام آثار اور احادیث سے ثابت ہوا کہ مسلم غیرمسلم کا اور غیرمسلم مسلمان کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
30. باب الْمُكَاتَبِ:
غلام مکاتب کا بیان
حدیث نمبر: 3035
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ مِيرَاثٌ، مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کے لئے میراث نہیں ہے جب تک کہ اس کے اوپر معاہدے کے مطابق رقم چکانا باقی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3035]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3045] »
اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے، اور ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، اور ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ اور مغیرہ: ابن مقسم ہیں، یہ اثر کہیں اور نہیں مل سکی۔
اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے، اور ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، اور ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ اور مغیرہ: ابن مقسم ہیں، یہ اثر کہیں اور نہیں مل سکی۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3034)
مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جس سے اس کے مالک نے مالِ معین ادا کرنے کی شرط پر آزاد کرنے کا معاہدہ کیا ہو، تو جب تک وہ مال پورا ادا نہ کر دے، نہ آزاد ہوگا، نہ میراث پائے گا۔
مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جس سے اس کے مالک نے مالِ معین ادا کرنے کی شرط پر آزاد کرنے کا معاہدہ کیا ہو، تو جب تک وہ مال پورا ادا نہ کر دے، نہ آزاد ہوگا، نہ میراث پائے گا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
حدیث نمبر: 3036
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ:"فِي رَجُلٍ لَهُ بَنُونَ قَدْ أَعْتَقَ مِنْ بَعْضِهِمْ النِّصْفَ، وَمِنْ بَعْضٍ الثُّلُثَ، وَمِنْ بَعْضٍ الرُّبُعَ، قَالَ: لَا يَرِثُونَ حَتَّى يُعْتَقُوا".
عطاء سے مروی ہے کہ اس آدمی کے بارے میں جس کے بیٹے غلام ہوں جن میں سے بعض تہائی اور بعض چوتھائی آزاد ہوئے ہوں۔ عطاء نے کہا: جب تک کہ پوری طرح آزاد نہ کر دیئے جائیں (باپ کے) وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3036]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 3046] »
اس اثر کی سند عطاء تک صحیح ہے جو عطاء بن مسلم ہیں، اور یعلی: ابن عبید، عبدالملک: ابن ابی سلیمان ہیں۔ اس اثر کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 614] ، [عبدالرزاق 15722] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [البيهقي 342/10]
اس اثر کی سند عطاء تک صحیح ہے جو عطاء بن مسلم ہیں، اور یعلی: ابن عبید، عبدالملک: ابن ابی سلیمان ہیں۔ اس اثر کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 614] ، [عبدالرزاق 15722] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [البيهقي 342/10]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عطاء
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا عبد الله بن جعفر الرقي، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ:"فِي رَجُلٍ اشْتَرَى ابْنَهُ فِي مَرَضِهِ، قَالَ: إِنْ خَرَجَ مِنْ الثُّلُثِ وَرِثَهُ، وَإِنْ وَقَعَتْ عَلَيْهِ السِّعَايَةُ لَمْ يَرِثْ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے مرض (الموت) میں اپنے بیٹے کو خریدا اور وہ ایک تہائی سے نکل چکا ہو، تو وہ (بیٹا باپ کا) وارث ہوگا اور اگر ابھی مال مقرر دینا باقی ہو تو وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3047] »
0
0
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
حدیث نمبر: 3038
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "حَدُّ الْمُكَاتَبِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ، حَتَّى يُعْتَقَ".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کی حد مملوک (یعنی پورے غلام) کی حد ہے یہاں تک کہ وہ آزاد کر دیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3038]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3048] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حسن: ابن صالح ہیں، اور اس کے والد صالح: ابن مسلم، اور ابونعیم: فضل بن دکین ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8239] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [المحلی لابن حزم 228/9]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حسن: ابن صالح ہیں، اور اس کے والد صالح: ابن مسلم، اور ابونعیم: فضل بن دکین ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8239] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [المحلی لابن حزم 228/9]
وضاحت: (تشریح احادیث 3035 سے 3038)
غلام کی حدِ قذف زنا وغیرہ کی حد میں آزاد کی حد سے آدھی ہے، قياسا على الاماء قرآن پاک میں ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25] »
اس باب میں مذکور آثار سے ثابت ہوا کہ مکاتب میراث کے باب میں مملوک کی طرح ہے جب تک کہ وہ کلی طور پر آزاد نہ ہو جائے، آزاد مرنے والے کا وارث نہ ہوگا۔
غلام کی حدِ قذف زنا وغیرہ کی حد میں آزاد کی حد سے آدھی ہے، قياسا على الاماء قرآن پاک میں ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25] »
اس باب میں مذکور آثار سے ثابت ہوا کہ مکاتب میراث کے باب میں مملوک کی طرح ہے جب تک کہ وہ کلی طور پر آزاد نہ ہو جائے، آزاد مرنے والے کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
31. باب الْوَلاَءِ:
ولاء کا بیان
حدیث نمبر: 3039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ وَنِعْمَةٌ، أَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنْ الْمُعْتِقِ".
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مولیٰ دینی بھائی اور آزاد کرانے والا بھائی ہے، اور اس کی میراث کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو آزاد کرنے والے کے سب سے زیادہ قریب ہو۔“ «نعمة» سے مراد «صاحب المنه» ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3039]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح يونس بن يزيد من أثبت الناس في الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3049] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن مرسل ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا۔ دیکھئے: [ابن منصور 272] ، [البيهقي 304/1]
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن مرسل ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا۔ دیکھئے: [ابن منصور 272] ، [البيهقي 304/1]
وضاحت: (تشریح حدیث 3038)
عہدِ غلامی میں دستور تھا کہ لونڈی یا غلام اپنے آقا کا منہ مانگا روپیہ ادا کر کے آزاد ہو سکتے تھے، مگر آزادی کے بعد ان کی وراثت پہلے مالکوں کو ملتی تھی، اسلام نے جہاں غلامی کو ختم کیا ایسے غلط در غلط رواجوں کو بھی ختم کیا، اور بتلایا کہ جو بھی کسی غلام کو آزاد کرائے اس کی وراثت ترکہ وغیرہ کا غلام کی موت کے بعد اگر کوئی اس کا نسبتی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا ہی بطورِ عصبہ اس کا وارث قرار پائے گا، لفظ ولاء کا یہی مطلب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الولاء لمن اعتق» (متفق علیہ) آزاد کردہ کی ولاء (حقِ وراثت) اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا۔
عہدِ غلامی میں دستور تھا کہ لونڈی یا غلام اپنے آقا کا منہ مانگا روپیہ ادا کر کے آزاد ہو سکتے تھے، مگر آزادی کے بعد ان کی وراثت پہلے مالکوں کو ملتی تھی، اسلام نے جہاں غلامی کو ختم کیا ایسے غلط در غلط رواجوں کو بھی ختم کیا، اور بتلایا کہ جو بھی کسی غلام کو آزاد کرائے اس کی وراثت ترکہ وغیرہ کا غلام کی موت کے بعد اگر کوئی اس کا نسبتی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا ہی بطورِ عصبہ اس کا وارث قرار پائے گا، لفظ ولاء کا یہی مطلب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الولاء لمن اعتق» (متفق علیہ) آزاد کردہ کی ولاء (حقِ وراثت) اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح يونس بن يزيد من أثبت الناس في الزهري
حدیث نمبر: 3040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حدثنا مَنْصُورٌ، عَنْ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا، ثُمَّ مَاتَ الْمَوْلَى وَالْمَمْلُوكُ، وَتَرَكَ الْمُعْتِقُ أَبَاهُ وَابْنَهُ، قَالَا: "الْمَالُ لِلِابْنِ".
محمد بن سالم نے کہا: شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایسا شخص جس نے غلام آزاد کیا پھر آزاد کرنے والا (مالک و مولی) اور غلام فوت ہو گیا اور آزاد کرنے والا اپنا باپ اور بیٹا چھوڑ گیا تو مال بیٹے کا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3040]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الحديث إسناده صحيح إلى الحسن وباقي الإسناد ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3050] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 263] ، [ابن أبى شيبه 11566]
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 263] ، [ابن أبى شيبه 11566]
وضاحت: (تشریح حدیث 3039)
معتق کا سب سے اقرب اس کا لڑکا ہے، اس لئے غلام یا لونڈی کی میراث کا وارث وہی ہوگا۔
معتق کا سب سے اقرب اس کا لڑکا ہے، اس لئے غلام یا لونڈی کی میراث کا وارث وہی ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: الحديث إسناده صحيح إلى الحسن وباقي الإسناد ضعيف لضعف محمد بن سالم
حدیث نمبر: 3041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَبَاهُ وَابْنَ ابْنِهِ، فَقَالَ: "الْوَلَاءُ لِابْنِ الِابْنِ".
سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک آدمی نے اپنا باپ اور پوتا چھوڑا تو ولاء (حق وراثت) پوتے کا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن وعباد هو: ابن العوام، [مكتبه الشامله نمبر: 3051] »
اس اثر کی سند حسن ہے، اور عباد: ابن العوام ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11566] ، [عبدالرزاق 16298]
اس اثر کی سند حسن ہے، اور عباد: ابن العوام ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11566] ، [عبدالرزاق 16298]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن وعباد هو: ابن العوام
حدیث نمبر: 3042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعَمَّرٌ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ: أَنَّ امْرَأَةً أَعْتَقَتْ عَبْدًا لَهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ ابْنَهَا وَأَخَاهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ مَوْلَاهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ الْمَرْأَةِ وَأَخُوهَا فِي مِيرَاثِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مِيرَاثُهُ لِابْنِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ أَخُوهَا: يَا رَسُولَ اللَّه، ِلَوْ أَنَّهُ جَرَّ جَرِيرَةً، عَلَى مَنْ كَانَتْ؟ قَالَ: عَلَيْكَ".
خصیف نے روایت کیا: زیاد بن ابی مریم سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنا غلام آزاد کیا، پھر اس عورت کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنا بیٹا اور بھائی چھوڑا، پھر اس کا غلام بھی فوت ہو گیا تو اس عورت (آزاد کرنے والی) کا لڑکا اور اس عورت کا بھائی میراث کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس غلام کی میراث (آزاد کرنے والی) عورت کے لڑکے کے لئے ہے“، عورت کے بھائی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر وہ کوئی گناہ کرتا تو کون ذمہ دار ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ذمے دار ہوتے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3052] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ خصیف: ابن عبدالرحمٰن الجزری صدوق سئي الحفظ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 390/11] ، [عبدالرزاق 35/9] ، [إرواء الغليل 1697] اس میں ہے عورت کے بھائی نے کہا: اگر وہ کوئی گناہ کرتا تو تاوان میرے اوپر ہوتا؟ فرمایا: ”ہاں۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ خصیف: ابن عبدالرحمٰن الجزری صدوق سئي الحفظ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 390/11] ، [عبدالرزاق 35/9] ، [إرواء الغليل 1697] اس میں ہے عورت کے بھائی نے کہا: اگر وہ کوئی گناہ کرتا تو تاوان میرے اوپر ہوتا؟ فرمایا: ”ہاں۔“
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3043
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ"عَنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ، فَمَاتَ وَمَاتَ الْمَوْلَى، فَتَرَكَ الْمُعْتِقُ أَبَاهُ وَابْنَهُ، فَقَالَ لِأَبِيهِ: كَذَا، وَمَا بَقِيَ فَلِابْنِهِ".
مغیرہ نے کہا: میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا: ایک آدمی نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا، پھر غلام اور آزاد کرنے والے فوت ہو گئے اور آزاد کرنے والے نے باپ اور اپنا بیٹا چھوڑا، تو انہوں نے کہا: باپ کے لئے اتنا ہے اور جو بچے وہ (عصبہ ہونے کے سبب) اس کے بیٹے کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3053] »
اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 261] ، [ابن أبى شيبه 11567] ، [عبدالرزاق 16257]
اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 261] ، [ابن أبى شيبه 11567] ، [عبدالرزاق 16257]
وضاحت: (تشریح احادیث 3040 سے 3043)
اوپر شعبی کا قول گذر چکا ہے کہ آزاد کردہ غلام کا سارا مال آزاد کرنے والے کا بیٹا لے گا، کیوں کہ یہ ولاء حق آزادی کا مسئلہ ہے، یہاں ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا کہ عام حقِ وراثت کی طرح سدس باپ کا ہوگا باقی پانچ حصے بیٹے کے ہوں گے۔
والله اعلم بالصواب۔
اوپر شعبی کا قول گذر چکا ہے کہ آزاد کردہ غلام کا سارا مال آزاد کرنے والے کا بیٹا لے گا، کیوں کہ یہ ولاء حق آزادی کا مسئلہ ہے، یہاں ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا کہ عام حقِ وراثت کی طرح سدس باپ کا ہوگا باقی پانچ حصے بیٹے کے ہوں گے۔
والله اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم