🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب الْوَلاَءِ:
ولاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3044
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ، وَحَمَّادًا، يَقُولَانِ: "هُوَ لِلِابْنِ".
شعبہ سے مروی ہے: میں نے حکم اور حماد سے سنا، وہ کہتے تھے: (مذکورہ بالا صورت میں غلام کے مال کا حق دار صرف) وہ مال بیٹے کے لئے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف: فيه عنعنة هشيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3054] »
ہشیم کے عنعنہ کے سبب اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11570، 11571، 11574] ، [عبدالرزاق 16257]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف: فيه عنعنة هشيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3045
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَن": أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَرَأَى رَجُلًا يُبَاعُ، فَأَتَاهُ فَسَاوَمَ بِهِ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَرَآهُ رَجُلٌ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَعْتَقْتُهُ، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ: هُوَ أَخُوكَ وَمَوْلَاكَ، قَالَ: مَا تَرَى فِي صُحْبَتِهِ؟ قَالَ: إِنْ شَكَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَشَرٌّ لَكَ، وَإِنْ كَفَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُ، قَالَ: مَا تَرَى فِي مَالِهِ؟ قَالَ: إِنْ مَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً فَأَنْتَ وَارِثُهُ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع کی طرف گئے تو دیکھا ایک آدمی بیچا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے اور اس کے دام لگائے، پھر اس کو چھوڑ آئے (یعنی خریدا نہیں)، ایک اور آدمی نے اسے دیکھا اور خرید لیا اور آزاد کر دیا، پھر اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: میں نے اس کو خریدا ہے اور اس کو آزاد کرتا ہوں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارا (اسلامی) بھائی اور غلام ہے“، اس نے پوچھا اس کو ساتھ رکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: ”اگر اس نے تمہارا شکر ادا کیا تو یہ اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے اچھا نہیں ہے، اور اگر تمہاری وہ ناشکری کرے تو وہ تمہارے لئے بہتر اور اس کے لئے برا ہے“، اس نے پوچھا: اس کے مال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: ”اگر وہ مر جائے اور مال سمیٹنے والے وارث موجود نہ ہوں تو تم اس کے وارث ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الأشعث، [مكتبه الشامله نمبر: 3055] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور یہ مرسل بھی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 1621] ، [البيهقي 240/6 مرسلًا]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الأشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3046
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ: أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ أَعْتَقَتْ عَبْدًا لَهَا، فَمَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوْلَاتَهُ بِنْتَ حَمْزَةَ،"فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ بَيْنَ ابْنَتِهِ وَمَوْلَاتِهِ بِنْتِ حَمْزَةَ نِصْفَيْنِ".
عبداللہ بن شداد سے مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے اپنا غلام آزاد کر دیا، وہ غلام اپنی بیٹی اور مالکہ بنت حمزہ کو چھوڑ کر فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث کو اس کی بیٹی اور مالکہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3046]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار وهو مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 3056] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری اسانید سے یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2734] ، [ابن أبى شيبه 11183، 11184] ، [عبدالرزاق 16210] ، [ابن منصور 174] ، [طبراني 355/24، 880] ، [الحاكم 66/4] ، [البيهقي 241/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3043 سے 3046)
اس سے معلوم ہوا کہ آزاد کردہ غلام یا لونڈی کے وارثین سے جو بچے گا اس کا وارث مالک یا مالکہ ہوگی۔
سارے مال کا وارث آزاد کرنے والا یا کرنے والی اس وقت مستحق ہوگا جب کوئی اور حقیقی وارث موجود نہ ہو۔
واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار وهو مرسل أيضا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ شَمُوسَ الْكِنْدِيَّةِ، قَالَتْ:"قَاضَيْتُ إِلَى عَلِيٍّ فِي أَبٍ مَاتَ فَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا غَيْرِي، وَمَوْلَاهُ، فَأَعْطَانِي النِّصْفَ، َوَأَعْطَى مَوْلَاهُ النِّصْفَ".
شموس الکندیہ نے کہا: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قضیہ لے کر گئی کہ میرے باپ نے مجھے اور مالک (آزاد کرنے والے) کو چھوڑا ہے، تو انہوں نے مجھے نصف دیا اور باقی نصف آزاد کرنے والے مالک کو دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى شموس الكندية وشموس هذه ما وجدت لها ترجمة، [مكتبه الشامله نمبر: 3057] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس کی سند میں شیبانی: سلیمان بن فیروز اور حکم: ابن عتیبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11186] ، [ابن منصور 176] ۔ آگے بھی یہ اثر آ رہا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3046)
اصحاب الفروض کی غیر موجودگی میں بیٹی کا حصہ آدھا ہے، باقی جو بچے وہ مالک کا، اسی اصول کے تحت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى شموس الكندية وشموس هذه ما وجدت لها ترجمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3048
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ، عَنْ عَلِيٍّ:"أَنَّهُ أُتِيَ بِابْنَةٍ وَمَوْلًى، فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَالْمَوْلَى النِّصْفَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَمَنْزِلِي هَذَا نَصِيبُ الْمَوْلَى الَّذِي وَرِثَهُ عَنْ مَوْلَاهُ.
ابوالکنود سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکی (بیٹی) اور آقا (مالک) کا قضیہ لایا گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف دیا اور آزاد کرنے والے مالک کو باقی آدھا دیا، حکم نے کہا: پس میرا مکان اس والی کا حصہ ہے جو اس کو اس کے مالک نے میراث میں پایا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 3058] »
اس روایت کی سند میں محمد بن ابی یعلی سییٔ الحفظ جدا ہیں، اور ابوالکنود کا نام عبداللہ بن عامر ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11188]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3049
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُدْلِجٍ: أَنَّهُ مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوَالِيَهُ، فَأَعْطَى عَلِيٌّ ابْنَتَهُ النِّصْفَ وَمَوَالِيَهُ النِّصْفَ".
حکم بن عتیبہ سے مروی ہے: عبدالرحمٰن بن مدلج کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنی بیٹی اور مالکان کو چھوڑ گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیٹی کو نصف دیا اور مالکان میں باقی نصف تقسیم کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3059] »
اس اثر کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن بیہقی میں صحیح سند سے موجود ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 402/4] ، [البيهقي 241/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3047 سے 3049)
اس اثر سے ثابت ہوا کہ مالک ایک ہو یا کئی ان کو بیٹی کو دینے کے بعد باقی نصف ہی ملے گا زیادہ نہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3050
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الشَّمُّوسِ:"أَنَّ أَبَاهَا مَاتَ، فَجَعَلَ عَلِيٌّ لَهَا النِّصْفَ وَلِمَوَالِيهِ النِّصْفَ".
الشموس سے مروی ہے کہ ان کے والد انتقال کر گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو نصف حصہ دیا اور مالکان کو بھی نصف دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الشموس مجهولة وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3060] »
اس اثر کی سند میں الشموس مجہولہ ہے، باقی رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11187]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: الشموس مجهولة وباقي رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ جَهْمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُ"سُئِلَ عَنْ أُخْتَيْنِ اشْتَرَتْ إِحْدَاهُمَا أَبَاهَا فَأَعْتَقَتْهُ، ثُمَّ مَاتَ، قَالَ لَهُمَا: الثُّلُثَانِ فَرِيضَتُهُمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْمُعْتِقَةِ دُونَ الْأُخْرَى".
جہم بن دینار نے روایت کیا ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: دو بہنیں ہیں ان میں سے ایک نے اپنے والد کو خریدا اور آزاد کر دیا پھر ان (والد) کا انتقال ہو گیا، تو ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: دونوں بہنوں کے لئے دو ثلث جیسا کہ قرآن پاک میں حصہ مقرر ہے: «فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ . . . . . .» [النساء: 176/4] باقی جو بچا وہ صرف آزاد کرنے والی بیٹی کے لئے ہو گا۔ یعنی دوسری بہن کے لئے باقی حصہ ثلث میں سے کچھ نہ ہو گا اور پورا ثلث معتقہ لے لے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3051]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3061] »
اشعث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11560] ، [عبدالرزاق 16215، 16270]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"فِي امْرَأَةٍ أَعْتَقَتْ أَبَاهَا، فَمَاتَ الْأَبُ وَتَرَكَ أَرْبَعَ بَنَاتٍ هِيَ إِحْدَاهُنَّ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ مِنَّةٌ، لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، وَهِيَ مَعَهُنَّ".
اشعث سے مروی ہے شعبی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ عورت جس نے اپنے باپ کو آزاد کرایا پھر باپ کا انتقال ہو گیا اور اس نے چار بیٹیاں چھوڑیں جن میں سے ایک آزاد کرانے والی تھی، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: آزاد کرانے والی کا کوئی احسان نہیں، چاروں بہنوں میں دو ثلث ہی تقسیم کیا جائے گا اور وہ معتقہ بھی ان میں شامل ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3052]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3062] »
اشعث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے اور یہ دیگر اسلاف کے فیصلہ کے خلاف ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16213]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب فِيمَنْ أَعْطَى ذَوِي الأَرْحَامِ دُونَ الْمَوَالِي:
ان علمائے کرام کا بیان جو غلام کی وراثت کا مالکان کے علاوہ صرف ذوی الارحام کو حق دار کہتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3053
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ سَلْمَانَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ"فَرِيضَةِ رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ وَامْرَأَتَه، فَقَالَ: أَنَا أُنْبِئُكَ قَضَاءَ عَلِيٍّ، قَالَ: حَسْبِي قَضَاءُ عَلِيٍّ، قَالَ: قَضَى عَلِيٌّ لِامْرَأَتِهِ الثُّمُنَ، وَلِابْنَتِهِ النِّصْفَ، ثُمَّ رَدَّ الْبَقِيَّةَ عَلَى ابْنَتِهِ".
حیان بن سلمان نے کہا: میں سوید بن غفلہ کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور میراث کے حصے کے بارے میں سوال کیا: ایک آدمی نے اپنی بیٹی اور بیوی چھوڑی، انہوں نے کہا: میں تمہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں فیصلہ سناتا ہوں، اس نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہی میرے لئے کافی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو ثمن دیا اور بیٹی کو نصف، پھر باقی جو بچا وہ بھی بیٹی کی طرف لوٹا دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3053]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3063] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11208] ، [المعرفة و التاريخ للفسوي 191/3] ، [البيهقي 242/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3049 سے 3053)
بیہقی کی روایت میں ہے کہ مرنے والے نے بیوی، بیٹی اور مالک کو چھوڑا، مذکورہ بالا روایت میں موالی کا ذکر نہیں ہے، لیکن یہ ہی محل شاہد ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مالک کو کچھ نہیں دیا، جو بچا وہ بھی بیٹی کو دیدیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پیچھے کئی روایات گذر چکی ہیں کہ باقی بچے مال کو انہوں نے مالک آزاد کرنے والے کو دیا، ایک رائے یہ بھی ہو سکتی ہے، لیکن پہلی رائے اقرب الی الصواب ہے۔
واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں