سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب مَنْ قَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا في الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ:
بیوی شوہر کے قتل عمد یا قتل خطا کی دیت کی وارث ہو گی
حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَزَيْدٍ، قَالُوا: "الدِّيَةُ تُورَثُ كَمَا يُورَثُ الْمَالُ خَطَؤُهُ وَعَمْدُهُ".
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر، سیدنا علی و سیدنا زید رضی اللہ عنہم نے کہا: دیت کی وراثت اسی طرح تقسیم ہو گی جس طرح مال کی وراثت (تقسیم) ہوتی ہے چاہے وہ دیت قتل خطا کی ہو چاہے قتل عمد کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3074]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3084] »
اس اثر کی سند محمد بن سالم کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دوسرے طرق بھی ضعیفہ ہیں۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 7605] ، [ابن منصور 308] ، [ابن حزم 475/10]
اس اثر کی سند محمد بن سالم کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دوسرے طرق بھی ضعیفہ ہیں۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 7605] ، [ابن منصور 308] ، [ابن حزم 475/10]
وضاحت: (تشریح احادیث 3066 سے 3074)
ان آ ثار سے ثابت ہوا کہ مرنے والے کی دیت بھی اصحاب الفروض میں ایسے ہی تقسیم کی جائے گی جیسے مال تقسیم کیا جاتا ہے، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے گا۔
ان آ ثار سے ثابت ہوا کہ مرنے والے کی دیت بھی اصحاب الفروض میں ایسے ہی تقسیم کی جائے گی جیسے مال تقسیم کیا جاتا ہے، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
36. باب مَنْ قَالَ لاَ يُوَرَّثُ:
ان لوگوں کا بیان جو دیت کے وارث نہیں ہوں گے
حدیث نمبر: 3075
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ:"كَانَ عَلِيٌّ لَا يُوَرِّثُ الْإِخْوَةَ مِنْ الْأُمِّ، وَلَا الزَّوْجَ، وَلَا الْمَرْأَةَ، مِنْ الدِّيَةِ شَيْئًا". قَالَ عَبْد اللَّهِ: بَعْضُهُمْ يُدْخِلُ بَيْنَ إِسْمَاعِيل، وَعَامِرٍ رَجُلًا.
عامر (شعبی) رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اخیافی بھائی (یعنی مادری بھائی)، خاوند اور بیوی کو دیت میں سے کچھ بھی ورثہ نہ دیتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: بعض روایات میں عامر شعبی اور اسماعیل کے درمیان ایک راوی اور مذکور ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3075]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى علي، [مكتبه الشامله نمبر: 3085] »
اس اثر کی سند میں اسماعیل: ابن ابی خالد ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 305]
اس اثر کی سند میں اسماعیل: ابن ابی خالد ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 305]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى علي
حدیث نمبر: 3076
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا تُوَرَّثُ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ مِنْ الدِّيَةِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: اخیافی بھائی دیت کے وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3076]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3086] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 306]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 306]
وضاحت: (تشریح احادیث 3074 سے 3076)
ان آثار سے معلوم ہوا کہ صرف وارث قوی حقیقی بھائی یا بیٹا ہی دیت میں سے حصہ پائے گا۔
ان آثار سے معلوم ہوا کہ صرف وارث قوی حقیقی بھائی یا بیٹا ہی دیت میں سے حصہ پائے گا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الحسن
37. باب مِيرَاثِ الْغَرْقَى:
پانی میں ڈوبنے والوں کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3077
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: "كُلُّ قَوْمٍ مُتَوَارِثِينَ عَمِيَ مَوْتُهُمْ فِي هَدْمٍ، أَوْ غَرَقٍ، فَإِنَّهُمْ لَا يَتَوَارَثُونَ، يَرِثُهُمْ الْأَحْيَاءُ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر قسم کے لوگ وارث ہوں گے، لیکن جن کی موت مکان گرنے، غرق ہونے میں مجہول ہو وہ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، زنده آدمی ہی ان کے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3077]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3087] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19160، 19166] ، [ابن منصور 241] ، [دارقطني 119/4]
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19160، 19166] ، [ابن منصور 241] ، [دارقطني 119/4]
وضاحت: (تشریح حدیث 3076)
جب ایک سے زیادہ افراد پانی میں غرق ہو جائیں، یا کسی اور حادثے کا شکار ہو جائیں مثلاً عمارت کے نیچے آ کر ہلاک ہوں، یا آگ میں جل جائیں، یا ایکسیڈنٹ وغیرہ میں ہلاک ہوں، اور کسی کی موت کی تقدیم و تأخیر کا علم نہ ہو سکے تو حکم یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے، بلکہ زندہ افراد ہی اپنے مرنے والوں کے وارث ہوں گے، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی حادثے میں دو بھائی فوت ہو گئے اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون فوت ہوا ہے، ان میں سے ایک اپنے پیچھے بیوی، بیٹی اور چچا چھوڑ گیا، جبکہ دوسرا دو بیٹیاں اور مذکور چچا چھوڑ گیا، تو دونوں کی جائیداد کے وارث مذکورین ورثاء ہیں۔
یہ بھائی ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، پہلی صورت میں بیوی آٹھواں حصہ لے گی، بیٹی نصف اور باقی چچا لے گا، اور دوسری صورت میں دو تہائی اس کی دونوں بیٹیاں لیں گی اور باقی تہائی چچا لے گا۔
جب ایک سے زیادہ افراد پانی میں غرق ہو جائیں، یا کسی اور حادثے کا شکار ہو جائیں مثلاً عمارت کے نیچے آ کر ہلاک ہوں، یا آگ میں جل جائیں، یا ایکسیڈنٹ وغیرہ میں ہلاک ہوں، اور کسی کی موت کی تقدیم و تأخیر کا علم نہ ہو سکے تو حکم یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے، بلکہ زندہ افراد ہی اپنے مرنے والوں کے وارث ہوں گے، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی حادثے میں دو بھائی فوت ہو گئے اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون فوت ہوا ہے، ان میں سے ایک اپنے پیچھے بیوی، بیٹی اور چچا چھوڑ گیا، جبکہ دوسرا دو بیٹیاں اور مذکور چچا چھوڑ گیا، تو دونوں کی جائیداد کے وارث مذکورین ورثاء ہیں۔
یہ بھائی ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، پہلی صورت میں بیوی آٹھواں حصہ لے گی، بیٹی نصف اور باقی چچا لے گا، اور دوسری صورت میں دو تہائی اس کی دونوں بیٹیاں لیں گی اور باقی تہائی چچا لے گا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي بَعْضِ كُتُبِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْقَوْمِ يَقَعُ عَلَيْهِمْ الْبَيْتُ، لَا يُدْرَى أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ؟ قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْأَمْوَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَيُوَرَّثُ الْأَحْيَاءُ مِنْ الْأَمْوَاتِ".
یحییٰ بن عتیق نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ کے بعض نوشتوں میں پڑھا ہے: وہ لوگ جن پر گھر گر پڑے اور معلوم نہ ہو سکے کس کی موت پہلے واقع ہوئی اور مرنے والوں میں سے کوئی ایک دوسرے کا وارث نہیں ہو گا، بلکہ مرنے والوں کے وارثین ہی وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عمر بن عبد العزيز، [مكتبه الشامله نمبر: 3088] »
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11395] ، [عبدالرزاق 19161] ، [ابن منصور 242]
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11395] ، [عبدالرزاق 19161] ، [ابن منصور 242]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عمر بن عبد العزيز
حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ، وَابْنَهَا زَيْدًا مَاتَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَالْتَقَتْ الصَّائِحَتَانِ فِي الطَّرِيقِ، فَلَمْ يَرِثْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا".
جعفر بن محمد نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ام کلثوم اور ان کا بیٹا زید (ابن عمر) ایک ہی دن میں دونوں فوت ہو گئے، ان پر رونے والیاں راستے میں ملیں، ان میں سے کوئی بھی اپنے مرنے والے کی وارث نہ ہوئی اور اہل الحرہ بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوئے، اہل صفین بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3089] »
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 240] و [البيهقي 222/6]
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 240] و [البيهقي 222/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3077 سے 3079)
حره مدینہ میں مشرق کی جانب ایک مقام ہے، جسکی طرف سے 63ھ میں امویوں نے یزید بن معاویہ کے حکم پر مسلم بن عقبہ کی قیادت میں اہلِ مدینہ پر حملہ کیا اور بہت قتلِ عام کیا، یہ معرکہ حرہ کے نام سے مشہور ہے، اور صفین شام کے حدود میں ایک مقام کا نام ہے، جہاں جیش سیدنا علی و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی فوجوں کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی، یہ دونوں بڑے خونیں معرکے تھے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد اس میں شہید ہوئی، راوی اس اثر میں یہ بتا رہے ہیں کہ ان دونوں جنگوں میں بھی کوئی مرنے والا کسی کا وارث نہ ہوا۔
حره مدینہ میں مشرق کی جانب ایک مقام ہے، جسکی طرف سے 63ھ میں امویوں نے یزید بن معاویہ کے حکم پر مسلم بن عقبہ کی قیادت میں اہلِ مدینہ پر حملہ کیا اور بہت قتلِ عام کیا، یہ معرکہ حرہ کے نام سے مشہور ہے، اور صفین شام کے حدود میں ایک مقام کا نام ہے، جہاں جیش سیدنا علی و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی فوجوں کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی، یہ دونوں بڑے خونیں معرکے تھے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد اس میں شہید ہوئی، راوی اس اثر میں یہ بتا رہے ہیں کہ ان دونوں جنگوں میں بھی کوئی مرنے والا کسی کا وارث نہ ہوا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3080
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"أَنَّ بَيْتًا بِالشَّامِ وَقَعَ عَلَى قَوْمٍ، فَوَرَّثَ عُمَرُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: شام میں ایک گھر کچھ لوگوں پر گر گیا جن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 3090] »
اس اثر کی سند عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی وجہ سے ضعیف ہے جو سئی الحفظ جدا ہیں۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11390] ، [ابن منصور 232 بسند فيه انقطاع]
اس اثر کی سند عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی وجہ سے ضعیف ہے جو سئی الحفظ جدا ہیں۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11390] ، [ابن منصور 232 بسند فيه انقطاع]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا
حدیث نمبر: 3081
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُرَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ:"أَنَّهُ وَرَّثَ أَخَوَيْنِ قُتِلَا بِصِفِّينَ، أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ".
ابوحریش نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو بھائیوں کو جو جنگ صفین میں وفات پا گئے تھے، ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف أبو حريس ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3091] »
اس روایت میں ابوحریش مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھے: [البخاري فى الكبير 132/3] ، [ابن أبى شيبه 11391] ، [عبدالرزاق 19152]
اس روایت میں ابوحریش مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھے: [البخاري فى الكبير 132/3] ، [ابن أبى شيبه 11391] ، [عبدالرزاق 19152]
وضاحت: (تشریح احادیث 3079 سے 3081)
اوپر تفصیل گذر چکی ہے کہ جن کی موت کسی حادثے میں ہوئی ہو اور تقدیم و تأخیر کا علم نہ ہو تو مرنے والے ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، اور وارثین ہی کے درمیان میراث ہوگی، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے مذکورہ آ ثار کی سند ان تک صحیح نہیں ہے، اور اگر صحیح مان بھی لی جائے تو کہا جائے گا کہ ان کو شاید مرنے والوں کی موت میں تقدیم و تأخیر کا علم تھا اس لئے انہوں نے ایک دوسرے کو وارث قرار دیا۔
والله اعلم۔
اوپر تفصیل گذر چکی ہے کہ جن کی موت کسی حادثے میں ہوئی ہو اور تقدیم و تأخیر کا علم نہ ہو تو مرنے والے ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، اور وارثین ہی کے درمیان میراث ہوگی، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے مذکورہ آ ثار کی سند ان تک صحیح نہیں ہے، اور اگر صحیح مان بھی لی جائے تو کہا جائے گا کہ ان کو شاید مرنے والوں کی موت میں تقدیم و تأخیر کا علم تھا اس لئے انہوں نے ایک دوسرے کو وارث قرار دیا۔
والله اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف أبو حريس ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات
38. باب مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ:
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3082
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ:"أَنَّ رَجُلًا هَلَكَ، وَتَرَكَ عَمَّتَهُ، وَخَالَتَهُ، فَأَعْطَى عُمَرُ الْعَمَّةَ نَصِيبَ الْأَخِ، وَأَعْطَى الْخَالَةَ نَصِيبَ الْأُخْتِ".
بکر بن عبداللہ مزنی سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا اور اپنی پھوپھی اور خالہ چھوڑ گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی کو بھائی کا حصہ دیا اور خالہ کو بہن کا حصہ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3082]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 3092] »
انقطاع کے سبب اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 400/4]
انقطاع کے سبب اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 400/4]
وضاحت: (تشریح حدیث 3081)
ذوی الارحام کی میراث کا ذکر ستائیسویں باب میں بھی گذر چکا ہے، تفصیل وہیں ملاحظہ فرمائیں۔
ذوی الارحام کی میراث کا ذکر ستائیسویں باب میں بھی گذر چکا ہے، تفصیل وہیں ملاحظہ فرمائیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 3083
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "مَنْ أَدْلَى بِرَحِمٍ، أُعْطِيَ بِرَحِمِهِ الَّتِي يُدْلِي بِهَا".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جس نے رشتہ داری (رحم سے قربت) کا دعویٰ کیا اس کو رحم سے (قرابت داری) قربت کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3083]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى إبراهيم جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3093] »
ابراہیم رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11167، 11229]
ابراہیم رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11167، 11229]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده إلى إبراهيم جيد