سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب في مِيرَاثِ الأَسِيرِ:
قیدی کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي، قَالَ: "أُجيزُ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ".
اسحاق بن راشد سے مروی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اسیر کے بارے میں کہا جو وصیت کر جائے، انہوں نے کہا: اس کی وصیت کو جب تک وہ اپنے دین پر ہے میں جائز سمجھتا ہوں جب تک کہ دین نہ بدلے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3133] »
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 10150] ، [فتح الباري 45/12]
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 10150] ، [فتح الباري 45/12]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عمر
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: "يُوَرَّثُ الْأَسِيرُ إِذَا كَانَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ".
قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: قیدی جب دشمن کے قبضہ میں ہو تو وہ وارث مانا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3134] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19202] ، [ابن أبى شيبه 11518] ، [فتح الباري 49/12]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19202] ، [ابن أبى شيبه 11518] ، [فتح الباري 49/12]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: "يُوَرَّثُ الْأَسِيرُ".
سفیان نے کہا جس نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سنا، اس نے بیان کیا کہ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے تھے: اسیر کو وارث مانا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 3135] »
اس روایت کی سند میں ابراہیم رحمہ اللہ سے جس نے سنا مجہول ہے، لیکن عبدالرزاق نے صحیح سند سے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11522] ، [عبدالرزاق 19202]
اس روایت کی سند میں ابراہیم رحمہ اللہ سے جس نے سنا مجہول ہے، لیکن عبدالرزاق نے صحیح سند سے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11522] ، [عبدالرزاق 19202]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف فيه جهالة
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ كَانَ "لَا يُوَرِّثُ الْأَسِيرَ".
داؤد (ابن ابی ہند) نے کہا: سعید بن المسيب رحمہ اللہ اسیر کو وارث نہیں مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3136] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11523، 11524] ۔ اس اثر کو امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: پہلی جماعت کا قول راجح ہے، یعنی قیدی وراثت میں اپنے حصے کا حقدار ہوگا، اور اس کے رشتے دار اس کے وارث ہونگے۔ دیکھئے: [فتح الباري 50/12] ، والله اعلم۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11523، 11524] ۔ اس اثر کو امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: پہلی جماعت کا قول راجح ہے، یعنی قیدی وراثت میں اپنے حصے کا حقدار ہوگا، اور اس کے رشتے دار اس کے وارث ہونگے۔ دیکھئے: [فتح الباري 50/12] ، والله اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
44. باب في مِيرَاثِ الْحَمِيلِ:
حمیل کو میراث دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3128
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى شُرَيْحٍ: أَنْ "لَا يُوَرِّثَ الْحَمِيلَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ فِي خِرَقِهَا".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح کو لکھا کہ بلا دلیل (بینہ) کے حمیل کو وارث نہ بنائیں، چاہے عورت اسے چیتھڑے میں لپٹا ہوا ہی کیوں نہ لائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3128]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3137] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن کئی طرق سے یہ مروی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19173، 19174]
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن کئی طرق سے یہ مروی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19173، 19174]
وضاحت: (تشریح احادیث 3122 سے 3128)
حمیل اس بچے کو کہتے ہیں جو چھوٹا سا اپنے ملک سے اٹھا کر اسلامی ملک میں لایا جائے۔
بعض نے کہا حمیل اسے کہتے ہیں کہ کوئی آدمی دعویٰ کرے کہ وہ میرا بیٹا یا بھائی ہے تاکہ اس غلام کے مالک اور آقا کے بجائے خود اس کی میراث کا وارث ہو جائے۔
بہرحال یہ دعویٰ بلا بینہ قبول نہ کیا جائے گا، جیسا کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا۔
حمیل اس بچے کو کہتے ہیں جو چھوٹا سا اپنے ملک سے اٹھا کر اسلامی ملک میں لایا جائے۔
بعض نے کہا حمیل اسے کہتے ہیں کہ کوئی آدمی دعویٰ کرے کہ وہ میرا بیٹا یا بھائی ہے تاکہ اس غلام کے مالک اور آقا کے بجائے خود اس کی میراث کا وارث ہو جائے۔
بہرحال یہ دعویٰ بلا بینہ قبول نہ کیا جائے گا، جیسا کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3129
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "وَرِّثْ الْحَمِيلَ".
منصور سے روایت ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: حمیل (اٹھا کر لایا گیا بچہ) وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3129]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3138] »
منصور: ابن المعتمر ہیں، اور اسرائیل: ابن یونس، اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11421] ، [عبدالرزاق 19181] ، [ابن منصور 256] ، [المحلی 303/9]
منصور: ابن المعتمر ہیں، اور اسرائیل: ابن یونس، اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11421] ، [عبدالرزاق 19181] ، [ابن منصور 256] ، [المحلی 303/9]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ، وَالْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ، وَابْنِ أَبِي عَوْفٍ، وراشد، وعطية، قَالُوا: "لَا يُوَرَّثُ الْحُمَلَاءُ".
ابوبکر بن عبداللہ بن ابی مریم سے مروی ہے: ضمرة، فضیل بن فضالہ، ابن ابی عوف، راشد اور عطیہ سب نے کہا: حمیل وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا أبو سعيد مجهول وأبو بكر بن عبد الله بن أبي مريم ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3139] »
اس اثر کی سند میں ابوسعید مجہول، اور ابوبکر ضعیف ہیں، اس لئے ضعیف جدا ہے۔ کسی اور جگہ یہ اثر نہیں ملا۔
اس اثر کی سند میں ابوسعید مجہول، اور ابوبکر ضعیف ہیں، اس لئے ضعیف جدا ہے۔ کسی اور جگہ یہ اثر نہیں ملا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جدا أبو سعيد مجهول وأبو بكر بن عبد الله بن أبي مريم ضعيف
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهُ قَوْلُ مَنْ يَقُولُ فِي الْحَمِيلِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: "قَدْ تَوَارَثَ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ بِنَسَبِهِمْ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن عون نے بیان کیا: محمد کے پاس حمیل کے وارث نہ ہونے کے قائلین کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا: مہاجرین و انصار دور جاہلیت کے نسب کے مطابق ایک دوسرے کے وارث ہوئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3140] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہی واضح و راجح ہے کہ حمیل نسب صحیح ثابت ہونے پر وارث ہوں گے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11420]
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہی واضح و راجح ہے کہ حمیل نسب صحیح ثابت ہونے پر وارث ہوں گے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11420]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3132
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، قَالَا: "لَا يُوَرَّثُ الْحَمِيلُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ".
ہشام سے مروی ہے کہ حسن و ابن سیرین رحمہم اللہ نے کہا: حمیل بلا بینہ کے وارث نہ مانا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3132]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3141] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11417] ، اس کی سند میں ابن ادریس کا نام عبداللہ ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11417] ، اس کی سند میں ابن ادریس کا نام عبداللہ ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَمْ يَكُنْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يُوَرِّثُونَ الْحَمِيلَ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم حمیل کو وارث نہیں مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3133]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3142] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11415] ۔ اوپر گذر چکا ہے بلا دلیل حمیل کو وارث نہیں مانا جاتا تھا۔
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11415] ۔ اوپر گذر چکا ہے بلا دلیل حمیل کو وارث نہیں مانا جاتا تھا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف