سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب في مِيرَاثِ وَلَدِ الزِّنَا:
ولد الزنا کے میراث پانے کا بیان
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، قَالَ: "لَا بَأْسَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ حُبْلَى، فَإِنَّ الْوَلَدَ لَا يَلْحَقُهُ".
اسماعیل سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے کہا: (کوئی) آدمی عورت سے زنا کرے پھر اسی سے شادی کر لے، حسن رحمہ اللہ نے کہا: نکاح کر لینے میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو (یعنی حمل کی حالت میں نکاح نہ کیا ہو)، لیکن لڑکا اس کی طرف منسوب نہ ہو گا۔ (یعنی ولد الزنا نہ باپ کی طرف منسوب ہو گا اور نہ وارث ہو گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إسماعيل وهو: ابن مسلم المكي البصري، [مكتبه الشامله نمبر: 3153] »
اسماعیل: ابن مسلم مکی بصری کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، اور کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
اسماعیل: ابن مسلم مکی بصری کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، اور کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل وهو: ابن مسلم المكي البصري
حدیث نمبر: 3145
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ "كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ بَعْدَهُ، فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ يَطَؤُهَا، فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا، أَوْ حُرَّةٍ عَاهَرَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، فَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا: حُرَّةً، أَوْ أَمَةً".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو لڑکا اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اس سے ملایا جائے۔“ (یعنی اس مرنے والے کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں کہ یہ ہمارے موروث کا بچہ ہے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ ”وہ لڑکا اس لونڈی سے ہے جس کا مالک جماع کے وقت اس کا باپ تھا تو اس کا نسب ملانے والے سے مل جائے گا۔ لیکن جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گا اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا، اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا، مگر وہ باپ جس سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے اپنی زندگی میں اس کے نسب کا انکار کیا ہو تو وہ وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا (یعنی اس کا بچہ نہ مانا جائے گا) اور اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا ایسی آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا (گرچہ اس مرد کے وارث اس بچے کو اس سے ملا دیں) اور نہ وہ بچہ اس (زانی) مرد کا وارث ہو گا چاہے اس کے باپ نے اپنی زندگی میں اس کا دعویٰ کیا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، کیوں کہ وہ ولد الزنا ہے اور وہ اپنی ماں کے لوگوں سے مل جائے گا، چاہے وہ آزاد کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو یا لونڈی کے پیٹ سے (آخر ولد الزنا ہے، اور وارث نہ ہو گا، نہ نسب میں شامل ہو گا)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3154] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2265، 2266] ، [ابن ماجه 2746] ، [عبدالرزاق 19138] ، [البيهقي 260/6]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2265، 2266] ، [ابن ماجه 2746] ، [عبدالرزاق 19138] ، [البيهقي 260/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3136 سے 3145)
جو بچہ زنا سے پیدا ہو وہ درحقیقت اس مرد سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا جس نے زنا کیا گو اس کا نطفہ ہی سہی۔
اس حدیث کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ زید مر گیا، اس کی ایک لونڈی تھی اس سے ایک بچہ تھا، اب زید کے مرنے کے بعد اس کے کل یا بعض وارثوں نے قبول کیا کہ یہ بچہ زید ہی کا ہے تو وہ بچہ زید کا بچہ قرار پائے گا اور نسب ثابت ہوگا اور بچہ وارث ہوگا، یا زید نے اپنی حیات میں اقرار کیا ہو کہ یہ بچہ میرا ہے تب بھی وہ نسب میں شامل ہو کر وارث ہوگا، لیکن اگر زید نے انکار کر دیا تو نہ وہ وارث ہوگا اور نہ ہی نسب میں شامل ہوگا چاہے کچھ وارثین اس کا اقرار کریں۔
واللہ اعلم۔
دیکھئے: شرح ابن ماجہ، حدیث مذکور للعلامہ وحیدالزماں خاں رحمہ اللہ تعالیٰ۔
جو بچہ زنا سے پیدا ہو وہ درحقیقت اس مرد سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا جس نے زنا کیا گو اس کا نطفہ ہی سہی۔
اس حدیث کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ زید مر گیا، اس کی ایک لونڈی تھی اس سے ایک بچہ تھا، اب زید کے مرنے کے بعد اس کے کل یا بعض وارثوں نے قبول کیا کہ یہ بچہ زید ہی کا ہے تو وہ بچہ زید کا بچہ قرار پائے گا اور نسب ثابت ہوگا اور بچہ وارث ہوگا، یا زید نے اپنی حیات میں اقرار کیا ہو کہ یہ بچہ میرا ہے تب بھی وہ نسب میں شامل ہو کر وارث ہوگا، لیکن اگر زید نے انکار کر دیا تو نہ وہ وارث ہوگا اور نہ ہی نسب میں شامل ہوگا چاہے کچھ وارثین اس کا اقرار کریں۔
واللہ اعلم۔
دیکھئے: شرح ابن ماجہ، حدیث مذکور للعلامہ وحیدالزماں خاں رحمہ اللہ تعالیٰ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3146
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ مَمْلُوكٍ لِي وَلَدُ زِنًا، قَالَ: "لَا تَبِعْهُ، وَلَا تَأْكُلْ ثَمَنَهُ، وَاسْتَخْدِمْهُ".
عمیر بن زید نے کہا: میں نے شعبی رحمہ اللہ سے اپنے غلام کے بارے میں پوچھا جو زنا سے پیدا ہوا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ: نہ اس کو بیچو، نہ اس کی قیمت کھانا، بس اس سے خدمت لے سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3155] »
ابن یزید الہمدانی ہیں، اور اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک جید ہے۔ اس اثر کو امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
ابن یزید الہمدانی ہیں، اور اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک جید ہے۔ اس اثر کو امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد إلى الشعبي
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: سُئِلَ عَنْ وَلَدِ زِنَا يَمُوتُ، قَالَ: "إِنْ كَانَ ابْنَ عَرَبِيَّةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَجُعِلَ بَقِيَّةُ مَالِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ مَوْلَاةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَوَرِثَ مَوَالِيهَا الَّذِينَ أَعْتَقُوهَا مَا بَقِيَ. قَالَ مَرْوَانُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ ذَلِكَ.
سعید نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ سے ولد الزنا کے بارے میں پوچھا گیا جو وفات پا جائے، کہا: اگر عربی عورت سے تھا تو اس کی ماں ثلث (تہائی) کی وارث ہو گی اور باقی مال بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا، اور اگر وہ مرنے والا لونڈی کا لڑکا تھا تو بھی اس کی ماں ثلث کی وارث ہو گی اور جو باقی بچا اس کے لونڈی کو آزاد کرنے والے وارث ہوں گے۔ مروان نے کہا: میں نے سنا امام مالک رحمہ اللہ یہ ہی فرماتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3156] »
اس روایت کی سند میں سعید: ابن عبدالعزيز التنوخی ہیں۔ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس کو امام مالک نے موطأ میں کتاب الفرائض، باب میراث ولد الملاعنہ و ولد الزنا میں ذکر کیا ہے۔ دیکھے: [البيهقي 259/6] و [شرح الزرقاني 451/3-452]
اس روایت کی سند میں سعید: ابن عبدالعزيز التنوخی ہیں۔ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس کو امام مالک نے موطأ میں کتاب الفرائض، باب میراث ولد الملاعنہ و ولد الزنا میں ذکر کیا ہے۔ دیکھے: [البيهقي 259/6] و [شرح الزرقاني 451/3-452]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَضَى بِمِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ كُلِّهِ، لِمَا لَقِيَتْ فِيهِ مِنْ الْعَنَاءِ".
عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الملاعنہ (جس بچے کا باپ منکر ہو) کی کل میراث (مال) کا فیصلہ ماں کے لئے کیا، کیوں کہ اس کی ہی وجہ سے وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عمرو بن شعيب، [مكتبه الشامله نمبر: 3157] »
اس روایت کی سند عمرو بن شعيب تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2098] ، [البيهقي 259/6]
اس روایت کی سند عمرو بن شعيب تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2098] ، [البيهقي 259/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عمرو بن شعيب
حدیث نمبر: 3149
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ قَالَ فِي وَلَدِ الزِّنَا لِأَوْلِيَاءِ أُمِّهِ: "خُذُوا ابْنَكُمْ تَرِثُونَهُ وَتَعْقِلُونَهُ، وَلَا يَرِثُكُمْ".
زید بن وہب سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولد الزنا کے بارے میں اس کی ماں کے اولیاء سے کہا کہ اس کو لے جاؤ، تم اس کے وارث ہو گے، اور اس کی دیت کے ذمہ دار بھی ہوگے، اور یہ تمہارا وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3158] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11403]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11403]
وضاحت: (تشریح احادیث 3145 سے 3149)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ حرام زاده (زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ) اپنے باپ زانی کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ اس کا باپ اس کا وارث ہوگا، البتہ وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» (متفق علیہ)، یعنی اولاد صاحبِ بستر (شوہر یا مالک) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں، یعنی رجم کیا جائے گا۔
یہ حدیث «كتاب النكاح، باب (41)، الولد للفراش» میں گذر چکی ہے۔
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ حرام زاده (زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ) اپنے باپ زانی کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ اس کا باپ اس کا وارث ہوگا، البتہ وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» (متفق علیہ)، یعنی اولاد صاحبِ بستر (شوہر یا مالک) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں، یعنی رجم کیا جائے گا۔
یہ حدیث «كتاب النكاح، باب (41)، الولد للفراش» میں گذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
46. باب مِيرَاثِ السَّائِبَةِ:
آزاد کردہ غلام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3150
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: َقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "السَّائِبَةُ يَضَعُ مَالَهُ حَيْثُ شَاءَ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ سَلَمَةَ أَحَدٌ غَيْرِي.
ابوعمرو الشیبانی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آزاد کردہ غلام اپنا مال جہاں چاہے رکھ دے، عبداللہ بن زید نے کہا: شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: سلمہ بن کہیل سے یہ میرے علاوہ کسی نے نہیں سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3150]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3159] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11480] و [البيهقي 302/10 فى الولاء، باب من استحب من السلف التنزه عن ميراث السائبه و إن كان مباحًا] ۔ ابوعمرو کا نام سعد بن ایاس الشیبانی ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11480] و [البيهقي 302/10 فى الولاء، باب من استحب من السلف التنزه عن ميراث السائبه و إن كان مباحًا] ۔ ابوعمرو کا نام سعد بن ایاس الشیبانی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3149)
سائبہ کا مطلب ہے کہ وہ گائے کی طرح سے آزاد چھوڑ دیا جائے۔
ایک شخص نے کسی لونڈی یا غلام کو آزاد کیا ہے تو اس آزادی کے سبب آزاد کرنے والا اپنے آزاد کردہ غلام اور لونڈی کا وارث ہوگا، چنانچہ اگر آزاد شده فوت ہو جائے اور اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو یہ آزاد کرنے والا اس کا وارث ہوگا، اس لئے کہ فرمانِ رسالت ہے: آزاد کردہ کی ولاء (حقِ وراثت) اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا «(الولاء لمن اعتق. متفق عليه)» جیسا کہ [كتاب الفرائض، باب 31، اثر رقم 3041-3054] میں گذر چکا ہے، لیکن اگر کوئی «تورعا» اور «تنزها» اپنے آزاد کردہ غلام یا لونڈی کی میراث قبول نہ کرے تو یہ مستحب ہے، مذکور باب میں اسی کا تذکرہ ہے۔
واللہ اعلم۔
سائبہ کا مطلب ہے کہ وہ گائے کی طرح سے آزاد چھوڑ دیا جائے۔
ایک شخص نے کسی لونڈی یا غلام کو آزاد کیا ہے تو اس آزادی کے سبب آزاد کرنے والا اپنے آزاد کردہ غلام اور لونڈی کا وارث ہوگا، چنانچہ اگر آزاد شده فوت ہو جائے اور اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو یہ آزاد کرنے والا اس کا وارث ہوگا، اس لئے کہ فرمانِ رسالت ہے: آزاد کردہ کی ولاء (حقِ وراثت) اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا «(الولاء لمن اعتق. متفق عليه)» جیسا کہ [كتاب الفرائض، باب 31، اثر رقم 3041-3054] میں گذر چکا ہے، لیکن اگر کوئی «تورعا» اور «تنزها» اپنے آزاد کردہ غلام یا لونڈی کی میراث قبول نہ کرے تو یہ مستحب ہے، مذکور باب میں اسی کا تذکرہ ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3151
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ: سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ، فَقَالَ: "كُلُّ عَتِيقٍ سَائِبَةٌ".
یونس سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ سے آزاد شدہ غلام کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ہر آزاد شدہ غلام سائبہ ہے۔ (یعنی اس کی میراث آزاد کرنے والے کے لئے ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3151]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3160] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11478]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11478]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3152
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "الصَّدَقَةُ وَالسَّائِبَةُ لِيَوْمِهِمَا، أَوْ لِوَقْتِهِمَا".
ابوعثمان نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صدقہ اور سائبہ (آزاد شده غلام) دونوں اپنے دن کے لئے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3152]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3161] »
ابوعثمان کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، اور سلیمان: التیمی ہیں۔ اس اثر کو دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11465] ، [عبدالرزاق 16229] اور [بيهقي 301/10]
ابوعثمان کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، اور سلیمان: التیمی ہیں۔ اس اثر کو دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11465] ، [عبدالرزاق 16229] اور [بيهقي 301/10]
وضاحت: (تشریح احادیث 3150 سے 3152)
یعنی جس نے ثواب و اجر کے لئے صدقہ کیا اور غلام آزاد کئے تو قیامت کے دن اس کا آزاد کرنے والے کو پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسا کہ عبدالرزاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے (یعنی: «يوم القيامة» ) بعض روایات میں ہے «لقومهما» اور بعض روایات میں ہے «لوقتها» غالباً یہ تصحیفات میں سے ہے۔
واللہ اعلم وعلمہ اتم۔
یعنی جس نے ثواب و اجر کے لئے صدقہ کیا اور غلام آزاد کئے تو قیامت کے دن اس کا آزاد کرنے والے کو پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسا کہ عبدالرزاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے (یعنی: «يوم القيامة» ) بعض روایات میں ہے «لقومهما» اور بعض روایات میں ہے «لوقتها» غالباً یہ تصحیفات میں سے ہے۔
واللہ اعلم وعلمہ اتم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3153
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، قَالَ: سُئِلَ عَامِرٍ عَنْ الْمَمْلُوكِ يُعْتَقُ سَائِبَةً لِمَنْ وَلَاؤُهُ؟ قَالَ: "لِلَّذِي أَعْتَقَهُ".
زکریا نے کہا: عامر (الشعبی) رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: مملوک کو سائبہ کے طور پر آزاد کیا جائے تو اس کا ولاء (حق وراثت) کس کے لئے ہے؟ جواب دیا: جس نے اسے آزاد کیا ہے (اس کے لئے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3153]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عامر الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3162] »
اس اثر کی سند عامر الشعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11477، عن زكريا بن أبى زائده]
اس اثر کی سند عامر الشعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11477، عن زكريا بن أبى زائده]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عامر الشعبي