🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب مِيرَاثِ السَّائِبَةِ:
آزاد کردہ غلام کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:"مَاتَ مَوْلًى عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ وَلَيْسَ لَهُ وَالٍ، فَأَمَرَ بِمَالِهِ، فَأُدْخِلَ بَيْتَ الْمَالِ".
عبدالرحمٰن بن عمرو نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک غلام مر گیا جس کا کوئی والی وارث نہ تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے مال کو بیت المال میں داخل کئے جانے کا حکم دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف أبي حاتم روح بن أسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 3163] »
ابوحاتم روح بن اسلم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے، لیکن ابن ابی شیبہ میں دوسرے ثقہ راوی سے یہی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11637] ۔ اور اسحاق: ابن عبداللہ بن الحارث ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف أبي حاتم روح بن أسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3155
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ: فِي رَجُلٍ مَاتَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَوْلَى عَتَاقَةٍ، قَالَ: "مَالُهُ حَيْثُ أَوْصَى بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَوْصَى، فَهُوَ فِي بَيْتِ الْمَالِ".
عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے مروی ہے مسروق رحمہ اللہ نے کہا: ایک آدمی مر جائے اور اس کا آزاد کرنے والا ولی بھی نہ ہو تو اس کا مال جیسی اس نے وصیت کی ہو اس طرح خرچ کیا جائے اور اگر اس نے وصیت نہ کی ہو تو وہ مال بیت المال میں داخل کر دیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3155]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3164] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11638] ، [ابن منصور 221، 222]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3156
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَغَيْرِهِمَا، قَالُوا فِيمَنْ أُعْتِقَ سَائِبَةً: "إِنَّ وَلَاءَهُ لِمَنْ أَعْتَقَهُ، إِنَّمَا سَيَّبَهُ مِنْ الرِّقِّ، وَلَمْ يُسَيِّبْهُ مِنْ الْوَلَاءِ".
ابوبکر بن ابی مریم سے مروی ہے، ضمرہ اور راشد بن سعد وغیرہما نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا جو کسی کو سائبہ کے طور پر آزاد کرے کہ اس (آزاد شده) کا ولاء اس کے لئے ہے جس نے آزاد کیا، کیوں کہ اس (آزاد کرنے والے) نے اس کو غلامی سے آزاد کرایا ہے، ولاء (حق وراثت) سے آزاد نہیں کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا أبو سعيد بن عمرو من بني أمية مجهول وأبو بكر بن أبي مريم ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3165] »
اس اثر کی سند ضعیف جدا ہے، کیوں کہ ابوسعید بن عمرو بن بنی امیہ مجہول اور ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 228]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جدا أبو سعيد بن عمرو من بني أمية مجهول وأبو بكر بن أبي مريم ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالَا: "لَا بَأْسَ بِبَيْعِ وَلَاءِ السَّائِبَةِ وَهِبَتِهِ".
منصور نے خبر دی، ابراہیم و شعبی رحمہما اللہ دونوں نے کہا: سائبہ کے ولاء اور ہبہ کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3157]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3166] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 519، 11666] ۔ اس کی تفصیل آگے باب بیع الولاء میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3158
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ:"أَعْتَقَ رَجُلٌ غُلَامًا سَائِبَةً، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ، وَقَالَ: إِنِّي أَعْتَقْتُ غُلَامًا لِي سَائِبَةً، وَهَذِهِ تَرِكَتُهُ، قَالَ: هِيَ لَكَ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، قَالَ: فَضَعْهَا، فَإِنَّ هَهُنَا وَارِثًا كَثِيرًا".
قاسم نے کہا: ایک آدمی نے ایک غلام سائبہ کے طور پر آزاد کیا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنا غلام سائبہ کے طور پر آزاد کر دیا تھا اور یہ اس کا مال (ترکہ) ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے لئے ہے (یعنی تمہارا حق ہے)، اس نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں، انہوں نے جواب میں کہا: رکھے رہو، یہاں بہت سے وارث موجود ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3158]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «المسعودي عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة ضعيف والقاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود لم يدرك جده، [مكتبه الشامله نمبر: 3167] »
اس اثر کی سند میں المسعودی عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عتبہ ضعیف اور قاسم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے دادا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: المسعودي عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة ضعيف والقاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود لم يدرك جده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. باب مِيرَاثِ الصَّبِيِّ:
نومولود بچے کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3159
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، وُرِّثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب (نومولود) بچہ (پیدائش کے وقت) اونچی آواز نکال دے (یعنی رو دے) تو وارث ہو گا اور اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3159]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار وهو موقوف على جابر، [مكتبه الشامله نمبر: 3168] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1032] ، [ابن ماجه 1508، 2750] ، [ابن أبى شيبه 11529] ، [ابن حبان 6032] ، [موارد الظمآن 1223] ، [مجمع الزوائد 7239] ۔ نیز دیکھئے: [المحلی لابن حزم 158/5، 309/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار وهو موقوف على جابر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3160
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، وَرِثَ وَوُرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: جب بچہ رو دے تو وارث بھی ہو گا، اور وارث بنایا جائے گا، اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3160]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف شريك متأخر السماع من أبي إسحاق الشيباني، [مكتبه الشامله نمبر: 3169] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11535] ، [ابن عدي 1329/4] ، [المحلی 308/9 -309]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف شريك متأخر السماع من أبي إسحاق الشيباني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3161
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يَسْتَهِلُّ، وَاسْتِهْلَالُهُ بِعَصْرِ الشَّيْطَانُ بَطْنَهُ، فَيَصِيحُ، إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہر نومولود بچہ چیختا ہے، اور اس کا چیخنا شیطان کے اس کا پیٹ دبانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور وہ چیخنے لگتا ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة، [مكتبه الشامله نمبر: 3170] »
اس اثر کی یہ سند ضعیف ہے، لیکن اس کا شاہد صحیحین میں متفق علیہ موجود ہے۔ دیکھئے: [بخازي 3286، مسلم 2366، رواهما مرفوعًا عن النبى صلى الله عليه وسلم] ۔ نیز دیکھئے: [مسند أبى يعلی 5971] ، [ابن حبان 6234] ، [ابن أبى شيبه 11539]
وضاحت: (تشریح احادیث 3152 سے 3161)
اس حدیث سے ولادت کے وقت ہر بچے کے رونے کا پتہ چلا، اور یہ کہ بچہ شیطان کے کچوکے لگانے کی وجہ سے روتا ہے، اور پیدائش کے وقت سے ہی شیطان ابنِ آدم کو زک پہنچانا شروع کر دیتا ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، کیوں کہ مریم علیہ السلام ان کی والدہ نے دعا کی تھی: «﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [آل عمران: 36] » لہٰذا شیطان کی رسائی ان تک نہ ہو سکی اور ماں بیٹے اس کے شر سے محفوظ رہے۔
[كما فى البخاري 3431] ۔
یہ حقیقت قرآن پاک اور احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے اس لئے آمنا و صدقنا شک کی اس میں گنجائش نہیں۔
یہاں اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیدائش کے وقت ہر بچہ روتا ہے اور یہ اس کے زندہ ہونے کی علامت ہے، آواز نہ نکالے تو بیمار یا مردہ ہوتا ہے، اور ہر وہ بچہ جو آواز نکالے وارث ہو گا، اور اگر رونے کے بعد مر جائے تو اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَرِثُ الْمَوْلُودُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا، وَإِنْ وَقَعَ حَيًّا".
مکحول نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نومولود جب تک آواز نہ نکالے وارث نہیں ہو گا چاہے زندہ ہی پیدا ہوا ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 3171] »
اس حدیث کی سند صحیح لیکن مرسل ہے، کیونکہ مکحول تابعی ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب بچہ آواز لگائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور وارث مانا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3163]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3172] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ تخریج (3159) میں پیچھے گذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں