🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب في مِيرَاثِ الْحَمِيلِ:
حمیل کو میراث دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: "أَقَرَّتْ امْرَأَةٌ مِنْ مُحَارِبٍ جَلِيبَةٌ بِنَسَبٍ لَهَا جَلِيبٍ، فَوَرَّثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ مِنْ أُخْتِهِ".
اشعث بن ابی الشعثاء نے کہا: بنی محارب کی ایک عورت نے اپنے بھائی جلیب کی نسبت کا اقرار کیا تو عبداللہ بن عقبہ نے اس کی بہن کا اس کو (بھائی کو) وارث قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3134]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3143] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11427] ، [عبدالرزاق 19179] ، [المحلی 303/9]
وضاحت: (تشریح احادیث 3128 سے 3134)
مصنف عبدالرزاق میں ہے: ایک لونڈی بہت سا مال چھوڑ کر انتقال کر گئی، ایک آدمی نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کو بھائی کہتی تھی، یعنی یہ دعویٰ تھا کہ وہ اس کا بھائی ہے، چنانچہ قاضی شریح نے اس عورت کا کل مال اسے دے دیا۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا: أَنَا مَوْلَى فُلَانٍ، قَالَ: "يُرَدُّ مِيرَاثَهُ لِمَنْ سَمَّى أَنَّهُ مَوْلَاهُ عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا، إِلَّا أَنْ يَأْتُوا عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ بِغَيْرِ ذَلِكَ يَرُدُّونَ بِهِ قَوْلَهُ، فَيُرَدُّ مِيرَاثُهُ إِلَى مَا قَامَتْ بِهِ الْبَيِّنَةُ".
ابن شہاب سے مروی ہے، کوئی آدمی دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے کہے کہ میں فلاں شخص کا آزاد کردہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اس کا مال ان مالکان کو لوٹا دیا جائے گا جن کی اس نے دنیا سے رخصتی کے وقت نشان دہی کی تھی، الا یہ کہ وارثین اس کے علاوہ کوئی قوی دلیل لائیں، لہٰذا دلیل و بینہ کی روشنی میں اس کا ترکہ صاحب حق کو دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3135]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح كاتب الليث، [مكتبه الشامله نمبر: 3144] »
اس اثر کی سند میں لیث اور ان کے کاتب عبداللہ بن صالح متکلم فیہما ضعیف ہیں، اور یونس: ابن یزید ہیں۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3134)
ان تمام آثار کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیل اور موالی میں سے جس کا بھی نسب دلیل سے ثابت ہو گا وہ وراثت پائے گا۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح كاتب الليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب في مِيرَاثِ وَلَدِ الزِّنَا:
ولد الزنا کے میراث پانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3136
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: "وَلَدُ الزِّنَا بِمَنْزِلَةِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ".
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ولد الزنا ابن الملاعنہ کے درجہ میں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3145] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11404] ، [عبدالرزاق 12491] ، [البيهقي 258/6] ۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (2996) «في ميراث ابن الملاعنه» ۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3135)
ولد الزنا وہ بچہ ہے جو زنا کاری کے نتیجے میں پیدا ہوا، اور ابن الملاعنہ وہ ہے جس کا شوہر نے انکار کیا ہو اور عورت کو زنا کی تہمت کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان لعان سے جدائی ہو گئی ہو، ایسا بچہ ابن الملاعنہ کہلائے گا اور اس کی وارث ماں ہوگی باپ نہیں، اسی طرح ولد الزنا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی وارث بھی ماں ہوگی، وہ مرد جس نے زنا کیا وہ بھی وارث نہ ہوگا۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3137
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ: أَنَّ "وَلَدَ الزِّنَا لَا يَرِثُهُ الَّذِي يَدَّعِيهِ، وَلَا يَرِثُهُ الْمَوْلُودُ".
حکم نے کہا: ولد الزنا کا وہ شخص جو اپنا بچہ ہونے کا دعویٰ کرے وہ اس بچے کا وارث نہ ہوگا، نہ ولد الزنا اس کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3137]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحكم بن عتيبة، [مكتبه الشامله نمبر: 3146] »
حکم بن عقبہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11466]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الحكم بن عتيبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ كَانَ "لَا يُوَرِّثُ وَلَدَ الزِّنَا، وَإِنْ ادَّعَاهُ الرَّجُلُ".
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ ولد الزنا کو وارث نہیں مانتے تھے چاہے آدمی اس کا دعویٰ کرتا رہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3138]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 3147] »
اس اثر کی سند قوی ہے، اور روح: ابن عبادہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11460]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ:"أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَى إِلَى غُلَامٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ ابْنٌ لَهُ، وَأَنَّهُ زَنَى بِأُمِّهِ، وَلَمْ يَدَّعِ ذَلِكَ الْغُلَامَ أَحَدٌ، فَهُوَ يَرِثُهُ". قَالَ بُكَيْرٌ: وَسَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَقَالَ عُرْوَةُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
سلیمان بن یسار نے کہا: جو آدمی بھی کسی لڑکے کے پاس آئے اور یہ گمان رکھے کہ وہ اسی کا لڑکا ہے، اور اس نے لڑکے کی ماں سے زنا کیا تھا، اور اس لڑکے کے باپ ہونے کا دوسرا کوئی دعویٰ نہ کرے تو وہ اس لڑکے کا وارث ہو گا۔ بکیر نے کہا: میں نے عروة سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی سلیمان بن یسار کی طرح جواب دیا، اور عروہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اولاد فراش (یعنی بستر والے) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں (یعنی رجم)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3139]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف عبد الله بن صالح كاتب الليث ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3148] »
عبداللہ بن صالح کاتب اللیث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، اور بکیر: ابن عبداللہ الاشج ہیں۔ الولد للفراش کی تفصیل پیچھے کتاب النکاح، باب الولد للفراش میں گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف عبد الله بن صالح كاتب الليث ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "ابْنُ الْمُلَاعَنَةِ مِثْلُ وَلَدِ الزِّنَا، تَرِثُهُ أُمُّهُ، وَوَرَثَتُهُ، وَرَثَةُ أُمِّهِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: ابن الملاعنہ، ولد الزنا کی طرح ہے، اس کی ماں ہی اس کی وارث ہو گی اور اس کی ماں کے وارثین اس کے وارث ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف عمرو هو: ابن عبيد بن باب ضعفوه، [مكتبه الشامله نمبر: 3149] »
اس اثر کی سند میں عمرو بن عبيد بن باب ہیں جن کو علماء الجرح و التعدیل نے ضعیف کہا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11407] ، [البيهقي 258/6]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف عمرو هو: ابن عبيد بن باب ضعفوه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3141
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ وَلَدُ الزِّنَا".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا وارث نہیں بنایا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3150] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ تخریج آگے آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَوْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: فِي أَوْلَادِ الزِّنَا، قَالَ: "يَتَوَارَثُونَ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ، وَإِنْ وَلَدَتْ تَوْءَمًا فَمَاتَ، وَرِثَ السُّدُسَ".
امام زہری رحمہ اللہ نے اولاد الزنا کے بارے میں کہا کہ وہ ماؤں کی جانب سے وارث ہوں گے، اور اگر ایک بچہ جنا اور وہ مر گیا تو (دوسرا) سدس کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولا يضره الشك، [مكتبه الشامله نمبر: 3151] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور بعض روایات میں «يوما» کے بجائے «توأما» ہے اور مصنف عبدالرزاق میں تفصیل ہے کہ زنا سے دو لڑکے جنے، جن میں سے کوئی ایک مر جائے تو دوسرا سدس (چھٹے) حصے کا وارث ہوگا۔ دیکھئے: عبدالرزاق [12493] و [ابن أبى شيبه 11406]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح ولا يضره الشك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3143
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ وَلَدُ الزِّنَا، إنما يرث من لم يقم على أبيه الحد، أو تملك أمه بنكاح 3، أو شراء".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا (حرامی) وارث نہیں ہو گا، وارث وہ ہو گا جس کے باپ پر حد جاری نہ کی گئی ہو، یا جو اس بچے کی ماں کا نکاح یا خریدنے کی وجہ سے مالک ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف هشيم مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 3152] »
اس اثر کی سند میں ہشیم مدلس ہیں اور عن سے روایت کی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11465]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف هشيم مدلس وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں