🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب مِيرَاثِ الصَّبِيِّ:
نومولود بچے کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَرَى "الْعُطَاسَ اسْتِهْلَالًا".
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں چھینک آنے کو استہلال (بچے کی پہلی آواز) سمجھتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3173] »
امام زہری رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11541] ، [عبدالرزاق 6592] ۔ معن: ابن عیسیٰ اور ابن ابی ذئب: محمد بن عبدالرحمٰن بن المغیرہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْمَوْلُودُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ، وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ حَتَّى يَسْتَهِلَّ، فَإِذَا اسْتَهَلَّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِّثَ، وَكُمِّلَتْ الدِّيَةُ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: نومولود جب تک چیخے نہیں وارث نہ ہو گا، اور اس پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی جائے گی جب تک آواز نہ نکالے، پس جب آواز نکالے تو اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی اور وارث بنایا جائے گا، اور اس کی دیت بھی کامل ہو گی۔ یعنی اگر کوئی اسے مار ڈالے تو پوری دیت ہو گی جتنی ایک آدمی کی دیت ہوتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3174] »
اس روایت کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11531] ، [عبدالرزاق 6595] ۔ اس اثر کی سند میں ابوالنعمان ہیں جن کا نام محمد بن فضل عارم ہے، اور ابوعوانہ: وضاح یشکری ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ: وَسَأَلْنَاهُ عَنْ السِّقْطِ، فَقَالَ: "لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَوْلُودٍ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا".
یونس نے کہا: ہم نے ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے نامکمل گر جانے والے حمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس پر نماز جناز نہیں پڑھی جائے گی، اور نومولود پر بھی نماز نہیں پڑھی جائے گی جب تک کہ وہ روئے نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3166]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 3175] »
عبداللہ بن صالح کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 318/3] ، [عبدالرزاق 6598]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب في وَلاَءِ الْمُكَاتَبِ:
مکاتب کے حق میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "إِذَا ابْتَاعَ الْمُكَاتَبَانِ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ: هَذَا هَذَا مِنْ سَيِّدِهِ، وَهَذَا هَذَا مِنْ سَيِّدِهِ، فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ. وَيَقُولُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: الْوَلَاءُ لِسَيِّدِ الْبَائِعِ، وَيَقُولُونَ: إِنَّمَا ابْتَاعَ هَذَا مَا عَلَى الْمُكَاتَبِ، فَالْوَلَاءُ لِلسَّيِّدِ.
قتاده رحمہ اللہ نے کہا: جب دو مکاتب آپس میں ایک دوسرے کو خرید لیں، یہ اس کے مالک سے اور وہ اس کے مالک سے، تو (ایسی صورت میں) پہلے جس نے خریدا ہے اس کی بیع کا اعتبار ہو گا (اور دوسرے کی بیع لغو ہو گی)، اور اہل مدینہ کا قول ہے کہ ولاء (حق وراثت) بیچنے والے مالک کو حاصل ہو گا، وہ کہتے ہیں: اس نے (جس نے خریدا) وہ چیز خریدی جو مکاتب پر واجب الاداء تھی، اس لئے ولاء ما لک کو ہی حاصل ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى قتادة، [مكتبه الشامله نمبر: 3176] »
اس اثر کی سند قتادہ رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ اور ابوسفیان کا نام محمد بن حمید المعمری الیشکری ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 15810]
وضاحت: (تشریح احادیث 3161 سے 3167)
مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے مالک سے آزادی کے لئے لکھا پڑھی کی ہو کہ اتنی رقم ادا کرے گا تو آزاد ہو جائے گا، اگر کوئی غلام آزاد ہونے کے لئے پیش کش کرے اور مقررہ رقم دینا منظور کرے تو مالک کو اخلاقاً اس کی پیشکش قبول کرنا مستحب ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا .....﴾ [النور: 33] » اور ایسے غلام کا حقِ وراثت بھی آزاد شده غلام کی طرح اس کے مالک اور سید کا ہی ہوگا کیوں کہ اس نے اس غلام پر مہربانی کی تو ولاء اسی کا رہے گا۔
مذکورہ بالا اثر کی شرح مسألہ (2009) «و إذا اشترى المكاتبان كل واحد منهما صح شراء الاول و بطل شراء الآخر» کے تحت ابن قدامہ نے [المغنى 564/14] میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
نیز دیکھئے: [الكافي 600/2] ، [الانصاف 471/7] و [المبدع 355/6] ۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى قتادة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. باب في الْحُرِّ يَتَزَوَّجُ الأَمَةَ:
آزاد آدمی لونڈی سے نکاح کر لے تو . . .
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: "أَيُّمَا حُرٍّ تَزَوَّجَ أَمَةً، فَقَدْ أَرَقَّ نِصْفَهُ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ حُرَّةً، فَقَدْ أَعْتَقَ نِصْفَهُ، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي الْوَلَدَ.
سعید رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو آزاد آدمی لونڈی سے نکاح کرے گا اس نے اپنا آدها گروی رکھ دیا، اور جس غلام نے آزاد عورت سے شادی کی اس نے اپنا نصف آزاد کر لیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد اولاد ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 3177] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 147/4] ، [عبدالرزاق 13103] ، [ابن منصور 739، 740] ۔ اس اثر میں سعید: ابن المسیب رحمہ اللہ سید التابعین ہیں۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3167)
یعنی آزاد نے لونڈی سے نکاح کر کے اپنی اولاد کا نصف غلام بنا دیا کیوں کہ وہ اُم ولد کہلائے گی، اور غلام نے آزاد سے شادی کی تو اولاد آدھی آزاد ہوگی۔
واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب مِيرَاثِ الْوَلاَءِ:
ولاء کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: فِي الْعَبْدِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا وَلَهُ مِنْهَا وَلَدٌ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَتْ حُرَّةً، فَالنَّفَقَةُ عَلَى أُمِّهِ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا، يَعْنِي: الصَّبِيَّ، فَعَلَى مُوَالِيهِ".
شیبانی (سلیمان بن فیروز) سے مروی ہے: شعبی رحمہ اللہ نے کہا: کوئی غلام کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے لڑکا پیدا ہو جائے تو اگر عورت آزاد ہے تو نفقہ (خرچ) ماں کے ذمہ ہوگا (غلام باپ کے نہیں) اور اگر وہ لڑکا بھی غلام ہو تو اس کا خرچ اس کے آقاؤں پر ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3178] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، ابوشہاب کا نام عبدربہ بن نافع ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 153/5]
وضاحت: (تشریح حدیث 3168)
یہ اس صورت میں ہے جب غلام اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔
«كما فى المصنف.»

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ. ح وحَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُمَا قَالَا: "وَلَاؤُهُ لِمَنْ بَدَأَ بِالْعِتْقِ أَوَّلَ مَرَّةٍ".
امام عامر شعبی اور ابراہیم رحمہما اللہ نے کہا: اس کا حق میراث اس کے لئے ہوگا جس نے پہلی بار آزادی شروع کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عامر الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3179] »
اس اثر کی سند عامر شعبی رحمہ اللہ سے صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1901] ، [عبدالرزاق 16723] ۔ اور دوسری سند ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1903] ، [عبدالرزاق 16727]
وضاحت: (تشریح حدیث 3169)
اس اثر کو ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق نے «باب العبد بين الرجلين» میں ذکر کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا غلام جو دو مالکان کے درمیان ہو اور ایک نے اسے آزاد کر دیا تو جس نے پہلے آزاد کیا اس کی میراث کا حق دار وہی ہوگا۔
آگے مزید تفصیل آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عامر الشعبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب في الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ:
غلام دو مالکان کا ہو اور ایک اپنا حصہ آزاد کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأنا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ. ح وحَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا قَالَا: "إِنْ ضَمِنَ، كَانَ الْوَلَاءُ لَهُ، وَإِنْ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ، كَانَ الْوَلَاءُ بَيْنَهُمْ".
ابان بن تغلب سے مروی ہے، حکم اور ابونعیم نے کہا: اگر کفیل بنا تو ولاء اسی کے لئے ہو گا، اور اگر غلام سے آزادی کے لئے محنت و مزدوری کرائی جائے تو حق میراث مالکان کے درمیان تقسیم ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3171]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح بفرعيه، [مكتبه الشامله نمبر: 3180] »
اس اثر کی سند دونوں راویان سے صحیح ہے۔ حسن رحمہ اللہ کی روایت [ابن أبى شيبه 1900] میں ہے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی روایت [ابن أبى شيبه 1903] اور [مصنف عبدالرزاق 16720] میں ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح بفرعيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3172
حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ: فِي عَبْدٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَقَالَ: "يُتَمَّمُ عِتْقُهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي النِّصْفِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے اس غلام کے بارے میں مروی ہے جو دو مالکان کے درمیان ہو، ایک مالک نے اپنے حصہ سے آزاد کر دیا ہو، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اس کی آزادی پوری کرائی جائے گی، اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو باقی نصف کے لئے محنت مزدوری کرائی جائے گی، اور جو آزاد کراۓ گا حق وراثت (ولاء) اسی کا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3181] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1901] ، [عبدالرزاق 16723]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الشعبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3173
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيِّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: فِي عَبْدٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا نَصِيبَهُ وَأَمْسَكَهُ الْآخَرُ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ بَيْنَهُمَا".
ابن طاؤس نے اپنے والد سے روایت کیا: غلام دو آدمیوں کے درمیان ہو (یعنی دو کا غلام ہو) اور ایک نے اپنے حصے سے آزاد کر دیا ہو اور دوسرے نے روک رکھا ہو، طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: اس کی میراث دونوں (مالکان) کے درمیان تقسیم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3182] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 280/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں