سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب مِيرَاثِ الْقَاتِلِ:
قاتل کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3114
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ:"فِي رَجُلٍ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، وَجَاءَ بِشُهُودٍ فَرُجِمَتْ؟ قَالَ: يَرِثُهَا".
معمر نے قتادہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تہمت لگائی اور شہود (گواہ) بھی لایا جس کے نتیجے میں اس عورت کو رجم کر دیا گیا، قتادہ نے کہا: وہ (شوہر) اس کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3114]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى قتادة وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3123] »
یہ اثر قتادہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، «و انفرد به الدارمي» ۔
یہ اثر قتادہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، «و انفرد به الدارمي» ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى قتادة وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَمَّادٍ:"فِي رَجُلٍ جُلِدَ الْحَدَّ أَرَاهُ مَاتَ، شَكَّ أَبُو النُّعْمَانِ؟ قَالَ: يَتَوَارَثَانِ".
ابوعوانہ نے حماد سے بیان کیا کہ ایک آدمی کو کوڑوں کی سزا دی گئی، نعمان نے کہا: شاید جس کے نتیجے میں وہ مر گیا، حماد نے کہا: وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى حماد، [مكتبه الشامله نمبر: 3124] »
ابوالنعمان: محمد بن فضل عارم ہیں، سند صحیح ہے اور امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے یہ اثر ذکر نہیں کی ہے۔
ابوالنعمان: محمد بن فضل عارم ہیں، سند صحیح ہے اور امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے یہ اثر ذکر نہیں کی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى حماد
حدیث نمبر: 3116
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ، وَلَا يَحْجُبُ".
عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قاتل نہ میراث پائے گا نہ حاجب ہوگا (یعنی کسی وارث کو محروم بھی نہ کرے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3116]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3125] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 220/6]
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 220/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
حدیث نمبر: 3117
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْقَاتِلُ".
ابوعمرو عبدی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قاتل کو میراث نہیں دی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 3126] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11445]
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11445]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 3118
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "لَا يَرِثُ قَاتِلٌ خَطَأً، وَلَا عَمْدًا".
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خطا اور عمد کسی کا بھی قاتل وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع لم يدرك الشعبي عمر بن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 3127] »
شعبی رحمہ اللہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی، اس لئے یہ اثر منقطع ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11442] ، [عبدالرزاق 17789] ، [البيهقي 220/6]
شعبی رحمہ اللہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی، اس لئے یہ اثر منقطع ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11442] ، [عبدالرزاق 17789] ، [البيهقي 220/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع لم يدرك الشعبي عمر بن الخطاب
حدیث نمبر: 3119
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ".
طاؤوس رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قاتل وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3128] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 17786] ۔ نیز اثر رقم (3113) جو اوپر گذر چکا ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 17786] ۔ نیز اثر رقم (3113) جو اوپر گذر چکا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3109 سے 3119)
قاتل کے بارے میں صحیح یہی ہے کہ وہ نہ میراث میں کچھ لینے کا حق دار ہوگا نہ دیت میں سے، چاہے قتل عمداً کیا ہو یا خطا، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ عمداً قتل کیا تو میراث سے محروم ہوگا، اور غلطی سے قتل ہوا جیسے ڈنڈا مارا، دھکا دیا اور مقتول کی جان نکل گئی تو مال کا وارث ہوگا دیت کا نہیں۔
بہرحال راجح وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الأوطار 142/4، رقم الحديث 2581] و [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 54-55] ۔
قاتل کے بارے میں صحیح یہی ہے کہ وہ نہ میراث میں کچھ لینے کا حق دار ہوگا نہ دیت میں سے، چاہے قتل عمداً کیا ہو یا خطا، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ عمداً قتل کیا تو میراث سے محروم ہوگا، اور غلطی سے قتل ہوا جیسے ڈنڈا مارا، دھکا دیا اور مقتول کی جان نکل گئی تو مال کا وارث ہوگا دیت کا نہیں۔
بہرحال راجح وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الأوطار 142/4، رقم الحديث 2581] و [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 54-55] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
42. باب فَرَائِضِ الْمَجُوسِ:
مجوس کے لئے میراث کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 3120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "إِذَا اجْتَمَعَ نَسَبَانِ، وُرِّثَ بِأَكْبَرِهِمَا، يَعْنِي الْمَجُوسَ".
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: جب مجوس کے دو نسب ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو جو بڑا ہو گا وہی وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3129] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11467] ، [البيهقي 260/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11467] ، [البيهقي 260/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 3119)
اسلامی حکومت میں اگر مجوسی رہتے ہوں تو ان کے درمیان میراث اس طرح تقسیم کی جائے گی کہ جو نسب میں مرنے والے کے زیادہ قریب ہوگا وہی میراث میں حصہ دار ہوگا، مثلاً کسی آدمی (مجوسی) کی زوجیت میں اس کی ماں یا بہن ہو اور اس سے بیٹا یا بیٹی بھی پیدا ہو جائے، وہ بیٹا یا بیٹی اقرب الى النسب ہونے کی وجہ سے وارث ہوں گے، بعض کے نزدیک دوسرے لوگ محجوب ہوں گے اور بعض کے نزدیک دونوں قرابت داروں کو حصہ دیا جائے گا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المغنى لابن قدامه، كتاب الفرائض: 166/9] ۔
اسلامی حکومت میں اگر مجوسی رہتے ہوں تو ان کے درمیان میراث اس طرح تقسیم کی جائے گی کہ جو نسب میں مرنے والے کے زیادہ قریب ہوگا وہی میراث میں حصہ دار ہوگا، مثلاً کسی آدمی (مجوسی) کی زوجیت میں اس کی ماں یا بہن ہو اور اس سے بیٹا یا بیٹی بھی پیدا ہو جائے، وہ بیٹا یا بیٹی اقرب الى النسب ہونے کی وجہ سے وارث ہوں گے، بعض کے نزدیک دوسرے لوگ محجوب ہوں گے اور بعض کے نزدیک دونوں قرابت داروں کو حصہ دیا جائے گا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المغنى لابن قدامه، كتاب الفرائض: 166/9] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الزهري
حدیث نمبر: 3121
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: "يَرِثُ مِنْ الْجَانِبِ الَّذِي يَصْلُحُ، وَلَا يَرِثُ مِنْ الْجَانِبِ الَّذِي لَا يَصْلُحُ".
حماد بن ابی سلیمان نے کہا: دو نسب میں جس جانب سے نسب صحیح ہو وہ وارث ہو گا، اور جو نسب صحیح نہ ہو وہ وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى حماد بن أبي سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 3130] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11471] ، [البيهقي 260/6]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11471] ، [البيهقي 260/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 3120)
مثال کے طور پر ماں، بہن یا بیٹی سے نکاح کیا ہے تو ماں کی نسبت صحیح ہے بیوی ہونا صحیح نہیں، تو ماں کی حیثیت سے میراث پائے گی بیوی کی حیثیت سے نہیں، اسی طرح بہن اور بیٹی ہے۔
والله اعلم۔
مثال کے طور پر ماں، بہن یا بیٹی سے نکاح کیا ہے تو ماں کی نسبت صحیح ہے بیوی ہونا صحیح نہیں، تو ماں کی حیثیت سے میراث پائے گی بیوی کی حیثیت سے نہیں، اسی طرح بہن اور بیٹی ہے۔
والله اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى حماد بن أبي سليمان
حدیث نمبر: 3122
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَا فِي الْمَجُوسِ: "إِذَا أَسْلَمُوا، يَرِثُونَ مِنْ الْقَرَابَتَيْنِ جَمِيعًا".
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعو رضی اللہ عنہما نے مجوس کے بارے میں کہا کہ جب وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ دونوں قرابتوں کی جانب سے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 3131] »
اس حدیث کی سند میں ”رجل“ مجہول ہیں، ان کا نام پتہ معلوم نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11470] ، [البيهقي 260/6]
اس حدیث کی سند میں ”رجل“ مجہول ہیں، ان کا نام پتہ معلوم نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11470] ، [البيهقي 260/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 3121)
اس اثر کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجوسی نے اپنی ماں، بہن، بیٹی سے نکاح کر لیا تو وہ بیوی اور ماں بہن ایسی دونوں حیثیتوں سے میراث لے گی۔
واللہ اعلم۔
اس اثر کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجوسی نے اپنی ماں، بہن، بیٹی سے نکاح کر لیا تو وہ بیوی اور ماں بہن ایسی دونوں حیثیتوں سے میراث لے گی۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف فيه جهالة
43. باب في مِيرَاثِ الأَسِيرِ:
قیدی کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3123
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي امْرَأَةِ الْأَسِيرِ:"أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُهَا".
ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قیدی کی بیوی کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی وارث ہو گی اور قیدی اس عورت کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى عمر بن عبد العزيز، [مكتبه الشامله نمبر: 3132] »
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند حسن ہے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کی وجہ سے، «و انفرد به الدارمي» ۔
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند حسن ہے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کی وجہ سے، «و انفرد به الدارمي» ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن إلى عمر بن عبد العزيز