سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب في الاِدِّعَاءِ وَالإِنْكَارِ:
کسی چیز کے انکار کا دعویٰ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ: فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ، وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَاقْتَسَمَا الْأَلْفَيْ دِرْهَمٍ، وَغَابَ أَحَدُ الِابْنَيْنِ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَاسْتَحَقَّ عَلَى الْمَيِّتِ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: "يَأْخُذُ جَمِيعَ مَا فِي يَدِ هَذَا الشَّاهِدِ، وَيُقَالُ لَهُ: اتَّبِعْ أَخَاكَ الْغَائِبَ، وَخُذْ نِصْفَ مَا فِي يَدِهِ".
اشعث سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جو انتقال کر گیا اور اپنے دو بیٹے اور دو ہزار درہم چھوڑ گیا، دونوں بھائیوں نے دو ہزار درہم تقسیم کر لئے پھر ان میں سے ایک لڑکا غائب ہو گیا اور ایک آدمی نے ہزار درہم کا دعویٰ کیا؟ حسن رحمہ اللہ نے کہا: موجود بھائی کے پاس جو کچھ ہے وہ مدعی لے لے گا اور کہا جائے گا کہ تم اپنے بھائی کو تلاش کر کے جو اس کے پاس ہو اس کا آدھا حصہ اس سے لے لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3113] »
اس اثر کی سند حسن ہے۔ اشعث: ابن عبدالملک ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11048]
اس اثر کی سند حسن ہے۔ اشعث: ابن عبدالملک ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11048]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَقَرَّ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ، فَهُوَ عَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جب کچھ وارثین (مرنے والے پر) قرض کا اقرار کر لیں تو وہی اپنے حصہ سے قرض ادا کریں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3114] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11050] ، [ابن منصور 316] ۔ زیاد: ابن حسان ہیں۔ نیز سنن سعید بن منصور میں ہے کہ اگر ایک وارث نے اقرار کیا تو وہ اپنے حصے سے قرض ادا کرے گا، اور دو نے اعتراف کیا تو دو، اور زیادہ نے اعتراف کیا تو سب اپنے حصہ سے اس کا قرض ادا کریں گے۔
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11050] ، [ابن منصور 316] ۔ زیاد: ابن حسان ہیں۔ نیز سنن سعید بن منصور میں ہے کہ اگر ایک وارث نے اقرار کیا تو وہ اپنے حصے سے قرض ادا کرے گا، اور دو نے اعتراف کیا تو دو، اور زیادہ نے اعتراف کیا تو سب اپنے حصہ سے اس کا قرض ادا کریں گے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الحسن
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا شَهِدَ اثْنَانِ مِنْ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ، فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ إِذَا كَانُوا عُدُولًا"، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: عَلَيْهِمَا فِي بَاب فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ.
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جب دو وارث جو سچے ہوں اور قرض کی گواہی دیں تو کل مال سے قرض ادا کیا جائے گا، امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: بس وہی دونوں اپنے حصہ سے قرض ادا کریں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي، [مكتبه الشامله نمبر: 3115] »
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 322]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 322]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي
40. باب في مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ:
مرتد ہو جانے والے کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ "يُوَرِّثُ أَهْلَ الْمُرْتَدِّ إِذَا قُتِلَ".
قاسم بن عبدالرحمٰن نے کہا: اسلام سے پھر جانے والا (مرتد) اگر قتل کر دیا گیا ہو تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے اہل کو اس کا وارث مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم لم يدرك جده عبد الله فروى عنه مرسلا، [مكتبه الشامله نمبر: 3116] »
قاسم کا اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملنا ثابت نہیں، لہٰذا سند میں انقطاع ہے اور یہ مرسل ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11429، 12812] ، [عبدالرزاق 19297] ، [البيهقي 255/6]
قاسم کا اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملنا ثابت نہیں، لہٰذا سند میں انقطاع ہے اور یہ مرسل ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11429، 12812] ، [عبدالرزاق 19297] ، [البيهقي 255/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم لم يدرك جده عبد الله فروى عنه مرسلا
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ "جَعَلَ مِيرَاثَ الْمُرْتَدِّ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ابوعمرو شیبانی نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مرتد کی میراث اس کے مسلمان وارثین کے لئے قرار دی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3117] »
ابوعمرو: سعد بن ایاس ہیں۔ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11430] ، [البيهقي 254/6]
ابوعمرو: سعد بن ایاس ہیں۔ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11430] ، [البيهقي 254/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3109
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ: أَنَّ عَلِيًّا "قَضَى فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ لِأَهْلِهِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ".
حکم سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتد کی میراث کا اس کے مسلمان وارثین میں تقسیم کا فیصلہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الحجاج وهو ابن أرطاة. ولأنه منقطع أيضا الحكم لم يدرك عليا، [مكتبه الشامله نمبر: 3118] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن اوپر اس کا صحیح شاہد گزر چکا ہے، دوسرے طرق سے بھی یہ فیصلہ مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11431] ، [عبدالزراق 19143، 19301] ، [البيهقي 254/6]
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن اوپر اس کا صحیح شاہد گزر چکا ہے، دوسرے طرق سے بھی یہ فیصلہ مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11431] ، [عبدالزراق 19143، 19301] ، [البيهقي 254/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3095 سے 3109)
مرتد خود کسی مسلمان میت کا وارث نہ ہوگا، لیکن اگر وہ مر جائے تو اس کے وارث مسلمان رشتے دار ہوں گے، اور یہ مسئلہ مسلم اور کافر سے مختلف ہے۔
واللہ اعلم۔
مرتد خود کسی مسلمان میت کا وارث نہ ہوگا، لیکن اگر وہ مر جائے تو اس کے وارث مسلمان رشتے دار ہوں گے، اور یہ مسئلہ مسلم اور کافر سے مختلف ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الحجاج وهو ابن أرطاة. ولأنه منقطع أيضا الحكم لم يدرك عليا
41. باب مِيرَاثِ الْقَاتِلِ:
قاتل کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: "إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ أَخَاهُ عَمْدًا، لَمْ يُوَرَّثْ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَا مِنْ دِيَتِهِ، فَإِذَا قَتَلَهُ خَطَأً، وُرِّثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَمْ يُوَرَّثْ مِنْ دِيَتِهِ. قَالَ: وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ ذَلِكَ.
حکم نے کہا: جو آدمی اپنے بھائی کو عمداً قتل کر ڈالے تو وہ نہ اس کی میراث میں سے کچھ لے سکے گا اور نہ اس کی دیت میں سے اس کو کچھ دیا جائے گا، اور اگر قتل خطا سے بھائی کی موت واقع ہوئی ہو تو میراث میں سے اس کو حصہ ملے گا، دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، انہوں نے کہا: عطاء بھی یہ ہی کہتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3119] »
حکم بن عتبہ عبدالکریم بن مالک سے روایت کرنے میں معروف نہیں ہیں، اس لئے یہ روایت منقطع ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11452]
حکم بن عتبہ عبدالکریم بن مالک سے روایت کرنے میں معروف نہیں ہیں، اس لئے یہ روایت منقطع ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11452]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا، فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ، فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ: لَا مِيرَاثَ لَكَ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ، "فَجَعَلَ عَلَيْهِ الدِّيَةَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ".
خلاس سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا: ایک آدمی نے اپنی ماں کو پتھر کھینچ مارا، چنانچہ وہ فوت ہو گئی، اس (مارنے والے) نے اپنے بھائیوں سے میراث میں سے اپنا حصہ طلب کیا، تو انہوں نے کہا: میراث میں تمہارا کوئی حق نہیں، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے مارنے والے پر دیت کو لازم کیا اور میراث سے بے دخل کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع خلاس بن عمرو لم يدرك عليا، [مكتبه الشامله نمبر: 3120] »
اس اثر کی سند میں بھی انقطاع ہے کیوں کہ خلاس بن عمرو نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11454] ، [عبدالرزاق 17796] ، [البيهقي 220/6] ۔ اس روایت کی سند میں سعید: ابن ابی عروبہ ہیں۔
اس اثر کی سند میں بھی انقطاع ہے کیوں کہ خلاس بن عمرو نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11454] ، [عبدالرزاق 17796] ، [البيهقي 220/6] ۔ اس روایت کی سند میں سعید: ابن ابی عروبہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع خلاس بن عمرو لم يدرك عليا
حدیث نمبر: 3112
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ الْحَكَمِ: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلَ امْرَأَتَهُ خَطَأً،"أَنَّهُ يُمْنَعُ مِيرَاثَهُ مِنْ الْعَقْلِ وَغَيْرِهِ".
حکم سے مروی ہے کہ کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو قتل خطا سے مار ڈالے تو وہ دیت وغیرہ کی میراث سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحكم، [مكتبه الشامله نمبر: 3121] »
یہ روایت حکم سے صحیح ہے، اور زہیر: ابن معاویہ ہیں۔ اس اثر کو صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے ہی روایت کیا ہے۔
یہ روایت حکم سے صحیح ہے، اور زہیر: ابن معاویہ ہیں۔ اس اثر کو صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے ہی روایت کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الحكم
حدیث نمبر: 3113
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ مِنْ الْمَقْتُولِ شَيْئًا".
مجاہد سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قاتل مقتول کی کسی چیز کا وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3113]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 3122] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4564] ، [ابن ماجه 2735] و [الترمذي 2109] ، [ابن أبى شيبه 11443]
اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4564] ، [ابن ماجه 2735] و [الترمذي 2109] ، [ابن أبى شيبه 11443]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم