🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب مَا لِلنِّسَاءِ مِنَ الْوَلاَءِ:
کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَتَرَكَتْ مَوْلًى، قَالَ: "الْوَلَاءُ لِبَنِيهَا، فَإِذَا مَاتُوا، رَجَعَ إِلَى عَصَبَتِهَا".
یونس (ابن عبید) نے حسن رحمہ اللہ سے بیان کیا، وہ کہتے تھے: عورت مر جائے اور غلام چھوڑ جائے تو حق وراثت (ولاء) اس کے لڑکوں کا ہو گا، اور لڑکے موجود نہ ہوں یعنی مر جائیں تو ولاء اس عورت کے عصبہ کی طرف لوٹ جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3195] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16254]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3185
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: "لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ الْوَلَاءِ شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَعْتَقَتْ هِيَ فيَ نَفْسِهَا".
مغیرہ سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولاء (غلام کا حق وراثت) میں سے عورتوں کے لئے کچھ نہیں ہے سوائے اس عورت کے جو ازخود کسی غلام کو آزاد کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3196] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11556، 11671] ، [عبدالرزاق 16261] ، [ابن منصور 481]
وضاحت: (تشریح احادیث 3183 سے 3185)
یعنی عورت جب اپنے غلام کو خود آزاد کرے تو اس کے مال کی وارث ہوگی۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3186
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: مَاتَ مَوْلًى لِعُمَرَ، فَسَأَلَ ابْنُ عُمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: هَلْ لِبَنَاتِ عُمَرَ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ؟ قَالَ: "مَا أَرَى لَهُنَّ شَيْئًا، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُعْطِيَهُنَّ، أَعْطَيْتَهُنَّ".
(عبداللہ) ابن عون سے مروی ہے، محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی لڑکیوں کے لئے میراث میں سے کچھ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میری رائے میں تو ان کے لئے کچھ نہیں ہے، اگر تم دینا چاہو تو انہیں کچھ دے سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى محمد بن سرين، [مكتبه الشامله نمبر: 3197] »
اس روایت کی سند محمد بن سیرین تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 15776]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى محمد بن سرين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "يُحْرِزُ الْوَلَاءَ مَنْ يُحْرِزُ الْمِيرَاثَ".
ہشام سے مروی ہے ان کے والد نے کہا: ولاء کا حق دار وہی ہو گا جو میراث کا حق دار ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3198] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابواسامہ کا نام حماد بن اسامہ ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 305/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3188
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: "أَنَّ امْرَأَةً مِنْ مُحَارِبٍ وَهَبَتْ وَلَاءَ عَبْدِهَا لِنَفْسِهِ، فَأَعْتَقَتْهُ، فَوَهَبَ وَلاءَ نَفْسِهِ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَمَاتَتْ، فَخَاصَمَتِ الْمَوَالِيَ إِلَى عُثْمَانَ، فَدَعَا عُثْمَانُ الْبَيِّنَةَ عَلَى مَا قَالَ، قَالَ: فَأَتَى الْبَيِّنَةُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: اذْهَبْ، فَوَالِ مَنْ شِئْتَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَالَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ.
ابوبکر بن عمرو بن حزم سے مروی ہے بنی محارب کی ایک عورت نے اپنے غلام کا ولاء اسی (غلام) کو ہبہ کر دیا اور اسے آزاد کر دیا، اس غلام نے اپنا ولاء (حق وراثت) عبدالرحمٰن بن عمرو بن حزم کو دے دیا، اور پھر وہ عورت مر گئی تو اس غلام کے موالی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ دائر کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے قول پر دلیل طلب کی، وہ غلام دلیل لے آیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جاؤ جس کو چاہو اپنا ولی بنا لو، چنانچہ اس نے عبدالرحمٰن بن عمرو بن حزم کو ولی بنا لیا۔ یعنی ولاء کا وارث بنا لیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3199] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 518] ، [ابن منصور 226]
وضاحت: (تشریح احادیث 3185 سے 3188)
ان تمام آثارِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ ولاء کے وارث صرف مرد ہوں گے، عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوں گی، ہاں عورت اگر خود غلام آزاد کرے تو وہ اپنے غلام کے ولاء کی وارث ہوگی۔
والله اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب بَيْعِ الْوَلاَءِ:
ولاء کو بیچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3200] »
اس حدیث کی سند صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2535] ، [مسلم 1506] ۔ نیز یہ حديث (2614) نمبر پرگذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3188)
ولاء کی تفصیل پیچھے «كتاب البيوع، باب النهي عن بيع الولاء» میں گذر چکی ہے، اور یہ وہ تعلق ہے جو غلام کو آزاد کرنے کے بعد مالک سے برقرار رہتا ہے، اور آزاد کرنے والا اس غلام کا عصبہ قرار پاتا ہے اور مالک اس کی میراث کا حق دار ہوتا ہے، اور غلام کی آزادی تدبیر، مکاتب، یا جس صورت میں بھی ہو اس کا ولاء مالک کے لئے ہوتا ہے جو نہ بیچا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ یہ ایک نسبت ہے اور نسبت فروخت کی جانے والی چیز نہیں ہے اور نہ کسی حال میں اسے ہبہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3190
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:"أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ".
اس سند سے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر ترجمہ کیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3201] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3191
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: "لَا يُبَاعُ الْوَلَاءُ وَلَا يُوهَبُ، وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: ولاء نہ بیچا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، اور ولاء اس کے لئے ہے جس نے (غلام کو) آزاد کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3202] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 506، 11657] ، [عبدالرزاق 16145] ، [البيهقي 294/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3192
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ولاء نسب کے تعلق کی طرح ایک تعلق ہے، اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات ولكن جعفر بن عون ما عرفنا له سماعا قديما من سعيد بن أبي عروبة، [مكتبه الشامله نمبر: 3203] »
اس اثر کی سند میں کچھ کلام ہے، لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 507، 11656] ، [عبدالرزاق 16142] ، [سنن سعيد بن منصور 278] ، [البيهقي 294/2] و [الحاكم 7990 مرفوعًا عن النبى صلى الله عليه وسلم وقال: صحيح الإسناد] ۔ اس روایت کی سند میں سعید: ابن ابی عروبہ ہیں، اور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات ولكن جعفر بن عون ما عرفنا له سماعا قديما من سعيد بن أبي عروبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3193
حَدَّثَنَا مُسْلِم، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ:"أنهما كرها بيع الولاء".
قتادہ (بن دعامہ) نے کہا: حسن اور سعید بن المسیب رحمہما اللہ نے ولاء کے بیچنے کو ناپسند کیا ہے (یعنی مکروہ سمجھا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3204] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 510] ، [عبدالرزاق 16149] ، [ابن منصور 284] ۔ ہمام: ابن یحییٰ ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں