🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب بَيْعِ الْوَلاَءِ:
ولاء کو بیچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3194
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "لَا يُبَاعُ الْوَلَاءُ، أَيُؤْكَلُ بِرَقَبَةِ رَجُلٍ مَرَّتَيْنِ؟".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ولاء کو بیچا نہیں جائے گا، کیا کسی آدمی کی گردن دو بار کھائی جائے گی؟ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح فقد صرح ابن جريج عند عبد الرازق بالتحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 3205] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16144] ۔ نیز یہ قول مختصراً (3191) پر گذر چکا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3189 سے 3194)
ان تمام احادیث و آثار سے ثابت ہوا کہ ولاء کا بیچنا اور ہبہ کرنا جائز نہیں ہے، بنابریں یہ تعلق بیع و ہبہ کے ذریعہ کسی اور کی طرف منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، اور ولاء میں آزاد کرنے والا مرد یا عورت اپنے آزاد کردہ غلام یا لونڈی کا وارث ہوگا، اور آزاد کرنے والا موجود نہیں تو اس کے عصبہ نسبی وارث ہوں گے وہ بھی مرد، عورتیں وارث نہ ہوں گی۔
کما تقدم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح فقد صرح ابن جريج عند عبد الرازق بالتحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب في عَوْلِ الْفَرَائِضِ:
فرائض میں عول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "الْفَرَائِضُ مِنْ سِتَّةٍ، لَا نُعِيلُهَا".
عطاء سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فرائض چھ سے ہیں، ان (مسائل) میں ہم عول نہیں مانتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ابن جريج عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 3206] »
اس اثر کی سند ابن جریح کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی یہ اثر مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11236] ، [عبدالرزاق 19035] ، [ابن منصور 35]
وضاحت: (تشریح حدیث 3194)
«عول» عربی میں کہتے ہیں «عالت الفريضه تعول» یعنی جب سہام اصل حساب سے زیادہ ہو جائیں اور ہر وارث کے حصہ میں کمی واقع ہوجائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام صحابہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عول سے کام لیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس نے شوہر اور دو بہنیں چھوڑیں، مسئلہ چھ سے بنا، جس میں شوہر کا نصف، اور اخوات لاب کا ثلثین (دو تہائی) حصہ بنتا ہے، اب اگر شوہر کو چھ میں سے نصف 3 حصے دیئے جائیں تو بہنیں کمی میں رہیں گی، اور اگر پہلے بہنوں کو دو ثلث (4) دے دیئے جائیں تو شوہر کے لئے (2) بچیں گے اور وہ نقصان میں رہے گا، اس لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اورسب نے دیون (قرضوں) پر قیاس کرتے ہوئے طریقۂ عول کو اپنایا اور یہ مسئلہ سات سے حل کیا، جس میں 3 شوہر کو ملے اور باقی 4 دو ثلث بہنوں کو مل گئے، یہی عول ہے۔
پھر علمائے فرائض نے اسی طرح جب 12 کے حصص زیادہ ہوں تو سترہ تک، اور 6 کے دس تک، اور چوبیس میں 47 تک عول کو مانا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی مخالفت کی ہے جو اجماعِ صحابہ کے مقابلے میں صحیح نہیں۔
واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف ابن جريج عنعن وهو مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شريح بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:"اخْتُصِمَ إِلَى شُرَيْحٍ فِي بِنْتَيْنِ، وَأَبَوَيْنِ، وَزَوْجٍ، فَقَضَى فِيهَا، فَأَقْبَلَ الزَّوْجُ يَشْكُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ فَأَخَذَهُ، وَبَعَثَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا يَخَالُنِي امْرَأً جَائِرًا، وَأَنَا إِخَالُهُ امْرَأً فَاجِرًا، يُظْهِرُ الشَّكْوَى وَيَكْتُمُ قَضَاءً سَائِرًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا تَقُولُ فِي بِنْتَيْنِ، وَأَبَوَيْنِ، وَزَوْجٍ؟ فَقَالَ: لِلزَّوْجِ الرُّبُعُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، وَلِلْأَبَوَيْنِ السُّدُسَانِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلِابْنَتَيْنِ، قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ نَقَصْتَنِي؟ قَالَ: لَيْسَ أَنَا نَقَصْتُكَ، اللَّهُ نَقَصَكَ، لِلِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْأَبَوَيْنِ السُّدُسَانِ، وَلِلزَّوْجِ الرُّبُعُ، فَهِيَ مِنْ سَبْعَةٍ وَنِصْفٍ فَرِيضَةً، فَرِيضَتُكَ عَائِلَةٌ".
ایوب بن الحارث نے کہا: قاضی شریح کے پاس دو لڑکیوں، ماں اور باپ اور شوہر کا قضیہ آیا تو انہوں نے اس کا فیصلہ کر دیا (یعنی بغیر عول کے، لہٰذا اس کا حصہ کم ہوگیا) لہٰذا مسجد میں شوہر نے اس کا شکوہ کیا تو عبداللہ بن رباح نے قاضی شریح کو بلا بھیجا اور قاضی شریح سے پوچھا: تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ: یہ آدمی مجھے ظالم سمجھتا ہے اور اس کو میں فاجر سمجھتا ہوں کیوں کہ اس نے فتویٰ بتا دیا اور پورا فیصلہ چھپا گیا ہے، اس آدمی نے کہا: پھر آپ دو لڑکی، ماں باپ اور شوہر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: شوہر کے لئے پورے مال کا ريع (چوتھائی) ہے، اور ماں اور باپ دونوں کے لئے دو سدس (چھٹا) حصہ (یعنی چھ اور چھ) ہے، جو بچا وہ لڑکیوں کے لئے ہے، میں نے تمہارے لئے کیا کمی کی؟ عبداللہ بن رباح نے کہا: میں نے تمہاری کوئی تنقیص نہیں کی، الله تعالیٰ نے تمہارا نقص بیان کیا ہے۔ دونوں لڑکیوں کے لئے دو ثلث (چار) ماں باپ کے لئے سدسان (1۔1) اور شوہر کے لئے ربع چوتھا حصہ ہو گا، اور یہ مسئلہ ساڑھے سات سے ہو گا، اور اس مسئلہ میں عول سے کام لینا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف شريح بن الحارث الكوفي الراوي عن شريح القاضي ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3207] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ مذکور بالا سند میں شریح عن ایوب ہے، دوسرے نسخ میں شریح بن الحارث ہے جن کا ترجمہ کہیں نہیں ملا، اس سیاق سے یہ قضیہ اور کہیں نہیں ملا، اخبار قضاۃ میں اسی طرح کا مسئلہ موجود ہے۔ دیکھئے: [أخبار القضاة 364/3]
وضاحت: (تشریح حدیث 3195)
اس اثر سے عول ثابت ہوا، مسئلہ 7.5 (ساڑھے سات) سے اس طرح ہے:
. . . 6- . . . 7.5
زوج . . . 1.5 . . . 1.5
ماں . . . 1 . . . 1
باپ . . . 1 . . . 1
دو لڑکی . . . 4 . . . 4 . . . واللہ اعلم

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف شريح بن الحارث الكوفي الراوي عن شريح القاضي ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب جَرِّ الْوَلاَءِ:
حق ولاء اپنی طرف کھینچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَزَيْدٍ، قَالُوا: "الْوَالِدُ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِهِ".
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہم نے کہا: باپ اپنے بیٹے کا ولاء (اپنی طرف) کھینچ لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3197]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3208] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11583] ، [عبدالرزاق 16276، 16277 بسند منقطع]
وضاحت: (تشریح حدیث 3196)
ولاء غلام کی میراث کے سلسلے میں حق یہ ہے کہ اس کا نسبی وارث نہ ہو تو غلام کا مالک اس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
اس باب میں ذکر ہے کہ بیٹے کے ولاء کا باپ اور باپ کا دادا وارث ہو سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "الْجَدُّ يَجُرُّ الْوَلَاءَ".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: دادا ولاء کو کھینچ لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل أشعث، [مكتبه الشامله نمبر: 3209] »
اس اثر کی بھی سند اشعث کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11583، 11594] ، [عبدالرزاق 16286 بسند صحيح]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل أشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: "الْوَالِدُ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِهِ".
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے قاضی شریح نے کہا: والد اپنے بیٹے کا ولاء کھینچ لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3210] »
اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11587، 11589، عن جابر الجعفي وهو ضعيف] و [عبدالرزاق 16278، 16279] و [البيهقي 307/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ:"فِي مَمْلُوكٍ تُوُفِّيَ وَلَهُ أَبٌ حُرٌّ، وَلَهُ بَنُونَ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ، لِمَنْ وَلَاءُ وَلَدِهِ؟ قَالَ: لِمَوَالِي الْجَدِّ".
امام عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایک غلام مر گیا اور اس کا آزاد باپ اور اس کے بیٹے (یعنی مرنے والے کے بیٹے) آزاد عورت سے موجود ہیں تو ولاء کس کے لئے ہو گا؟ انہوں نے کہا: ایسی صورت میں دادا کے جو مالکان ہیں ولاء ان کا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3211] »
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے، اور ابونعیم کا نام فضل بن دکین ہے، اور زکریا: ابن ابی زائدہ ہیں۔ دیکھئے: [البيهقي 307/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الشعبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3201
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ:"فِي مُكَاتَبٍ مَاتَ وَقَدْ أَدَّى نِصْفَ مُكَاتَبَتِهِ، وَلَهُ وَلَدٌ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَةٍ، قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ جَرَّ وَلَاءَ وَلَدِهِ".
مغیرہ سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ایک غلام مکاتب فوت ہو گیا، جس نے آدھی قسط ادا کر دی تھی اور آزاد بیوی سے اس کا ایک لڑکا موجود تھا، انہوں نے کہا: میرا خیال ہے وہ اپنے بیٹے کا ولاء کھینچ لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3212] »
اس روایت کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16287]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:"كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَرْجِعُ عَنْ قَضَاءٍ يَقْضِي بِهِ، فَحَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ: أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ، فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا أَحْرَارًا، ثُمَّ عُتِقَ بَعْدَ ذَلِكَ، رَجَعَ الْوَلَاءُ لِمَوَالِي أَبِيهِمْ"، فَأَخَذَ بِهِ شُرَيْحٌ.
حکم سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: قاضی شریح جو فیصلہ کرتے اس سے رجوع نہ کرتے تھے، ان سے اسود نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب غلام کی شادی آزاد عورت سے ہو جائے، پھر عورت سے اولاد ہوئی جو آزاد تھی، پھر بعد میں باپ بھی آزاد ہو گیا تو ولاء کاحق انہوں نے ان کے باپ کو آزاد کرنے والوں کو دیا، چنانچہ قاضی شریح نے اس کو مان لیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3202]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3213] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11589] ، [البيهقي 307/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3203
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَر:"الْمَمْلُوكِ يَكُونُ تَحْتَهُ الْحُرَّةُ، يُعْتَقُ الْوَلَدُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، فَإِذَا عُتِقَ الْأَبُ، جَرَّ الْوَلَاءَ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس غلام کے عقد میں آزاد بیوی ہو تو اس کا بیٹا بھی ماں کے ساتھ آزاد ہو گا، اور جب باپ آزاد کر دیا جائے گا تو وہ ولاء کو کھینچ لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع إبراهيم النخعي لم يدرك عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3214] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ تخریج دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11581، 11582] ، [عبدالرزاق 16276، 16277] ، [البيهقي 306/10]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع إبراهيم النخعي لم يدرك عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں