🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37.  باب الولد مبخلة مجبنة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 61
61/84 عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال أبو بكر رضي الله عنه يوماً:"والله ما على وجه الأرض رجل أحب إلى من عمر، فلما خرج رجع فقال: كيف حلفت أي بنية؟ فقلت له. فقال: أعز علي والولد ألوط (2) ".
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 62
62/58 عن ابن أبي نعم قال: كنت شاهداً ابن عمر، إذا سأله رجل عن دم البعوضة؟ فقال: ممن أنت؟ فقال: من أهل العراق. قال: انظروا إلى هذا يسألني عن دم البعوضة، وقد قتلوا ابن النبي صلى الله عليه وسلم، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ( (هما ريحانيّ من الدّنيا) ) .
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38.  باب حمل الصبي على العاتق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 63
63/68 عن البراء قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم والحسن - صلوات الله عليه - على عاتقه وهو يقول:"اللهم! إني أحبه فأحبه".
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب الولد قرة العين
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 64
64/87 عن جبير بن نفير قال: جلسنا إلى المقداد بن الأسود يوماً، فمر به رجل، فقال: طوبى لهاتين العينين اللتين رأتا رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله! لوددنا أنا رأينا ما رأيت، وشهدنا ما شهدت، فاستغضب، فجعلت أعجب، ما قال إلا خيراً! ثم أقبل عليه فقال:"ما يحمل الرجل على أن يتمنى محضراً غيبه الله عنه؟ لا يدرى لو شهده كيف يكون فيه؟ والله! لقد حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم أقوام كبهم الله على مناخرهم في جهنم؛ لم يجيبوه ولم يصدقوه! أولا تحمدون الله عز وجل إذ أخرجكم لا تعرفون إلا ربكم، فتصدقون بما جاء به نبيكم صلى الله عليه وسلم، قد كفيتم البلاء بغيركم. والله لقد بعث النبي صلى الله عليه وسلم على أشد حال بعث عليها نبي قط، في فترة وجاهلية، ما يرون أن دينا أفضل من عبادة الأوثان! فجاء بفرقان فرق به بين الحق والباطل، وفرق به بين الوالد وولده، حتى إن كان الرجل ليرى والده أو ولده أو أخاه كافراً، وقد فتح الله قفل قلبه بالإيمان ويعلم أنه إن هلك دخل النار، فلا تقر عينه، وهو يعلم أن حبيبه في النار، وأنها للتي قال: الله عز وجل: {والذين يقولون ربنا هب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعين} [الفرقان: 74] .
جبیر بن نفیر سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن ہم مقداد بن اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص ان کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا: کیا خوش قسمت اور مبارک ہیں یہ دونوں آنکھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ اللہ کی قسم ہمارا دل چاہتا ہے کہ کاش ہم بھی وہ دیکھتے جو آپ نے دیکھا اور ان (معرکوں) میں شریک ہوتے جن میں آپ شریک ہوئے ہیں۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غضبناک ہوئے۔ تو مجھے تعجب ہوا کہ اس نے تو اچھی بات ہی کہی ہے (یہ غصے کیوں ہو رہے ہیں)۔ اس کے بعد مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا: آدمی ایسی چیزوں کی تمنا کیوں کرتا ہے کہ جن چیزوں سے اللہ نے اس کو غائب رکھا۔ اسے نہیں معلوم کہ اگر وہ وہاں ہوتا تو ا س کا کیا کردار ہوتا؟ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے لوگوں نے بھی دیکھا جنہیں اللہ نے منہ کے بل جہنم میں ڈال دیا۔ کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی، ان کی تصدیق نہیں کی۔ کیا تم اللہ عزوجل کی اس بات پر حمد نہیں کرتے کہ جب اس نے تمہیں دنیا میں پیدا کیا تو تم اپنے رب کے سوا کسی کو جانتے ہی نہ تھے۔ اور تم اس شریعت کی تصدیق کرتے ہو جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں۔ (اچھا ہوا) تم ان آزمائشوں سے بچ گئے ہو جن سے صحابہ گزرے۔ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی سخت حالات میں جاہلیت کے زمانے میں اور نبوت کے وقفے کے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے۔ کوئی نبی اتنے سخت حالات میں مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں ان لوگوں کے نزدیک کوئی دین بت پرستی سے زیادہ بہتر نہیں تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کلام کو لے آئے جو فرقان تھا جس نے حق و باطل میں فرق کیا۔ اور اس کے ذریعے سے باپ اور بیٹے کے درمیان فرق ڈال دیا (کہ ایک کافر ہوتا اور ایک مسلمان)۔ یہاں تک کہ اگر ایک آدمی اپنے باپ کو، اپنے بیٹے کو اور اپنے بھائی کو حالت کفر میں دیکھتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے اپنے دل کا قفل ایمان کی چابی سے کھول دیا تھا۔ اور وہ جانتا تھا کہ میرا باپ، بھائی، بیٹا جو کافر تھا اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا تو اس کی آنکھ ٹھنڈی نہیں ہو تی تھی اور وہ جانتا تھا کہ اس کا عزیز جہنم میں گیا۔ اور یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تو اسی چیز سے ہوتی ہے جس کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ‏ «‏وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ» اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ (مطلب یہ کہ وہ شریعت پر عمل کریں کیونکہ مومن کی آنکھ، اولاد اور بیوی سے تب ہی ٹھنڈی ہو گی جب وہ اللہ کے عبادت گزار ہوں۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب من دعا لصاحبه أن أكثر ماله وولده
جو اپنے دوست کے لیے مال و اولاد کی کثرت کی دعا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
65/88 عن أنس قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم يوماً، وما هو إلا أنا وأمي وأمّ حرام خالتي، إذ دخل علينا، فقال لنا:" ألا أصلي بكم؟" وذاك في غير وقت صلاة، فقال رجل من القوم: فأين جعل أنساً منه؟ فقال: جعله يمينه، ثم صلى بنا، ثم دعا لنا – أهل البيت- بكل خير من خير الدنيا والآخرة، فقالت أمي: يا رسول الله! خويدمك؛ ادع الله له، فدعا لي بكل خير، كان في آخر دعائه أن قال:"اللهم أكثر ماله وولده، وبارك له".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں صرف میں تھا میری والدہ تھیں اور میری خالہ ام حرام تھیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم سے کہا: کیا میں تمہیں نماز نہ پڑھاؤں؟ اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا (یعنی نفلی نماز پڑھنا چاہتے تھے) تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: انس کو کہاں کھڑا کیا؟ تو کہا: انس کو دائیں طرف کھڑا کیا پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر ہم گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں میں سے ہر بھلائی کے ساتھ دعا مانگی۔ تو میری ماں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا یہ ادنیٰ سا خادم ہے اس کے لیے بھی اللہ سے دعا کریں تو انہوں نے میرے لیے ہر خیر کی دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے آخری الفاظ یہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده، وبارك له» یا اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر دے اور اس کے لیے برکت ڈال دے۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اولاد نیک ہو تو اس سے بہتر کوئی سرمایہ نہیں ہے اس کی برکت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41.  باب الوالدات رحيمات
مائیں رحم دل ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
66/89 عن أنس بن مالك: جاءت امرأة إلى عائشة رضي الله عنها، فأعطتها عائشة ثلاث تمرات، فأعطت كل صبي لها تمرة، وأمسكت لنفسها تمرة، فأكل الصبيان التمرتين ونظرا إلى أمهما، فعمدت إلى التمرة فشقتها، فأعطت كل صبي نصف تمرة، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته عائشة فقال:"وما يعجبك من ذلك؟ لقد رحمها الله برحمتها صبييها".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں عطا کیں اس نے اپنے دونوں بچوں کو ایک ایک دی اور ایک اپنے لیے رکھ لی۔ دونوں بچوں نے دونوں کھجوریں کھا لیں اور اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگے۔ اس نے تیسری کھجور کو دو ٹکڑے کر کے ایک ایک ٹکرا دونوں بچوں کو دے دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمایا کیونکہ اس نے اپنے دونو ں بچوں پر رحم کیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب قبلة الصبيان
بچوں کا بوسہ لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 67
67/90 عن عائشة رضي الله عنها قالت: جاء أعرابى إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أتقبلون صبيانكم؟! فَـ [والله/89] ما نقبلهم! فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"أو أملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة؟!".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: کیا آپ لوگ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں، اللہ کی قسم ہم لوگ تو ان کا بوسہ نہیں لیتے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں کیا کروں؟ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 68
68/91 عن أبي هريرة قال: قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم حسن بن علي، وعنده الأقرع بن حابس التميمي جالس، فقال الأقرع: إن لي عشرة من الولد ما قبلت منهم أحداً! فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال:" من لا يرحم لا يرحم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس تمیمی بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع نے کہا: میرے دس بیٹے ہیں میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا ہے۔ اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پررحم نہیں کیا جاتا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43.  باب أدب الوالد وبره لولده 
باپ اپنی اولاد کو ادب سکھائے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 69
69/93 عن النعمان بن بشير، أن أباه انطلق به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحمله فقال: يا رسول الله! إني أشهدك أنى قد نحلت النعمان كذا وكذا، فقال:"أكل ولدك نحلت؟". قال: لا. قال:"فأشهد غيرى". ثم قال:"أليس يسرك أن يكونوا في البر سواء". قال: بلى. قال:"فلا إذاً". قال أبو عبد الله البخاري: ليس الشهادة من النبي صلى الله عليه وسلم رخصة.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور (ان کے والد نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا، یا رسول اﷲ! میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیزیں دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو یہ تحفہ دیا ہے، عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: تو پھر کسی اور کو گواہ بناؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارے سارے بچے تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے میں برابر ہوں۔ عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا: تو پھر ایسا نہ کرو۔ ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گواہی دینا اجازت کے قائم مقام نہیں ہو گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44.  باب من لا يرحم لا يرحم 
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 70
70/95 عن أبي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من لا يرحم لا يرحم".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں