مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (سُنَنُ الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا)
فجر کی سنتیں دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہیں
حدیث نمبر: 1164
1164 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعتیں، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، سے بہتر ہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (96/ 725)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَأْكِيدُ قِرَاءَةِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ مَغْرِبٍ)
نماز مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کی تاکید
حدیث نمبر: 1165
1165 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ:"لِمَنْ شَاءَ"كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو، نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔“ تیسری مرتبہ اس اندیشے کے پیش نظر کہ لوگ اسے سنت نہ بنا لیں، فرمایا: ”جو کوئی چاہے (پڑھے)۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1183) و مسلم (304 / 838)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کے بعد چار رکعات کا بیان
حدیث نمبر: 1166
1166 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي أُخْرَى لَهُ، قَالَ:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعت پڑھے۔“ مسلم، اور انہی کی دوسری روایت میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو وہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (69/ 881)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ سُنَنِ ظُهْرٍ)
ظہر کی سنتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1167
الْفَصْلُ الثَّانِي 1167 - وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا ; حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتوں اور اس کے بعد چار رکعتوں پر دوام اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے۔“ صحیح، رواہ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (6/ 326 ح 27308) والترمذي (427 وقال: حسن غريب.) و أبو داود (1269) والنسائي (3/ 265 ح 1815) و ابن ماجه (1160)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (فَضْلُ أَرْبَعِ سُنَنٍ قَبْلَ الظُّهْرِ)
ظہر سے پہلے چار سنتوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 1168
1168 - وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ، تُفَتَّحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر سے پہلے چار رکعتوں کے لیے، جن میں سلام نہ پھیرا گیا ہو، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1270) و ابن ماجه (1157)
٭ عبيدة بن معتب: ضعيف کما قال أبو داود وغيره و للحديث شواھد ضعيفة.»
٭ عبيدة بن معتب: ضعيف کما قال أبو داود وغيره و للحديث شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضْلُ صَلَوَاتِ الزَّوَالِ)
صلوٰۃ زوال کی فضیلت
حدیث نمبر: 1169
1169 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَقَالَ:"إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوالِ آفتاب کے بعد نمازِ ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ گھڑی ہے جب آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی عمل صالح اوپر جائے۔“ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (478 وقال: حسن غريب.) [و النسائي في الکبري: 331] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَيَانُ فَضْلِ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ)
عصر سے پہلے چار رکعات کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1170
1170 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"رَحِمَ اللَّهُ امْرَءًا صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ [ وَأَبُو دَاوُدَ ] .
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ، عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے والے شخص پر رحم فرمائے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد والترمذی وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (117/2 ح 5980) والترمذي (430 وقال: حسن غريب.) [وأبو داود (1271) و صححه ابن خزيمة (1193) و ابن حبان (616) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ)
عصر سے پہلے چار رکعت کا بیان
حدیث نمبر: 1171
1171 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقرب فرشتوں اور ان کی اتباع کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فرق کیا کرتے تھے۔ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (429 وقال: حسن.) [وابن ماجه (1161) ] »
قال الشيخ الألباني: حَسَنٌ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَيَانُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعَصْرِ)
نماز عصر سے پہلے دو رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1172
1172 - وَعَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ» ”اس کی سند حسن ہے“، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» ”اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1272)»
قال الشيخ الألباني: حَسَنٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ سِتِّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ)
نماز مغرب کے بعد چھ رکعتوں کابیان
حدیث نمبر: 1173
1173 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ ; عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ ابْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: هُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور وہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عمر بن ابی خثعم سے مروی حدیث کے حوالے سے جانتے ہیں جبکہ میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری رحمہ اللہ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ منکر حدیث ہے، اور انہوں نے اسے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (435) [و ابن ماجه (1167، 1374) و عمر بن أبي خثعم: منکر الحديث] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا