🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (إِذَا حَضَرَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى مَعَ الْجَمَاعَةِ وَلَوْ صَلَّى فِي الْبَيْتِ)
مسجد میں آنے پر جماعت ملتی ہے تو جماعت سے نماز پڑھے چاہے گھر پر پڑھ چکا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1154
1154 - وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ، وَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَأُصَلِّي مَعَهُمْ، فَأَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلَنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"فَذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ". رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَبُو دَاوُدَ.
اسد بن خزیمہ کے قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا: ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ کر مسجد میں آتا ہے اور نماز ہو رہی ہو تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں؟ اس پر میرا دل مطمئن نہیں ہوتا، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے جماعت کا ثواب ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک (1/ 133 ح 297) و أبو داود (578)
٭ رجل من أسد بن خزيمة: لم أعرفه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ مَرَّتَيْنِ تَكُونُ نَافِلَةً)
دوسری مرتبہ پڑھی ہوئی نماز نفل ہو جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
1155 - وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآنِي جَالِسًا، فَقَالَ:"أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟"قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ:"وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟"قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي، أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ. فَقَالَ:"إِذَا جِئْتَ الصَّلَاةَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ، فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ، تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً، وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوا، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: ”یزید! کیا تم مسلمان نہیں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں تو مسلمان ہوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سمجھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے لہٰذا میں نے گھر میں پڑھ لی تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو پاؤ تو پھر تم ان کے ساتھ نماز پڑھو اور اگر تم پڑھ چکے ہو تو پھر وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (577)
٭ نوح بن صعصعة: مجھول الحال، لم يوثقه غير ابن حبان.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الصَّلَاةِ الَّتِي تُعَادُ)
دوبارہ پڑھی جانے والی نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1156
1156 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي، ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْإِمَامِ، أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ قَالَ لَهُ: نَعَمْ، قَالَ الرَّجُلُ، أَيَّتَهُمَا أَجْعَلُ صَلَاتِي؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذَلِكَ إِلَيْكَ؟ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ان سے دریافت کیا، اس نے کہا: میں گھر میں نماز پڑھ لوں اور پھر مسجد میں باجماعت نماز پا لوں تو پھر کیا میں جماعت کے ساتھ شریک ہو جاؤں؟ انہوں نے اسے بتایا: ہاں، اس آدمی نے کہا: میں ان میں سے کس کو اپنی (فرض) نماز قرار دوں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تجھے اس کا اختیار ہے؟ اس کا اختیار تو اللہ عزوجل کو حاصل ہے کہ وہ ان میں سے جسے چاہے (فرض) بنائے۔ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 133 ح 295)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَمْنُوعٌ قِرَاءَةُ الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ)
ایک نماز کو ایک دن میں دو مرتبہ پڑھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
1157 - وَعَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ، وَهُمْ يُصَلُّونَ. فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ فَقَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بیان کرتے ہیں، ہم مقامِ بلاط پر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے؟ انہوں نے فرمایا: میں پڑھ چکا ہوں، اور میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک نماز کو ایک ہی دن میں دو مرتبہ نہ پڑھو۔“ صحیح، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (2/ 19) و أبو داود (579) والنسائي (2/ 114 ح 861) [و صححه ابن خزيمة (1641) و ابن حبان (432) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَا حُكْمُ مَنْ أَتَمَّ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ ثُمَّ وَجَدَ الْجَمَاعَةَ)
نماز مغرب اور فجر کو ادا کر لینے والا اگر جماعت کو پائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1158
1158 - وَعَنْ نَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ ; فَلَا يَعُدْ لَهُمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ.
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو شخص نمازِ مغرب یا نمازِ فجر پڑھ لے، پھر وہ انہیں امام کے ساتھ پا لے تو وہ انہیں دوبارہ نہ پڑھے۔ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1158]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 133 ح 298)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ صَلَاةِ اثْنَيْ عَشَرَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ)
ایک دن اور رات میں بارہ رکعات نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1159
[ 30 ] بَابُ السُّنَنِ وَفَضَائِلِهَا الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1159 - عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ; بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ،"وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ ; إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دن اور رات میں (فرض نماز کے علاوہ) بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے: ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعت، عشاء کے بعد دو اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔“ ترمذی اور مسلم کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسلمان آدمی ہر روز فرائض کے علاوہ اللہ کی رضا کی خاطر بارہ رکعتیں نفل ادا کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے، یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ صحیح، رواہ مسلم والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1159]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (415 وقال: حسن صحيح.) و مسلم (103/ 728)
٭ مؤمل بن إسماعيل: حسن الحديث کما حققته في جزء خاص و لم يثبت فيه الجرح المنسوب إلي البخاري والحمد للّٰه.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ سُنَنِ الظُّهْرِ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ)
ظہر سے پہلے اور بعد کی سنتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1160
1160 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد، مغرب کے بعد دو رکعتیں آپ کے گھر میں پڑھیں اور دو رکعتیں عشاء کے بعد آپ کے گھر میں پڑھیں، اور انہوں نے بیان کیا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا (جو کہ آپ کی بہن تھیں) نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر طلوع ہو جانے پر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1160]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1180، 1181) و مسلم (104 / 729)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ سُنَنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ)
نماز جمعہ کے بعد سنتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1161
1161 - وَعَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے بعد گھر تشریف لے جا کر صرف دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1161]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (937) و مسلم (407/ 729)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَدُ نَوَافِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1162
1162 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ تَطَوُّعِهِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوَتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نفل نماز کے متعلق عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں میرے گھر میں پڑھتے، پھر نماز پڑھانے تشریف لے جاتے، پھر آ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز مغرب پڑھاتے، پھر گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر نماز عشاء پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر سمیت نو رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے، اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر ہی کرتے، اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں پڑھتے۔ مسلم، اور امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف لے جاتے۔ رواہ مسلم و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1162]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (105/ 730) و أبو داود (1251)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ سُنَنِ صَلَاةِ الْفَجْرِ)
نماز فجر کی دوسنتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1163
1163 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ تَعَاهُدًا مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوافل میں سے فجر کی دو رکعتوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1169) و مسلم (94/ 724)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں