🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَضْلُ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَعْدَ الْمَغْرِبِ)
نماز مغرب کے بعد بیس رکعتوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1174
1174 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔“ اسنادہ موضوع۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه الترمذي (435) معلقًا و أشار إلٰي ضعفه. [وابن ماجه (1373) ]
٭ فيه يعقوب بن الوليد: و کان من الکذابين الکبار.»
قال الشيخ الألباني: مَوْضُوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ قِرَاءَةِ سُنَنِ الْعِشَاءِ فِي الْبَيْتِ)
عشاء کی سنتیں گھر میں پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1175
1175 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ، إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی عشاء پڑھ کر میرے پاس تشریف لاتے تو آپ چار یا چھ رکعت نماز نفل ادا کرتے تھے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1303)
٭ فيه مقاتل بن بشير: مجھول الحال و ثقه ابن حبان وحده.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ سُنَنِ الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ)
فجر اور مغرب کی سنتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1176
1176 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (وَإِدْبَارَ النُّجُومِ) الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَ (وَأَدْبَارِ السُّجُودِ) الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” ﴿وَإِدْبَارَ النُّجُومِ﴾ [سورة الطور: 49] (ستاروں کے ڈوبنے کے بعد) سے مراد فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور ﴿وَأَدْبَارَ السُّجُودِ﴾ [سورة ق: 40] (سجدوں کے بعد) سے مراد مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3275 وقال: غريب)
٭ فيه رشدين بن کريب: ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَرْبَعِ سُنَنٍ قَبْلَ الظُّهْرِ)
ظہر سے پہلے کی چار سنتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1177
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1177 - عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"أَرْبَعُ [ رَكَعَاتٍ ] قَبْلَ الظُّهْرِ، بَعْدَ الزَّوَالِ، تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُسَبِّحُ اللَّهَ تِلْكَ السَّاعَةَ"، ثُمَّ قَرَأَ: (يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”زوالِ آفتاب کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ثواب نمازِ تہجد کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر ہے، اس وقت ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ﴾ [سورة النحل: 48] ”ان کے سائے دائیں سے اور بائیں سے لوٹتے رہتے ہیں، اللہ کے سامنے جھکتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3128 وقال: غريب لا نعرفه إلا من حديث علي بن عاصم.) والبيھقي في شعب الإيمان (3073)
٭ علي بن عاصم و يحيي البکاء ضعيفان.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ)
عصر کے بعد دو رکعت نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1178
1178 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں میرے ہاں کبھی ترک نہیں کیں۔ بخاری، مسلم، اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دی! آپ نے زندگی بھر یہ دو رکعتیں نہیں چھوڑیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (591، 590) و مسلم (299/ 835)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، بِرِوَايَةِ مُسْلِمٍ)
مغرب سے پہلے دو رکعتوں کا بیان، بروایت مسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1179
1179 - وَعَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ. فَقَالَ: كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِيَ عَلَى صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ. وَكُنَّا نُصْلِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ. فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مختار بن فلفل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ نماز عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارا کرتے تھے، اور ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں غروبِ آفتاب کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں پڑھا کرتے تھے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں انہیں پڑھتے دیکھا کرتے تھے لیکن آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا نہ منع فرمایا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (302/ 836)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ مَغْرِبٍ)
نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
1180 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ، فَرَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَيَحْسَبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، جب مؤذن نمازِ مغرب کے لیے اذان کہتا تو صحابہ رضی اللہ عنہم ستونوں کی طرف دوڑتے اور دو رکعتیں پڑھتے، حتیٰ کہ کوئی اجنبی شخص مسجد میں آتا تو وہ ان رکعتوں کو پڑھنے والوں کی کثرت دیکھ کر سمجھتا کہ نماز ہو چکی ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (303 / 837)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، بِرِوَايَةِ بُخَارِيٍّ)
مغرب سے پہلے دو رکعتوں کا بیان، بروایت بخاری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1181
1181 - وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ عُقْبَةَ الْجُهَنِيَّ، فَقُلْتُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ؟ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ. فَقَالَ عُقْبَةُ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغْلُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرثد بن عبد اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں عقبہ جہنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے کہا: ”کیا بنو تمیم کے متعلق میں تمہیں تعجب انگیز بات نہ بتاؤں کہ وہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں؟“ تو عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم بھی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ان پر عمل پیرا تھے،“ میں نے کہا: ”اب تمہیں کون سی چیز مانع ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”مشغولیت۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1184)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ نَوَافِلِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ)
نماز مغرب کے بعد نوافل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1182
1182 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ:"هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ: قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو عبدالاشہل قبیلے کی مسجد میں تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز مغرب ادا کی، جب وہ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد انہیں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”یہ گھروں (میں پڑھی جانے) والی نماز ہے۔“ ابوداؤد، ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے: لوگ کھڑے ہو کر نفل پڑھنے لگے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم یہ نماز گھروں میں پڑھا کرو۔“ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1300) و الترمذي (604 وقال: غريب.) والنسائي (198/3، 199ح 1601) [وابن خزيمة: ا120]
٭ إسحاق بن کعب بن عجرة: حسن الحديث علي الراجح.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ الْقِرَاءَةِ فِي سُنَنِ الْمَغْرِبِ)
مغرب کی سنتوں میں قراءت کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1183
1183 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب کے بعد دو رکعتوں میں قرأت لمبی کیا کرتے تھے حتیٰ کہ نمازی چلے جاتے۔ (حسن، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (1301)
٭ جعفر بن أبي المغيرة عن سعيد بن جبير: حسن له الترمذي.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں