مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حُكْمُ ابْتِدَاءِ صَلَاةِ اللَّيْلِ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ)
رات کی نماز ہلکی دو رکعتوں شروع کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 1194
1194 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَحِ الصَّلَاةَ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو قیام کرے تو دو ہلکی رکعتوں سے آغاز کرے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (198/ 768)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَزِيدٌ فِي بَيَانِ قِيَامِ اللَّيْلِ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کا مزید بیان
حدیث نمبر: 1195
1195 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ) حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَآذَنَهُ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ:"اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا"- وَزَادَ بَعْضُهُمْ -"وَفِي لِسَانِي نُورًا"وَذُكِرَ:"وَعَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشِعَرِي وَبَشَرِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا:"وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا". وَفِي أُخْرَى لِمُسْلِمٍ:"اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا".
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک رات بسر کی، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کچھ دیر بات چیت کی اور پھر سو گئے، جب آخری تہائی رات یا کچھ رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے، اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ حتیٰ کہ آپ نے سورت مکمل فرمائی، پھر آپ مشکیزے کی طرف گئے، پھر اس کا منہ کھول کر ٹب میں پانی لیا اور افراط و تفریط کے بغیر خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی کھڑا ہوا اور وضو کر کے آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے کان سے پکڑ کر گھما کر اپنے دائیں جانب کر لیا، آپ نے تیرہ رکعت نماز مکمل کی، پھر آپ لیٹ گئے، اور سو گئے حتیٰ کہ آپ خراٹے بھرنے لگے، اور جب آپ سو جاتے تو خراٹے بھرتے، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، پس آپ نے اور وضو نہ کیا اور آپ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں، میری آنکھوں میں، میرے کانوں میں، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے آگے اور میرے پیچھے اور میرے لیے نور کر دے۔“ اور ان میں سے بعض نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: «وَفِي لِسَانِي نُورًا» ”میری زبان میں نور کر دے۔“ اور یہ بھی ذکر کیا ہے: «وَاجْعَلْ فِي عَصَبِي نُورًا، وَفِي لَحْمِي نُورًا، وَفِي دَمِي نُورًا، وَفِي شَعَرِي نُورًا، وَفِي بَشَرِي نُورًا» ”میرے پٹھے، گوشت، میرا خون، میرے بال اور میرا بدن نورانی بنا دے۔“ متفق علیہ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے: «وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اور میرے نفس میں نور اور بہت ہی نور بخش۔“ اور ایک دوسری روایت میں جو مسلم میں ہے: «اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا» ”اے اللہ! تو مجھے نور عطا فرما۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1195]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6316) ومسلم (181 / 763) [والرواية الأولٰي 189/ 763]
٭ الرواية الثانية عند مسلم (191/ 763)»
٭ الرواية الثانية عند مسلم (191/ 763)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (وِتْرٌ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ)
وتر تین رکعت
حدیث نمبر: 1196
1196 - وَعَنْهُ أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ، فَتَسَوَّكَ، وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سوئے، آپ بیدار ہوئے، مسواک کی اور وضو کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] ”بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں...“ آخر سورت تک۔ پھر آپ کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام اور رکوع و سجود لمبا کیا، پھر آپ آ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے بھرنے لگے، پھر آپ نے تین مرتبہ ایسے کرتے ہوئے چھ رکعتیں پڑھیں، آپ ہر مرتبہ مسواک کرتے، وضو کرتے اور ان آیات کی تلاوت فرماتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین وتر پڑھے۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1196]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (191/ 763)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَيْفِيَّةُ صَلَاةِ التَّهَجُّدِ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد کی نماز کی کیفیت
حدیث نمبر: 1197
1197 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، [ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. قَوْلُهُ: ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، هَكَذَا فِي"صَحِيحِ مُسْلِمٍ"وَأَفْرَادِهِ مِنْ كِتَابِ"الْحُمَيْدِيِّ"، وَ"مُوَطَّأِ مَالِكٍ"، وَسُنَنِ أَبِي دَاوُدَ"وَ"جَامِعِ الْأُصُولِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ تہجد ملاحظہ کروں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں بہت ہی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے قدرے مختصر تھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کم لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کم لمبی پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھا، یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ اسے امام مسلم، امام مالک اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے زید رضی اللہ عنہ کا یہ قول: ”آپ نے رکعتیں پڑھیں اور وہ پہلی دو سے قدرے مختصر تھیں۔“ چار مرتبہ ذکر کیا ہے، اور صحیح مسلم میں اور افرادِ مسلم میں کتاب الحمیدی اور موطا مالک، سنن ابی داؤد اور جامع الاصول میں اسی طرح مذکور ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1197]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (195/ 765) و مالک في الموطأ (1/ 122 ح 265) و أبو داود (1366) و ذکره ابن الأثير في جامع الأصول (52/7 ح 4192)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْعُدُ فِي النَّوَافِلِ فِي آخِرِ عُمُرِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر عمر میں نفل بیٹھ کر پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 1198
1198 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر ر اور بوجھل ہو گئے تو آپ زیادہ تر بیٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1118) و مسلم (117/ 732)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (قِرَاءَةُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ التَّهَجُّدِ)
نماز تہجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت
حدیث نمبر: 1199
1199 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ، فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ، عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ آخِرُهُنَّ (حم الدُّخَانُ) وَ (عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، ان میں سے آخری دو سورتیں ﴿حٰمٓ الدخان﴾ [سورة الدخان: 1] اور ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة النبإ: 1] ہیں۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4996) و مسلم (275/ 822)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَيْفِيَّةُ صَلَاةِ التَّهَجُّدِ)
نماز تہجد کی کیفیت
حدیث نمبر: 1200
الْفَصْلُ الثَّانِي 1200 - عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَكَانَ يَقُولُ:"اللَّهُ أَكْبَرُ""ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ. ثُمَّ رَكَعَ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ:"سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ"، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، يَقُولُ:"لِرَبِّيَ الْحَمْدُ". ثُمَّ سَجَدَ، فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ:"سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى". ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، وَكَانَ يَقُولُ:"رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي". فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَرَأَ فِيهِنَّ (الْبَقَرَةَ) وَ (آلَ عِمْرَانَ) وَ (النِّسَاءَ) وَ (الْمَائِدَةَ) أَوِ (الْأَنْعَامَ) ، شَكَّ شُعْبَةُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا اور پھر دعا پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع قیام کی طرح (طویل) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رکوع میں یہ دعا کیا کرتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب عظمت والا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام رکوع کی طرح تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں یہ دعا کرتے تھے: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ”میرے رب کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کے برابر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سجود میں یہ دعا کیا کرتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب بہت بلند۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجود سے سر اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سجدوں کے درمیان اپنے سجود کے برابر ہی بیٹھتے تھے، اور یہ دعا کیا کرتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”میرے رب! مجھے بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار رکعتیں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سورۃ البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ یا الانعام تلاوت فرمائیں۔ شعبہ کو المائدہ یا الانعام میں شک ہوا ہے۔ صحیح، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1200]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (874) [وابن ماجه (897) والنسائي (2/ 199. 200 ح 1070) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْ يَقْرَأُ عَشْرَ آيَاتٍ فِي صَلَاةِ التَّهَجُّدِ لَا يُعَدُّ مِنَ الْغَافِلِينَ)
تہجد کی نماز میں دس آیتیں پڑھنے والا غافلین میں شمار نہیں ہو گا
حدیث نمبر: 1201
1201 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دس آیات کا اہتمام کرتا ہے وہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا، جو سو آیات (کی تلاوت و حفظ اور عمل) کا اہتمام کرتا ہے تو وہ اطاعت گزاروں میں لکھ دیا جاتا ہے اور جو شخص ہزار آیات کا اہتمام کرتا ہے تو وہ ڈھیروں اجر و ثواب پانے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1398) [و صححه ابن خزيمة (1144) و ابن حبان (662) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (طَرِيقَةُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ التَّهَجُّدِ)
تہجد کی نماز میں قرأت کا طریقہ
حدیث نمبر: 1202
1202 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد میں قراءت کرتے وقت کبھی اپنی آواز بلند کرتے اور کبھی پست کرتے تھے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1328) [و صححه ابن خزيمة (1159) و ابن حبان (657) و الحاکم (310/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (قِرَاءَةُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْتٍ مُرْتَفِعٍ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز میں تھوڑی اونچی آواز سے قرأت کرنا
حدیث نمبر: 1203
1203 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر بلند آواز سے قراءت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے اندر قراءت کرتے تو صحن میں موجود شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت سن سکتا تھا۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1203]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1327) [والترمذي في الشمائل: 321] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن