مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضْلُ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ)
نماز مغرب کے بعد دو یا چار رکعت کی فضیلت
حدیث نمبر: 1184
1184 - وَعَنْ مَكْحُولٍ، يَبْلُغُ بِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، رُفِعَتْ صَلَاتُهُ فِي عِلِّيِّينَ". مُرْسَلًا.
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مغرب کے بعد کلام کرنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھتا ہے۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”چار رکعتیں پڑھتا ہے، تو اس کی نماز علیین میں بلند کی جاتی ہے۔“ یہ روایت مرسل ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه رزين (لم أجده) وانظر الترغيب والترهيب للمنذري (1/ 405) [و قيام الليل للمروزي ص69]
٭ السند منقطع.»
٭ السند منقطع.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (حُكْمُ تَعْجِيلِ قِرَاءَةِ رَكْعَتَيْنِ سُنَّتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ)
نماز مغرب کے بعد دو سنتیں جلدی پڑھنے کا حکم
حدیث نمبر: 1185
1185 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نَحْوَهُ، وَزَادَ: فَكَانَ يَقُولُ:"عَجِّلُوا الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَإِنَّهُمَا تُرْفَعَانِ مَعَ الْمَكْتُوبَةِ". رَوَاهُمَا رَزِينٌ، وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الزِّيَادَةَ عَنْهُ نَحْوَهَا فِي:"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، انہوں نے اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھنے میں جلدی کیا کرو، کیونکہ وہ فرض نماز کے ساتھ بلند کی جاتی ہیں۔“ یہ دونوں روایتیں رزین نے روایت کی ہیں، امام بیہقی رحمہ اللہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی زائد الفاظ «شُعَبُ الْإِيمَان» میں اسی طرح روایت کیے ہیں۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه رزين (لم أجده) والبيھقي في شعب الإيمان (3068) [والمروزي في قيام الليل (ص69) وقال: ھذا حديث ليس بثابت. ]
٭ زيد العمي: ضعيف و شيخ بقية: مجھول، و طريق البيھقي فيه عبد الرحيم بن زيد العمي کذاب.»
٭ زيد العمي: ضعيف و شيخ بقية: مجھول، و طريق البيھقي فيه عبد الرحيم بن زيد العمي کذاب.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (مَنْعُ جَمْعِ الصَّلَاةِ الْفَرْضِ وَالْكَوْفَلِ)
فرض نماز کوفل نماز سے ملانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1186
1186 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: إِنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لَا نُوصِلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمرو بن عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں سائب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے اس چیز کے متعلق پوچھیں جو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دورانِ نماز دیکھی تھی، سائب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقصورہ (حکام کے لیے خاص کمرہ) میں نمازِ جمعہ ادا کی، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی اسی جگہ کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی، جب وہ اپنے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے میری طرف پیغام بھیجتے ہوئے فرمایا: آئندہ ایسے نہ کرنا، تم نے ایسے کیوں کیا؟ جب تم نمازِ جمعہ پڑھ لو تو پھر تم کلام کر لینے یا وہاں سے چلے جانے تک کوئی نماز نہ پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ”ہم (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نفل نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم بات چیت کر لیں یا وہاں سے کہیں اور چلے جائیں“۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (73/ 883)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَمْ رَكْعَةً تُصَلَّى بَعْدَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کی نماز کے بعد کتنی رکعتیں پڑھی جائیں
حدیث نمبر: 1187
1187 - وَعَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا. وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جب ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں نمازِ جمعہ ادا فرماتے تو تھوڑا سا آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ ابوداوٗد، اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے: انہوں نے بیان کیا، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ صحیح، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (1130) والترمذي (522 وقال: حسن صحيح.) [و صححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (430) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَيَانُ صَلَوَاتِ اللَّيْلِ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَمِّيهَا)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور اس کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 1188
[ 31 ] بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1188 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ. فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ، فَيَخْرُجُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر طلوع فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے، آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، آپ اس میں اتنا لمبا سجدہ فرماتے کہ آپ کے سر اٹھانے سے پہلے کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا، جب موذن نماز فجر کی اذان سے فارغ ہو جاتا اور فجر واضح ہو جاتی تو آپ ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ موذن حاضر خدمت ہو کر اقامت کے لیے درخواست کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز پڑھانے کے لیے) تشریف لے جاتے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (994) و مسلم (122 / 736)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الرَّقُودِ بَعْدَ سُنَنِ الْفَجْرِ)
فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 1189
1189 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي ; وَإِلَّا اضْطَجَعَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے، تو اگر میں بیدار ہوتی تو آپ مجھ سے بات وغیرہ کر لیتے، ورنہ لیٹ جاتے۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (123/ 743) والبخاري (1161)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ الرَّاحَةِ بَعْدَ سُنَنِ الْفَجْرِ)
فجر کی سنتوں کے بعد آرام کا بیان
حدیث نمبر: 1190
1190 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے تو آپ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (626، 1160) [مسلم: 122/ 736] »
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ جَمِيعِ صَلَوَاتِ اللَّيْلِ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی کل نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1191
1191 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا الْوَتْرُ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو وتر اور فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (128/ 738) والبخاري (1140)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ صَلَاةِ اللَّيْلِ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1192
1192 - وَعَنْ مَسْرُوقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: سَبْعٌ، وَتِسْعٌ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، سِوَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ سات، نو اور گیارہ رکعت تھی۔ «رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ» [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1139)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ التَّهَجُّدَ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز ہلکی دو رکعتوں سے شروع کرتے تھے
حدیث نمبر: 1193
1193 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ تہجد کے لیے رات کو کھڑے ہوتے تو آپ دو ہلکی رکعتوں سے اپنی نماز کا افتتاح کیا کرتے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (197/ 767)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح