🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ عُقُوبَةِ سَرِقَةِ الثِّمَارِ وَالْحَيَوَانِ)
پھل اور جانور چرانے کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3595
3595 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ  وَفِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَالْجَرِينُ فَالْقَطْعُ فِيمَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین المکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھلوں (کی چوری) میں قطع ہے نہ پہاڑ کے دامن میں چرنے والے جانور (کی چوری) میں، جب وہ (جانور) باڑے میں پناہ گزیں ہوں اور پھل گودام میں محفوظ ہو تو پھر اس کی چوری پر قطع ہے جب وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔“ (حسن، رواہ مالک)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (831/2 ح 1617)
٭ السند مرسل و له شاھد عند النسائي (86/8 ح 4962)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ عُقُوبَةِ اللِّصِّ أَوِ الْقَاطِعِ)
لٹیرے یا ڈاکو کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3596
3596 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ  وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ڈاکو پر قطع (ہاتھ کاٹنا) نہیں (اس کی سزا الگ ہے)، اور جو شخص بڑے بڑے ڈاکے ڈالے وہ ہم میں سے نہیں۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4391)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُقُوبَةُ مَنْ يَخُونُ أَوِ الَّذِي يَخْطَفُ)
خیانت کرنے والے اور اچکے کی سزا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3597
3597 - وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے اور جھپٹ کر مال حاصل کرنے والے پر «قَطْعٌ» ”قطع“ نہیں ہے۔“ صحیح، اسے ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3597]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1448 و قال: حسن صحيح) و النسائي (88/8. 89 ح 4985) و ابن ماجه (2591) و الدارمي (175/2 ح 2315)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يَحِقُّ لِلْقَاضِي الْعَفْوُ عَنْ مُجْرِمِ الْحَدِّ)
حد کے مجرم کو معافی دینا قاضی کے اختیار میں بھی نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3598
3598 - وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ، وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَجَاءَ سَارِقٌ، وَأَخَذَ رِدَاءَهُ  ، فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ. فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ".
اور شرح السنہ میں مروی ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو وہ اپنی چادر کا سرہانا بنا کر مسجد میں سو گئے، ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر پکڑ لی تو انہوں نے اسے گرفتار کر لیا، اور وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، میں نے اس (قطع) کا ارادہ نہیں کیا تھا، وہ (چادر) اس (چور) پر صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا۔“ حسن، رواہ البغوی فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3598]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (320/10. 321 بعد ح 2600 بدون سند) [و مالک (834/2. 835 ح 1624مرسل) و النسائي (69/8. 70ح 4887 حسن) و ابن ماجه (2595حسن) و أبو داود (4394 وسنده حسن) وغيرهم، وھو حسن بالشواھد] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يَحِقُّ لِلْقَاضِي الْعَفْوُ عَنْ مُجْرِمِ الْحَدِّ، بِرِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه)
حد کے مجرم کو معافی دینا قاضی کے اختیار میں بھی نہیں، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3599
3599 - وَرَوَى نَحْوَهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ.
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اسی طرح عبداللہ بن صفوان کی اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کی سند سے روایت کیا ہے۔ حسن، اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3599]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (2595)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يَحِقُّ لِلْقَاضِي الْعَفْوُ عَنْ مُجْرِمِ الْحَدِّ، بِرِوَايَةِ الدَّارِمِي)
حد کے مجرم کو معافی دینا قاضی کے اختیار میں بھی نہیں، بروایت دارمی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3600
3600 - وَالدَّارِمِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
اور امام دارمی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ حسن، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3600]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الدارمي (172/2 ح 2304)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ قَطْعِ الْيَدِ فِي الْغَزْوِ)
غزوہ میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3601
3601 - وَعَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا:"فِي السَّفَرِ". بَدَلَ"الْغَزْوِ".
بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”غزوہ میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔“ البتہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے غزوہ کے بجائے ”سفر“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صحیح، اسے ترمذی، دارمی، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3601]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1450) و الدارمي (231/2 ح 2495) و أبو داود (4408) و النسائي (91/8 ح 4982)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يُعَامَلُ السَّارِقُ الْمُحْتَرِفُ؟)
عادی چور کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3602
3602 - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي السَّارِقِ: إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ، ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ، ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
ابوسلمہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چور کے بارے میں فرمایا: ”اگر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو، اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو، اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) ہاتھ کاٹ دو اور اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) پاؤں کاٹ دو۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا مَوْضُوعٌ» ”اس کی سند نہایت ضعیف اور موضوع ہے“، «رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» ”اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3602]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا موضوع، رواه البغوي في شرح السنة (326/10 بعد ح 2602) [والدارقطني (180/3 ح 3359) ]
٭ فيه الواقدي وھو کذاب متروک و الحديث الآتي يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ قَتْلِ السَّارِقِ)
چور کو قتل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3603
3603 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اقْطَعُوهُ، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ  ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ، فَقَتَلْنَاهُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ، وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک چور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو۔“ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے (دوسری چوری میں) دوسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو۔“ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسے تیسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاؤں کاٹ دو۔“ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر چوتھی مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاؤں کاٹ دو۔“ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا۔ پھر ہم نے اسے گھسیٹ کر کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے۔ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3603]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (4410) والنسائي (90/8. 91 ح 4981 وقال: ھذا حديث منکر و مصعب بن ثابت: ليس بالقوي)
٭ مصعب: حسن الحديث، و ثقه الجمھور و للحديث شواھد عند النسائي (4980) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ كَيِّ يَدِ السَّارِقِ بَعْدَ قَطْعِهَا)
چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد داغنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3604
3604 - وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ فِي قَطْعِ السَّارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ وَعَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْطَعُوهُ ثُمَّ احْسِمُوهُ.
اور انہوں نے شرح السنہ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس (کے ہاتھ) کو کاٹ دو پھر اسے داغ دو۔“ حسن، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (327/10 بعد ح 2602) [والحاکم (381/4 ح 8150) و صححه ووافقه الذهبي و سنده حسن] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں