🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1318]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق و جهالة النعمان بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: قُلْ:" اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ".
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین! میں بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں، آپ میری مدد فرمائیے، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر جبل صیر کے برابر بھی دینار قرض ہوگا تو اللہ اسے ادا کروا دے گا، اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ دعا پڑھتے رہا کرو: «اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» ”اے اللہ! آپ اپنے حلال کے ذریعے حرام سے میری کفایت فرمائیے اور اپنی مہربانی سے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک سے بےنیاز فرما دیجئے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1319]

الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن ابن إسحاق الواسطي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَرَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1320]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي و جهالة النعمان بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى فَأَتَانَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَامَ عَلَى أَبِي مُوسَى، فَأَمَرَهُ بِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَ السَّهْمِ"، وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ، وَأَهْوَى أَبُو بُرْدَةَ إِلَى السَّبَّابَةِ أَوْ الْوُسْطَى، قَالَ عَاصِمٌ: أَنَا الَّذِي اشْتَبَهَ عَلَيَّ أَيَّتَهُمَا عَنَى، وَنَهَانِي عَنِ الْمِيثَرَةِ، وَالْقَسِّيَّةِ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، مَا الْمِيثَرَةُ وَمَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ: أَمَّا الْمِيثَرَةُ: شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ يَجْعَلُونَهُ عَلَى رِحَالِهِمْ، وَأَمَّا الْقَسِّيُّ: فَثِيَابٌ كَانَتْ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ أَوْ الْيَمَنِ، شَكَّ عَاصِمٌ، فِيهَا حَرِيرٌ، فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ.
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آ کر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا، اور فرمانے لگے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اللہ سے ہدایت کی دعا مانگا کرو اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو، اور اللہ سے درستگی اور سداد کی دعا کیا کرو اور اس سے تیر کی درستگی مراد لیا کرو۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کا اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا: امیر المومنین! «مِيثَرَة» (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا: عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے، پھر ہم نے پوچھا کہ «قِسِّيَّة» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: شام کے وہ کپڑے جن میں اترج جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1321]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْ هَذَا بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ، فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ، وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ عَلَى قَوْمٍ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ".
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: امیر المومنین! رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کی تاکید کرتے ہیں؟ فرمایا کہ میں نے صرف ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال کرتے ہوئے سنا تھا، اس کے بعد یہ واحد آدمی ہے جس سے میں یہ سوال سن رہا ہوں، اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1322]

الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي و جهالة النعمان بن سعد. وفي مسلم : 1163، عن ابي هريرة مرفوعاً : «افضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم.»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1323]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أُرَاهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى؟ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَنَا،" فَأُتِيَ بِطَسْتٍ وَإِنَاءٍ، فَرَفَعَ الْإِنَاءَ فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ، فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَتَنَثَّرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي أَخَذَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ هَذَا".
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے پانی منگوایا، ہم سوچنے لگے کہ نماز پڑھنے کے بعد اب یہ پانی کا کیا کریں گے؟ ان کا مقصد صرف ہمیں تعلیم دینا تھا، چنانچہ ان کے پاس ایک طشت اور برتن لایا گیا، انہوں نے وہ برتن اٹھایا اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا، اور تین مرتبہ انہیں دھویا، پھر اسے برتن میں ڈالا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ ناک صاف کی اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1324]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، أخبرنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا، قَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہوں، اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں، اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں، اور فرمایا کہ اسے ہم اپنے پاس سے مزدوری دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1325]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 1717 ، م : 1317
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1326
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... مِثْلَ هَذَا، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا".
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آخر میں یہ نہیں ہے کہ اس کی مزدوری ہم اپنے پاس سے دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1326]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أخبرنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، كَمَا حَبَسُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ"، أَوْ قَالَ:" حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ"، إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1327]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 4533 ، م : 627
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں