🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْتِيهِ الْجَارِيَةُ بِالْكَتِفِ مِنَ الْقِدْرِ، فَيَأْكُلُ مِنْهَا، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَيُصَلِّي، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باندی ہنڈیا میں سے شانے کا گوشت لے کر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کرنا تو دور کی بات، پانی کو چھوا تک نہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2939]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2940]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ " أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ؟ قَالَ:" هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ، وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ، وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ، وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ، وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ، وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ".
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی آزمائش کے دنوں میں نجدہ حروری نے جس وقت خروج کیا تو اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ آپ کے خیال میں ذوی القربی کا حصہ کن کا حق ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کا - جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں - حق ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم فرمایا تھا، بعد میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کے بدلے میں کچھ اور چیزیں پیش کی تھیں لیکن وہ ہمارے حق سے کم تھیں اس لئے ہم نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ ان میں سے جو نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کی مالی معاونت کریں گے، ان کے مقروضوں کے قرضے ادا کریں گے اور ان کے فقراء کو مال و دولت دیں گے، لیکن اس سے زائد دینے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2941]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ، فَفَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2942]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3558، م: 2336
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ:" مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2943]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، يزيد أحدهما على صاحبه: أن رجلا نادى ابن عباس، والناس حوله، فقال: أسنة تبتغون بهذا النبيذ؟ أم هو أهون عليكم من اللبن والعسل؟! فقال ابن عباس : جاء النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا، فَقَالَ:" اسْقُونَا"، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ، أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا؟ قَالَ:" اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ" فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ، فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا.
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آ کر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: ”پانی پلاؤ“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہو گئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو“، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا: ”تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2944]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حسين بن عبدالله بن عبيد الله ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسْمَعُونَ، وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سنتے ہو، تمہاری سنی جاتی ہے اور جو تم سے سنتے ہیں ان کی بھی سنی جاتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2945]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ، فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ".
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2946]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَامَ، صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2947]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ ذَكْوَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُمْشَى فِي خُفٍّ وَاحِدٍ، أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ". وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ كَثِيرٌ غَيْرُ هَذَا، فَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ، ضَرَبَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ لَا يُسَاوِي شَيْئًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتی یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ والد صاحب رحمہ اللہ نے یہ حدیث ہم سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صرف مسودہ میں درج کی تھی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو عمرو بن خالد کی وجہ سے ترک کر دیا تھا جو زید بن علی سے اسے روایت کرتے ہیں، اور عمرو بن خالد کی تو کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2948]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان ضعيف، ويغني عنه حديث أبى هريرة الذى سيأتي فى المسند : 245/2
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں