مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2949]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْلِنَ التَّلْبِيَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ کہنے کا حکم دیا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2950]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ، فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سَدَاهُ حَرِيرٌ لَيْسَ بِحَرِيرٍ مُصْمَتٍ، فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُشْرَبَ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش و نگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے بھی منع فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2951]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ"، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَعْتَافُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے“، میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2952]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6472
حدیث نمبر: 2953
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْءَمَةِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ، يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا، وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رحم“ ایک شاخ ہے جس نے رحمن کی آڑ تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا، اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑ دے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2953]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ عَمْروٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال:" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ، وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2954]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والوں کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2955]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ، فَدَارَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ، فَنَزَل َجِبْرِيلُ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ، فَإِنَّ الْحَقَّ قِبَلَهُ، وَهُوَ كَاذِبٌ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ" مَعْرِفَتُهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَوْ شَهَادَتُهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک پر قسم آ پڑی، اس نے قسم کھا لی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس شخص کا مجھ پر کوئی حق نہیں، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ اسے حکم دیجئے کہ اپناحق اسے دے دے، حق تو اسی کا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دیتا ہے اور اس کی معرفت اسے حاصل ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2956]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وعطاء بن السائب قد اختلط
حدیث نمبر: 2957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ لِمَ خَطَطْتُ هَذِهِ الْخُطُوطَ؟" قَالُوا: لَا. قَالَ:" أَفْضَلُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (2) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (3) مریم بنت عمران علیہما السلام (4) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2957]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ، أَوْ يُقْتَلَ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟" قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ:" رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ، وَلَا يُعْطِي بِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو، اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔“ پھر فرمایا: ”اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو۔ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2958]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح