مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ، لَكَانَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2969]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا سند ضعيف، وهو مكرر: 2663
حدیث نمبر: 2970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ، فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ ”میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2970]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف وانظر 2093
حدیث نمبر: 2971
وحَدَّثَنَاه وَكِيعٌ أَيْضًا، فَأَسْنَدَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2971]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَسْلَمَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ إِسْلَامِي." فَنَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخِرِ، وَرَدَّهَا عَلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا تھا) اور میری بیوی کو اس کا علم تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر دوسرے شوہر سے پہلے شوہر کی طرف واپس لوٹا دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2972]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ، فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ، وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَكُونُ الْحَاجَةُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2973]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
حدیث نمبر: 2974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ كَذَبَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2974]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف عبدالأعلى
حدیث نمبر: 2975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، أَوْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ؟" وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر تو مسح کیا ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں مسح کیا تھا، اب ان سے پوچھ لو، واللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح نہیں کیا تھا، اور مجھے جنگل میں بھی موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ کسی اونٹ کی پشت پر مسح کر لوں۔ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے، ورنہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2975]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عطاء بن سائب كان قد اختلط ، وأبو عوانة سمع من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا
حدیث نمبر: 2976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَرْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرَيَّةُ، سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحَلَّ؟.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے فرمایا: اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے کہ انہوں نے احرام باندھا تھا؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2976]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 2977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَتْ لِلشَّيَاطِينِ مَقَاعِدُ فِي السَّمَاءِ، فَكَانُوا يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ، وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا تَجْرِي، وَكَانَتْ الشَّيَاطِينُ لَا تُرْمَى،، قَالَ: فَإِذَا سَمِعُوا الْوَحْيَ، نَزَلُوا إِلَى الْأَرْضِ، فَزَادُوا فِي الْكَلِمَةِ تِسْعًا،" فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ الشَّيْطَانُ إِذَا قَعَدَ مَقْعَدَهُ، جَاءَهُ شِهَابٌ فَلَمْ يُخْطِهِ حَتَّى يُحْرِقَهُ، قَالَ: فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ، فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ حَدَثٍ حَدَثَ. قَالَ: فَبَثَّ جُنُودَهُ، قَالَ: فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى إِبْلِيسَ، فَأَخْبَرُوهُ، قَالَ: فَقَالَ: هُوَ الَّذِي حَدَثَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گزشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، (وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں) اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہو جاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا: اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا، ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی گزرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آ کر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2977]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلَالٌ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا يَقْتَادُهَا عَلَى بَعِيرٍ، حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا مَعَكَ؟" قَالَ: رَاوِيَةُ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ. قَالَ:" هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَهَا" قَالَ: لَا، قَالَ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا؟" فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ، وَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ:" مَاذَا قُلْتَ لَهُ؟" قَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. قَالَ" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا"، قَالَ: فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ، فَخَرَجَتْ فِي التُّرَابِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے بتایا کہ شراب کا مشکیزہ آپ کے لئے ہدیہ لایا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ نے شراب کو حرام کردیا ہے“، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”تم نے اسے کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے۔“ چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحا میں بہا دیا گیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2978]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن