مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا،" فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا"، قَالَ: وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2959]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
حدیث نمبر: 2960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا، فَلَبِسَهُ، ثُمَّ قَالَ:" شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ، إِلَيْهِ نَظْرَةٌ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ" ثُمّ رَمَى بِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوا کر پہن لی، پھر فرمانے لگے کہ ”میرا آج کا دن تو اسی میں مصروف رہا، ایک نظر اسے دیکھتا تھا اور ایک نظر تمہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2960]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَن ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا، فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ شَيْئًا، حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2961]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال:" لا يُعْضَدُ عِضَاهُها، ولا يُنَفَّرُ صَيْدُها، ولا تَحِلُّ لُقَطَتُها إِلا لِمُنْشِدٍ، ولا يُخْتَلَى خَلاها" فقال العباسُ: يا رسولَ الله، إِلا الإِذْخِرَ، قال:" إِلا الإِذْخِرً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے) یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2962]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1349، م: 1353
حدیث نمبر: 2963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ، فَسَكِرَ، فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ نْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ، فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، وَقَالَ:" قَدْ فَعَلَهَا؟!" ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا جاری نہیں فرمائی، ہوا اس طرح کہ ایک آدمی شراب پی کر مدہوش ہو گیا، راستے میں وہ ادھر ادھر لڑھکتا چلا جا رہا تھا کہ ایک شخص اسے مل گیا اور اسے پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جانے لگا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب ہوا تو وہ شخص اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھس کر پیچھے سے جا کر ان سے چمٹ گیا، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ ”اس نے ایسا کیا ہے؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متلعق کوئی حکم نہیں دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2963]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن على بن يزيد ابن ركانة مجهول
حدیث نمبر: 2964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ:" فأَما لِلَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143] » ”اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2964]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ منبه عَنْ أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ رَبَّكَ. قَالَ: فَدَعَا رَبَّهُ، قَالَ: فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ، قَالَ: فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَعِقَ، فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ، وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اپنی اصلی صورت دکھانے کی فرمائش کی، انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو اسی لمحے مشرق کی طرف سے ایک گھٹا اٹھی جو آہستہ آہستہ بلند ہونے اور پھیلنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےہوش ہو کر گر پڑے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہیں اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے تھوک کو صاف کیا جو دونوں جبڑوں کی طرف سے نکل رہا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2965]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، إدريس بن منبه ضعيف
حدیث نمبر: 2966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِأُنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا، فَأَحْرَقَهُمْ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جاٹ قوم کے کچھ لوگوں کو لایا گیا جو بتوں کے پچاری بن گئے تھے، انہوں نے ان لوگوں کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2966]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3017
حدیث نمبر: 2967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ". قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ، وَأَشْبَاهِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ راوی نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ حکم طلاق و عتاق میں بھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، صرف بیع و شراء میں ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2967]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1712
حدیث نمبر: 2968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ". قَالَ عَمْرٌو: إِنَّمَا ذَاكَ فِي الْأَمْوَالِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2968]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح