🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ، وَكَانَ يَحْجُمُهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، وَكَانَ يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ وَنِصْفٌ، فَشَفَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَجُعِلَ مُدًّا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی ہے، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی، چنانچہ انہوں نے اسے ایک مد کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2979]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف جابر الجعفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2980]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1910
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2981]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن عطاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2982]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُمِرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِيهِ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ" أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ، وَأَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2983]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2984]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2985]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا . . . . .﴾ [النساء: 94] » ”جو شخص تمہیں سلام کرے، اس سے یہ مت کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو . . . . .۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2986]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ،، خ: 4591، م: 3025، رواية سماك عن عكرمة مضطرية، لكن سماكة قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
رقم الحديث: 2868
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110، قَالَ:" أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران: 110] » ”تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی . . . . .“ والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2987]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2988
رقم الحديث: 2869
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ، وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ، وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ، وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ، وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91" الْآيَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے - ایک یہودی کا گزر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھا لے گا اور اس نے شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [الزمر: 67] » ”ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدردانی کرنے کا حق تھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2988]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں