مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلى أَبى طَيْبَة عِشاءً فحَجَمَهُ، وأعطاهُ أَجْرَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کے پاس شام کے وقت بیغام بھیجا، اس نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی مزدوری دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3019]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف عباد بن منصور، ثم هو منقطع
حدیث نمبر: 3020
(حديث مرفوع) حدثنا أَبو داود ، عن زَمْعَة ، عن سَلَمَة بنِ وَهْرامة ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ، فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، أَفَاضَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیز روشن ہوگئی تو وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3020]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح
حدیث نمبر: 3021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ، وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَسَأَلَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ قَالَ هَاشِمٌ: لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ”ذات عرق“ میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ ”اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3021]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1088
حدیث نمبر: 3022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ:" مَنْ وَضَعَ ذَا؟" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ. قَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّههُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء آئے، میں نے پیچھے سے وضو کا پانی رکھ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو پوچھا کہ ”یہ پانی کس نے رکھا ہے؟“ بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے فقیہہ بنا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3022]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 143، م: 2477
حدیث نمبر: 3023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3023]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 3024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي، إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ:" وَمْن كَذَب علَيَّ متعمَّداً، فلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَى الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے، اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3024]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي، وقوله : من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار صحيح متواتر
حدیث نمبر: 3025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3025]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 3026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَتْ فُلَانَةُ يَعْنِي الشَّاةَ. فَقَالَ:" فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا"، فَقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ سورة الأنعام آية 145، فَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ إِنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ" فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا، فَدَبَغَتْهُ، فَأَخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کیوں نہ رکھ لی؟“ انہوں نے عرض کیا کہ ایک مرداربکری کی کھال رکھتی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ « ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ [الأنعام: 145] » ”اے نبی! آپ فرما دیجئے کہ میرے پاس جو وحی بھیجی جاتی ہے، میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو۔“ اب اگر تم اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا لو تو تم اسے کھاؤ گے تو نہیں؟“ چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کسی کو بھیج کر اس کی کھال اتروا لی اور اسے دباغت دے کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پھٹ گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3026]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَذَكَرَهُ.
الحكم على الحديث:
حديث صحيح كسابقه، وهو مرسل، عكرمة لم يسمع من سودة
حدیث نمبر: 3028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ:" أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ، أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ؟" قَالَ: فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، قَالَ: فَرَجَمَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”تمہارے بارے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟“ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3028]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 1693