🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَتْ السَّنَةُ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، فَكَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ آخِرَ الْقِرَاءَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2999]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر لين الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3000
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152 عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى، حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ، وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ سورة البقرة آية 220 قَالَ: فَخَالَطُوهُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الإسراء: 34] » ”یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اچھے طریقے سے“، تو لوگوں نے یتیموں کا مال اپنے مال سے جدا کر لیا، جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ کھانا سڑنے لگا اور گوشت میں بدبو پیدا ہونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس صورت حال کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ﴾ [البقرة: 220] » ”اگر تم ان کو اپنے ساتھ شریک کر لو تو وہ تہمارے بھائی ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح کرنے والا ہے اور کون فساد کرنے والا؟“ تب جا کر انہوں نے اپنے مال کے ساتھ ان کا مال شریک کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3000]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عطاء بن السائب كان قد أختلط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ. قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ، إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: ”کیوں؟“ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3001]

الحكم على الحديث:
رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب. صححه الحاكم، وجود إسناده أبن كثير، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3002]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، م: 1934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ النَّحْرِ، وَعَلَيْنَا سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" أَبَنِيَّ، أَفِيضُوا، وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں - جبکہ رات کچھ باقی تھی - نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے: ”پیارے بچو! تم روانہ ہوجاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3003]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَيُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3004]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّرحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ“ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3005]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ، فَجَعَلَ يُوصِيهِمْ أَنْ لَا يَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ ”طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3006]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجَ فُلَانٌ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا، فَبَيْنَ آكِلٍ وَتَارِكٍ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ، وَلَا آمُرُ بِهِ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا تَقُولُونَ، مَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا، قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَّ يَدَهُ، لِيَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ. فَكَفَّ يَدَهُ، وَقَالَ:" هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ، فَكُلُوا" فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں آدمی کی شادی ہوئی، اس نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر تیرہ عدد گوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں، نہ ہی اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ممانعت کرتا ہوں“، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو“، چنانچہ سیدنا فضل، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ موجود خاتون نے اسے کھا لیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3007]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ سورة المدثر آية 8، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ، فَيَنْفُخُ؟"، فَقَالَ: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ: كَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا".
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت قرآنی: « ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر: 8] » ”جب صور پھونکا جائے گا۔“ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعا پڑھنی چاہیے؟ فرمایا: ”یہ کہتے رہا کرو: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا» ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3008]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف عطية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں