مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3009]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ، فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ، وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ، لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ، حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ، عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطا فرما دیتے، اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3010]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق وهو صدوق حسن الحديث، وإن كان مدلسا وقد عنعن، وقد توبع ، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 3011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلُوا أَنْ يَشْتَرُوا جِيفَتَهُ." فنهاهم النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال مؤمَّلٌ: فنهاهم النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يَبِيعوا جِيفَتَه".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک بڑا آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی لاش بیچنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3011]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 3012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ: اجْلِسْ، فَإِنَّ الْقِدْرَ قَدْ نَضِجَتْ، فَنَاوَلَتْهُ كَتِفًا، فَأَكَلَ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز والا وضو کیا تو کسی زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ تشریف رکھئے، ہنڈیا تیار ہو گئی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے شانے کا گوشت پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور ہاتھ پونچھ کر نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3012]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 207
حدیث نمبر: 3013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِيهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3013]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2589، م: 1622
حدیث نمبر: 3014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَامَ، فَصَلَّى، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، كَبَّرَ، وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ، كَبَّرَ، وَإِذَا مَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، كَبَّرَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟".
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے اسے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3014]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ السُّلَمِيُّ ، خُرَاسَانِيٌّ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا، أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے کہ ”جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے، یا اسے معاف کر دے تو اللہ اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرما دے گا، یاد رکھو! جنت کے اعمال ٹیلے کی طرح سخت ہیں، اور جہنم کے اعمال نرم کمان کی طرح آسان ہیں، خوش نصیب ہے وہ آدمی جو فتنوں سے محفوظ ہو، اور انسان غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے، مجھے اس سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لئے غصہ کا گھونٹ پی جاتا ہے، اللہ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3015]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، نوح بن جعونه لا يعرف الجرح ولا تعديل، ولم يرو عنه غير عبدالله بن يزيد المقرئ فهو مجهول
حدیث نمبر: 3016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" لِمَنْ كَانَتْ هَذِهِ الشَّاةُ؟" فَقَالُوا: لِمَيْمُونَةَ. قَالَ:" أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کس کی بکری ہے؟“ لوگوں نے بتایا: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3016]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَرْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَنَزَلْنَا وَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَمَا قَالَ لَنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گزر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3017]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، شعبة مولى ابن عباس، وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 3018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3018]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، زمعة ضعيف، لكنه توبع، خ: (2278)، م: 1202