مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3059
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ هَذَا الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3059]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 3060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ كُرَيْبًا أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَرَّنِي، فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ، خَنَسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِي:" مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ، فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ. فَقَامَ فَصَلَّى، مَا أَعَادَ وُضُوءًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے آخری حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور مجھے اپنے برابر کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پھر پیچھے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے بھئی! میں تمہیں اپنے برابر کرتا ہوں اور تم پیچھے ہٹ جاتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کسی آدمی کے لئے آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مناسب ہے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو بہت کچھ مقام و مرتبہ دے رکھا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور میرے لئے علم و فہم میں اضافے کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3060]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
حدیث نمبر: 3061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا، وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ، قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى، قَالَ: فَابْتَدَءُوا فَتَحَدَّثُوا، فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا، قَالَ: فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ، وَيَقُولُ: أُفْ وَتُفْ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ"، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنْ اسْتَشْرَفَ، قَالَ:" أَيْنَ عَلِيٌّ؟" قَالُوا: هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ. قَالَ:" وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ؟!"، قَالَ: فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ، قَالَ: فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ. قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ، فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ، فَأَخَذَهَا مِنْهُ، قَالَ:" لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ". قَالَ: وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ:" أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟"، قَالَ: وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ، فَأَبَوْا، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. قَالَ:" أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ"، قَالَ: فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟"، فَأَبَوْا، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. فَقَالَ:" أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ". قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ. قَالَ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33. قَالَ: وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، قَالَ: وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، وَعَلِيٌّ نَائِمٌ، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ، فَأَدْرِكْهُ. قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ، فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ، قَالَ: وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ، وَهُوَ يَتَضَوَّرُ، قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ، وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ، وَقَدْ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ. قَالَ: وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَكَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ:" لَا"، فَبَكَى عَلِيٌّ، فَقَالَ لَهُ:" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي". قَالَ: وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ:" أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي". وَقَالَ: سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا، وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ. قَالَ: وَقَالَ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ". قَالَ: وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ؟! قَالَ: وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ حِينَ قَالَ: ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ. قَالَ:" أَوَكُنْتَ فَاعِلًا؟! وَمَا يُدْرِيكَ، لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ".
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نو آدمیوں پر مشتمل لوگوں کا ایک وفد آیا تھا اور کہنے لگا کہ اے ابوالعباس! یا تو آپ ہمارے ساتھ چلیں یا یہ لوگ ہمارے لئے خلوت کر دیں، ہم آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ہی آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں، یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ ان لوگوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور بات چیت کرتے رہے لیکن ہمیں کچھ نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کہا؟ تھوڑی دیر بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: اف، تف، یہ لوگ ایک ایسے آدمی میں عیب نکال رہے ہیں جسے دس خوبیاں اور خصوصیات حاصل تھیں، یہ لوگ ایک ایسے آدمی کی عزت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اب میں ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جسے اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا“، جھانک کر دیکھنے والے اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے جھانکنے لگے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ لوگوں نے بتایا کہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آٹا کیوں نہیں پیستا؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہیں آشوب چشم کا عارضہ لاحق تھا، گویا انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور تین مرتبہ جھنڈا ہلا کر ان کے حوالے کر دیا اور وہ ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لانے کا سبب بن گئے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سورہ توبہ کا اعلان کرنے کے لئے مکہ مکرمہ روانہ فرمایا، بعد میں ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی روانہ کر دیا، انہوں نے اس خدمت کی ذمہ داری سنبھال لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پیغام ایسا تھا جسے کوئی ایسا شخص ہی پہنچا سکتا تھا جس کا مجھ سے قریبی رشتہ داری کا تعلق ہو، اور میرا اس سے تعلق ہو۔“ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں تم میں سے کون میرے ساتھ موالات کرتا ہے؟“ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، باقی سب نے انکار کر دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں آپ کے ساتھ دنیا و آخرت کی موالات قائم کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان میں سے ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوئے اور یہی صورت دوبارہ پیش آئی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد تمام لوگوں میں سب سے پہلے قبول اسلام کا اعزاز بچوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا لے کر سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما پر ڈالا اور فرمایا: ”اے اہل بیت! اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں خوب پاک کرنا چاہتا ہے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا آپ بیچ دیا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس شب ہجرت زیب تن کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ سو گئے، مشرکین اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منہ کھول کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیر میمون کی طرف گئے ہیں، آپ انہیں وہاں جا کر ملیں، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اسی طرح تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی تھی اور وہ تکلیف میں تھے، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا، صبح تک انہوں نے سر باہر نہیں نکالا، جب انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا تو قریش کے لوگ کہنے لگے: تم تو بڑے کمینے ہو، ہم تمہارے ساتھی پر تیر برسا رہے تھے اور ان کی جگہ تمہیں نقصان پہنچ رہا تھا، اور ہمیں یہ بات اوپری محسوس ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر غزوہ تبوک کے لئے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا؟ فرمایا: ”نہیں“، اس پر وہ رو پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو، اور میرے لئے جانا مناسب نہیں ہے الا یہ کہ تم میرے نائب بن جاؤ۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم میرے بعد ہر مومن کے بارے میں میرے دوست ہو۔“ نیز مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کردیئے گئے سوائے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے، چنانچہ وہ مسجد میں حالت جنابت میں بھی داخل ہو جاتے تھے کیونکہ ان کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہ تھا۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کا مولی ہے۔“ نیز اللہ نے ہمیں قرآن کریم میں بتایا ہے کہ وہ ان سے راضی ہو چکا ہے یعنی اصحاب الشجرہ سے (بیعت رضوان کرنے والوں سے)، اور ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ سب جانتا ہے، کیا بعد میں کبھی اللہ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ ان سے ناراض ہو گیا؟ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے متعلق عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجیئے، میں اس کی گردن اڑا دوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم واقعی ایسا کر سکتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”تم جو مرضی عمل کرتے رہو“ (میں نے تمہیں معاف کر دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اہل بدر میں سے تھے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3061]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو بلج، قال البخاري : فيه نظر، وأعدل الأقوال فيه: أنه يقبل حديثه فيما لا ينفرد به كما قال ابن حبان
حدیث نمبر: 3062
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3062]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ كَانَ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجْلِسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا:" أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ؟" فَقَالَتْ: امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ. قَالَ:" فَتَصَدَّقْنَ"، قَالَ: فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ، فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي. فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ. قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْخَوَاتِيمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی، آیت بیعت کی تلاوت کی اور فراغت کے بعد ان سے پوچھا: ”کیا تم اس کا اقرار کرتی ہو؟“ تو ان میں سے ایک عورت - جس کا نام راوی کو یاد نہیں رہا اور جس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا تھا - کہنے لگی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ نکالنے کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا بچھا لیا تھا اور کہتے جارہے تھے کہ صدقات نکالو، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3063]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 979، م: 884
حدیث نمبر: 3064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ، فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ" فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا، فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حاضر رہا ہوں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو وہ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3064]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1449، م :884
حدیث نمبر: 3065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ مَرَّةً، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لمعمرٍ: لَمْ يَكُنْ يُجَاوِزُ بِهِ طَاوُسًا؟ فَقَالَ: بَلَى، هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعَهُ يَذْكُرُهُ بَعْدُ، وَلَا يَذْكُرُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَهُنَّ لَهُنَّ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ، مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ بَيْتُهُ مِنْ دُونِ الْمِيقَاتِ، فَإِنَّهُ يُهِلُّ مِنْ بَيْتِهِ، حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ". قال أبو عبد الرحمن قال أبي: قَدْ أَحْرَمْتُ مِنْ يَلَمْلَمَ حِينَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موصولا اور منقطعا دونوں طرح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3065]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1524، م: 1181
حدیث نمبر: 3066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ، وَالنَّحْلَةِ، وَالْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے: ”چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3066]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ لِيَأْكُلَ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌّ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ". فَأَكَلَ خَالِدٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی دو عدد گوہ پیش کی گئیں، اس وقت وہاں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کھانے کے لئے ہاتھ بڑھانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کسی نے بتا دیا کہ یہ گوہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا: ”نہیں، لیکن چونکہ یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے میں اس سے بچنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔“ چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھا لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3067]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1945
حدیث نمبر: 3068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3068]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، لكن فى رواية سماك عن عكرمة اضطراب